بھٹکل : انجمن کی صد سالہ تقریبات کی مناسبت سے اسکولوں اور کالجوں کے مابین حمدیہ ، برجستہ تقاریر اور کوئزمسابقوں کا انعقاد 

share with us

انسان کو وہ علم سیکھنا چاہیے جو انسان کو انسان بنادے : مولانا مفتی اسلم صاحب 

اپنی دعوتی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے غیر مسلموں میں پائی جارہی غلط فہمیوں کے ازالہ کی اشد ضرورت : مولانا محمد اقبال ملا 

قرآن فہمی کے ساتھ اس کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کریں : مولانا شکیل احمد سکری ندوی 

بھٹکل 30؍ نومبر 2018(فکروخبر نیوز) انجمن حامئ مسلمین بھٹکل کی صد سالہ تقریبابت کی مناسبت سے اسکولوں اور کالجوں کے طلباء کے مابین حمدیہ ، برجستہ تقاریر اور کوئز مسابقوں کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف اسکولوں کے طلباء نے حصہ لیتے ہوئے اپنے اپنے اسکولوں اور کالجوں کی نمائندگی کی۔29نومبر کو منعقدہ یہ پروگرام صبح ساڑھے نوبجے اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے عثمان حسن ہال میں شروع ہوا اور تقریباً ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔ اسی طرح اسی پروگرام کی دوسری نشست بعد عصر مذکورہ ہال ہی میں منعقد کی گئی جس میں طلباء نے حمدیں ، تقاریر اور کوئز مسابقہ میں شرکت کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔ اس پروگرام کی آخری نشست انجمن گراؤنڈ میں رات ساڑھے آٹھ بجے منعقد کی گئی جس کا آغاز محمد حسین ابن مولانا عبدالعظیم ندوی کی تلاوت اور محمد حذیفہ ابن عبدالرزاق کی نعت سے ہوا ۔ اس موقع پر کئی مؤقر شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے اپنے مفید کلمات سے نوازا اور انجمن کی خدمات کی سراہنا کرتے ہوئے مزید بلند عزائم اور حوصلوں کے ساتھ مستقبل میں آگے بڑھنے کی نصیحت کی ۔
مہمانِ خصوصی بانی ومہتمم جامعہ غیث الہدیٰ بنگلور مولانا مفتی اسلم صاحب نے اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت وضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو وہ علم سیکھنا چاہیے جو انسان کو انسان بنادے ۔ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی علم کے ساتھ مبعوث ہوئے اور اپنی پوری زندگی میں اس کے ذریعہ سے اللہ کی معرفت حاصل کرنے کی طرف لوگوں کو دعوت دی ۔ مولانا نے مزید کہا کہ جن بنیادوں پر انجمن کے بانیوں نے اس کی بنیاد رکھی ہے اس کے بعد آنے والے لوگوں کا کام ہے کہ انہیں بنیادوں کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے ان کی خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کی کوشش کریں اور اس کو دنیاوی اور دینی تعلیمات کا حسین سنگم بنائے رکھیں۔ 
دوسرے مہمانِ خصوصی شعبہ دعوت جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری جناب مولانا محمد اقبال ملا صاحب نے غیر مسلموں میں دعوت کے نہج کو حاضرین کے سامنے رکھتے ہوئے اپنی دینی اور دعوتی ذمہ داریوں کو نبھانے کی ترغیب دی ، مولانا نے کہا کہ جس عظم ہستی کی امت میں ہمیں پیدا کیا گیا ان کے پیغامات کو اب لوگوں کے سامنے رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے لائے ہوئے دین کو لے کر بہت سی غلط فہمیاں ہمارے برادرانِ وطن میں پائی جارہی ہیں جس کو دور کرنے کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہے اور غیر مسلموں میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کرتے ہوئے ان کی تعلیمات سے غیر مسلموں کو واقف کرانا ہے اور ان میں پائی جارہی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔
ایک اور مہمانِ خصوصی مہتمم مدرسہ رحمانیہ منکی اور امام وخطیب جامع مسجد منکی مولانا شکیل صاحب ندوی نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گفتگو کرتے ہوئے سیرت کے کئی پہلو حاضرین کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پس مردہ اور افسردہ معاشرہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی محنت کی جنہوں نے آگے جاکر انسانیت کی قیادت کی اور رہنما کی حیثیت سے کام کرکے ہمارے لیے نمونہ بنیں۔ مولانا نے قرآن فہمی کے ساتھ ساتھ روزانہ اس کی تلاوت پر زور دیتے ہوئے اس کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی بھی تلقین کی ۔
اس موقع پر مسابقوں میں ممتاز طلباء نے چند جھلکیاں بھی پیش کیں جس پر حاضرین داد دئیے بنا نہیں رہ سکے۔ ننھے منے بچے بچیوں نے بھی اپنا خوبصورت پروگرام پیش کیا۔ سب سے زیادہ دلچسپ پروگرام کوئزکا رہا جس میں مختلف اسکولوں کے طلباء نے اپنے اپنے اسکولوں کی نمائندگی کی ۔ اسٹیج پر قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا محمد اقبال ملا ندوی ، قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی ، انجمن حامئ مسلمین کے صدر جناب عبدالرحیم جوکاکو، جنرل سکریٹری جناب اسماعیل صدیق ، کنونیر صد سالہ تقریبات مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی اور دیگر موجود تھے۔ نظامت کے فرائض مولانا عبدالحفیظ خان ندوی اور مولانا عمیر سدی باپا ندوی نے بحسنِ خوبی انجام دئیے ۔ دعائیہ کلمات پر یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔ 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا