نوٹ بندی کے دو سال مکمل : کانگریس نے مودی حکومت بنا یا تنقید کا نشانہ

share with us

کانگریس پارٹی نے ناکام نوٹ بندی کی دوسری سالگرہ کے موقعے پر وزیراعظم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عوام سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس رہنما ششی تھرور نے نوٹ بندی کو ناکام ٹہراتے ہوئے مودی حکومت کو ٹویٹ کے ذریعہ آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے

 تھرور نے ٹویٹرپر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ نوٹ بندی کے بعد نئے نوٹ چھاپنے کے لئے ۸۰۰۰ ہزار کروڑ کی عوامی رقم برباد ہوگئی اور ۱۵ لاکھ نوجوان بے روزگار ہوگئے جبکہ نوٹ بندی کے دوران ۱۰۰ سے زائد لوگوں کی جانیں چلی گئی 
کانگریس پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کے  فیصلے نے بھارتی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم دو برس قبل 8 نومبر کو ٹی وی چینل پر اچانک نمودار ہوئے اور اور قوم کو خطاب کرتے ہوئے16.99 لاکھ کروڑ روپے کو چلن سے باہر کر دیا'۔

کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ مودی نے نوٹ بندی کا مقصد جعلی کرنسی کو چلن سے باہر کرنا، دہشت گردی کو مالی معاونت سے روکنا اور کالا دھن جمع کرنے والوں پر کترنا بتایا تھا، لیکن دو برس گزرنے کے بعد بھی کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلی نے بھی نوٹ بندی کو سیاہ دن قرار دیا ہے 

خیال رہے کہ 8 نومبر سنہ 2016 کو وزیراعظم نریندر مودی ایک ٹیلی ویزن چینل پر خطاب کرتے ہوئے 500 اور 1000 کے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس طرح اچانک فیصلے سے ملک میں افراتفری پھیل گئی تھی، جبکہ ملکی عوام نوٹوں کے تبادلے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا، جی ڈی پی ریٹ 1.5 فیصد گھٹ گیا، لاکھوں نوکریاں چلی گئیں اور خاص کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

مرکزی حکومت نے 30 دسمبر 2016 تک منسوخ شدہ 500 اور100 کے نوٹوں کو بینکوں جمع کرنے کا موقع دیا تھا، اس دوران ملک بھر میں قطار میں کھڑے ہونے پر 15 افراد لقمۂ اجل بن گئے۔

بھارت کی مرکزی بینک 'آر بی آئی' نے 500 اور 100 روپے کے نوٹ کے بدلے میں جدید 500 اور 2000 روپے کا نوٹ کا لانچ کیا تھا۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا