ملک کی موجودہ صورتحال سے نہ گھبرائیں مسلمان ، قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رہیں ،مولانا سجاد نعمانی

share with us

بنگلور:05ڈسمبر2018(فکروخبر/ذرائع) بنگلور میں عام انتخابات کے پیش نظر مسلمانوں میں سیاسی شعور اور بیداری پیدا کرنے اور فرقہ پرست طاقتوں سے ہوشیار کرنے کے مقصد سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

اس پروگرام میں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے"ملک کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داریاں" عنوان پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں موجودہ حالات سے مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسے حالات پہلی بار نہیں اس سے پہلے بھی اس طرح کے حالات پیش آئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قدرت نے مسلمانوں کو جو خداداد صلاحیتیں اورحکمت دی ہیں اگر اس کا استعمال اپنوں پر کرنے کی بجائے دوسری طرف موڑ دیں تو اگلے دس برسوں میں ملک کا نقشہ بدلا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قرآن مجید اتنی زندہ جاوید کتاب ہے کہ اس میں تمام مسائل کا تذکرہ ہے اورتمام مسائل کا حل بھی قرآن مجید میں ہے۔ہم نے قرآن سے رجوع کرنا چھوڑ دیا ۔ اس لئے دنیا میں ذلیل وخوار ہورہے ہیں ۔یاد رکھیں عزت ،ذلت سربلندی سب کچھ اﷲ کے ہاتھ میں ہے ۔ہم سب کو اپنے یقین اورایمان میں اضافے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔قرآن مجید اور حضوراکرمؐ کی سنتوں کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے ۔مولانا نے بتایا کہ عقل ودانشمندی کا واحد سرچشمہ قرآن مجید اور حامل قرآن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج حالات ایسے ہیں کہ ہم قرآن مجید کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ قرآن کو حالات حاضرہ سے جوڑ کر اس کی بنیاد پر رہنمائی حاصل کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ اور یہ سوچتے ہیں کہ اس میں ماضی کا تذکرہ ہے یا نزول قرآن کے واقعات کے تذکرے ہیں۔ جبکہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن مجید اتنی زندہ کتاب ہے کہ آج پوری دنیا کے لوگوں کے زندگی میں جو واقعات ہورہے ہیں اور مسائل جنم لے رہے ہیں یا ملک وعالم میں انفرادی، اجتماعی، روحانی، اخلاقی، معاشی وسیاسی مسائل ہیں ان کا تذکرہ اور حل تک قرآن مجید میں موجودہے۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں۔ ایسے میں علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن مجید پر زندہ کتاب کی حیثیت سے غور کریں اور اس کے مطابق رہنمائی کی کوشش کریں۔​​​​​​​

مولانا نے کہا کہ یہ بات سرار غلط ہے کہ مسلمان اقلیت میں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں تمام اقلیت، خاص کر مسلم، دیگر طبقات جیسے ایسسی ایس ٹی اور او بی سی کے لوگ تقریباً 85 فیصد ہیں، تو دیگر طبقات اقلیت ہوئے جبکہ ان کی بہ نسبت مسلمان اکثریت میں ہیں'

واضح رہے کہ عام انتخابات کے پیش نظر بنگلور کے روشن بیگ ایم۔ایل۔اے نے ایک عظیم الشان پروگرام کا انعقاد کیا جس میں خصوصی طور پر مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کا خطاب رکھا گیا تھا جس میں ریاست بھر کے عمائدین، علماء دین و دانشوران نے کثیر تعداد میں پروگرام میں شرکت کی۔ 
مولانا سجاد نعمانی نے اپنے خطاب میں ملک کے پیچیدہ صورتحال پر تبصرہ کیا اور تمام تر مظلوم طبقات کو متحد ہوکر فسطائی طاقتوں کو آنے والے عام انتخابات میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دعوت دی۔
ایودھیا و بابری مسجد تنازعہ کے متعلق انہوں نے کہا کہ :' ہمیں چاہئے کہ اس معاملہ میں ہم عدالت عظمی کے فیصلہ کا احترام کریں اور اسے مانیں'۔ 
انہوں نے کہا کہ :' فرقہ پرست طاقتیں دھرم سنسد جیسے پروگرام منعقد کر ملک میں افرا تفری کا ماحول بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے لیکن انکی کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں کیوں کہ عوام بیدار ہورہی ہے'۔

پروگرام کے کنوینر آر روشن بیگ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ :'جیسے عام انتخابات قریب آرہے ہیں فرقہ پرست طاقتیں مختلف قسم کے ڈرامے کر رہے ہیں اور لوگوں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انہیں اصل مسائل سے دور کریں'۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا