ہندو راشٹرا کے قیام کے لئے دہشت گردوں کا گروہ تیار کررہے تھے ہندوانتہا پسند ؛ اے ٹی ایس کی چارج شیٹ میں انکشاف

share with us

نالاسوپارہ:06ڈسمبر2018(فکروخبر/ذرائع)ممبئی واقع  نالاسوپارا ہتھیار معاملہ میں انسداد دہشت گردی دستہ ( اے ٹی ایس) نے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ ہندو تنظیم سناتن سنستھا ممبئی، پنے سمیت کئی دیگر مقامات پر دہشت گردانہ حملے کرانا چاہتی تھی۔ اے ٹی ایس نے نالاسوپارا معاملہ میں چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں سناتن سنستھا کا نام لیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ اے ٹی ایس نے سناتن سنستھا کا نام سرکاری طور پر سامنے رکھا ہے۔

انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) نے چارج شیٹ دائر کرتے ہوئے کہا کہ ان ملزمین نے ’’ہندوراشٹر‘‘ قائم کرنے کے لیے دہشت گردٹولی تیار کی تھی۔

مہاراشٹر اے ٹی ایس نے 6 ہزار 843 صفحات پر مشتمل فرد جرم دائر کی ہے۔ اس میں ویبپو راؤت ڈشردکلسکر، سدھو انا گونھدلکرسری کانت پانگرکر سمیت 12 ملزمین کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ان پر ملک میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کے مکانات سے بھاری مقدارمیں اسلحہ اور گولہ بارودضبط کیا گیا تھا۔

اے ٹی ایس ذرائع کے مطابق ان کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے ساتھ دھماکہ خیز مادّہ قانون، مہاراشٹر پولس ایکٹ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ملزمان کا تعلق سناتن سنستھا، ہندو جن جاگرتی سمیتی جیسی تنظیموں سے ہے۔ جنہوں نے شاتر دھرم سادھن نامی کتاب کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ملک میں ہندو راشٹر قائم کرنے کے مقصدسے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے تنظیم تشکیل دی تھی، اے ٹی ایس نے فردجرم میں واضح طورپر یہ الزام عائد کیا ہے۔

ممبئی کے نالا سوپارا علاقہ میں اے ٹی ایس (اینٹی ٹریررسٹ سکواڑ) نے چھاپہ ماری کرتے ہوئے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآماد کیا تھا۔ جس گھر ٹھاکانہ پر چھاپہ ماری کی گئی ہے وہاں ’سناتن سنستھا‘ سے وابستہ ایک شخص ویبھو راؤت کا گھر اور دکان موجود ہیں۔ اے ٹی ایس نے چھاپہ ماری کے دوران تقریباً 8 دیسی بم برآمد کئے ہیں۔ حالانکہ سناتن سنستھا نے اس کی تردید کی تھی لیکن اے ٹی ایس نے ویبھو کو عدالت میں پیش کر دیا۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا