اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت فلسطینی قوم کاحق ہے ،مزاحمت نے فلسطینیوں کو رہائی دلائی : حماس رہنما

share with us

غزہ :05ڈسمبر2018(فکروخبر/ذرائع)اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے سیاسی شعبے کے سابق صدر خالد مشعل نے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت فلسطینی قوم کا انسانی،سیاسی، قانون اور دینی حق ہے۔ یہ وہ حق ہے جو کسی بھی مظلوم قوم کو قابض طاقت کے خلاف عالمی قوانین نے دے رکھا ہے۔ مظلوم فلسطینی قوم کو بھی اپنے حقوق کے حصول کے لیے مزاحمتی کی تمام اشکال کو استعمال کرنے کا حق ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں اسلامی یونیورسٹی کے زیراہتمام "مزاحمت اور سیاست" کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے ویڈیو کانفرنس سے خطاب میں خالد مشعل نے کہا کہ غزہ کے عوام کی پہچان اور آزادی کی جد وجہد ہے۔ طاقت کے توازن میں فرق کے باوجود مزاحمت صہیونی دشمن کے خلاف جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام نے دو اہم اقدامات کئے۔ حالیہ اقدامات میں "آتشی غبارے" اور "حق واپسی مارچ" نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ غزہ کے عوام کی یہ تحریک ظالمانہ صہیونی ناکہ بندی توڑنے کا ذریعہ بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس عوامی مزاحمتی تنظیم ہے اور اسلحہ ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

خالد مشعل نے کہا کہ اوطان اور سلب شدہ حقوق مزاحمت کے بغیر حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ ہم فلسطینیوں کو بھی تمام دسیاب ذرائع کو استعمال کرنا ہوگا۔ مزاحمت تزویراتی حکمت علی ہے اس کے بغیر فلسطین کی آزادی ممکن نہیں۔

خالد مشعل نے کہا کہ صہیونی دشمن کو مزاحمت کی ضربیں لگا کر فلسطین سے نکالا جاسکتا ہے۔ جنوبی، لبنان، غزہ جزیرہ نما سینا سے اسرائیل مزاحمت کے بعد نکلنے پر مجبور ہوا۔ القدس اور غرب اردن سے بھی اسرائیل کو مزاحمت کے ذریعے نکالا جائے۔

حماس رہ نما نے کہا کہ غرب اردن صہیونی غاصبوں کے خلاف مزاحمت کا بیس کیمپ رہا ہے مگر اب وہاں کے عوام کے ہاتھوں اور پائوں میں زنجیریں ڈال دی گئی ہیں۔ اب فلسطینی اتھارٹی ہمارے شہریوں کے خلاف اور صہیونی دشمن کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کر رہی ہے۔

خالد مشعل نے کہا کہ مزاحمت نے صہیونی زندانوں سے فلسطینیوں کو رہائی دلائی۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا