گئو کشوں کے خلاف کارروائی اور انسپکٹرسبودھ کمار پر خاموشی

share with us

اتر پردیش:05ڈسمبر2018(فکروخبر/ذرائع)بلند شہر فساد کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلی کا جو بیان آیا ہے اس سے ان کی ترجیحات کا صاف اندازہ ہو جاتا ہے اور جس حکمراں کو اپنی ترجیحات طے کرنی نہیں آتی ہوں اس سے عوام اور ریاست کی بھلائی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ بلندشہر میں پر تشدد بھیڑ کے ہاتھوں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے انہوں نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور انہوں نے جو بیان دیا ہے اس سے در پردہ قاتلوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ دراصل بلند شہر واقعہ کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک اعلی سطح کی میٹنگ طلب کی جس میں انہوں نے پولس افسران کو ہدایت دی کہ وہ گئو کشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ایک نیوز ویب سائٹ کے مطابق یہ اطلاع ا یک سینئر پولس افسر نے دی جو اس میٹنگ میں شامل تھے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری (انفارمیشن) اویناش اوستھی نے کہا کہ وزیر اعلی کو لگتا ہے کہ یہ واقعہ کسی بڑی سازش کا حصہ تھا لہذا گئو کشی سے تعلق رکھنے والےسبھی ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا ’’وزیر اعلی نے افسران کو جانچ کے احکام دیئے ہیں کہ گئو کشی میں شامل تمام ملزمین کے خلاف کارروائی کی جائے‘‘۔ کہا جا رہا ہے کہ نہ تو وزیر اعلی نے اور نہ ہی وہاں موجود پولس افسران نے انسپکٹر سبودھ کمارسنگھ کے قتل کا ذکر کیا۔ پولس نے اب تک 28 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جس میں 8 ملزمین کا تعلق بجرنگ دل، وی ایچ ی اور بی جے پی کے یوتھ ونگ سے ہے۔

پولس کی ابتدائی جانچ اور وہاں موجود لوگوں کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ انسپکٹر کا قتل منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھا اور قتل کا مقصد علاقہ میں فرقہ وارانہ تناؤ پھیلانا تھا۔ سمت نامی نوجوان جو اس فساد میں مارا گیا اس کے اہل خانہ کے لئے وزیر اعلی راحت فنڈ سے دس لاکھ روپے کی راحت دی گئی ہے۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا