پھر وہی مذہبی جذبات کا آزمودہ حربہ

share with us

گلزار صحرائی

 

کہنے کو توہمارا ملک ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے، جس کا نظام حکومت سیکولر ہے، یعنی حکومت کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ خود کسی مذہب کی نہ تو حمایت کرے گی اور نہ مخالفت، لیکن اسے تمام مذاہب کا احترام کرنا ہوگا۔ ملک کے آئین کی روسے ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہے، ساتھ ہی پرامن طریقے سے اس کی تبلیغ کی بھی اجازت ہے۔ مذہب کے معاملے میں کسی قسم کی زورزبردستی قانوناً درست نہیں۔ نہ تو کسی کو جبراً اپنے مذہب کاپیرو بنایا جا سکتاہےاور نہ کسی کو اس کے مذہب پر چلنے سے روکاجاسکتاہے اور اگر کوئی ایسا کرتاہے تو یہ قانوناً جرم کے دائرے میں آتاہے۔ لیکن عملاً صورتِ حال کچھ اور ہی ہے۔ کہنے کو تو جمہوری حکومت ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ ’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے‘ لیکن دراصل اہمیت اس فرقے کو دی جاتی ہےجو اکثریت میں ہو، یا کم از کم جسے اکثریت باور کرایا جا چکا ہو۔ ہر موقع پر اسی کے جذبات واحساسات کو فوقیت دی جاتی ہے، اس کےمقابلے میں ان لوگوں کو جو اقلیت میں ہوں، یا جنھیں اقلیت باور کرایا گیاہو، عموماً نظرانداز کیا جاتاہے، یا بہت کم اہمیت  دی جاتی ہے۔ اس معاملے میں تمام  سیاسی پارٹیوں کا حال کم وبیش ایک  جیساہے۔ مذہبی جذبات  کے معاملے میں یہ فرق بہت نمایاں طورسےدیکھا جا سکتاہے۔

دیکھا  جائےتو دھرم اور مذہب کی سیاست جتنی یہاں ہوتی ہے، شاید ہی کسی اور ملک میں ہوتی ہو۔ اس معاملے میں بھی ہمارا ملک عزیز شاید اپنامنفرد مقام رکھتاہے کہ مذاہب اور پنتھوں کی کثرت بھی یہاں غالباً سب سے زیادہ ہے۔ ساتھ ہی علاقہ پرستی اور زبان کا مسئلہ بھی یہاں سیاسی ایشو بنتارہتاہےلیکن سب سے  زیادہ حساس جو موضوع ہے وہ  ہے مذہب اور دھرم، خصوصاً اس کی سیاست کا۔ سیاست دانوں کے لیے یہ نسخہ تو جیسے تیر بہدف ثابت ہوتاہے۔ اگر چہ ان کی جانب سے عوام کولبھانے کے لیے وقتاً فوقتاً دوسرے حربے بھی  آزمائے جاتے ہیں، مثلاً ناخواندگی، بے روزگاری، غریبی، بدعنوانی وغیرہ کا خاتمہ   اوراس کے بدلے تعلیم، خوشحالی، روزگار اور صاف ستھرے ماحول کے وعدے اور دعوے کیے جاتے ہیں۔ مگر چوں کہ ان وعدوں میں اخلاص ہوتاہے اور نہ دعووں میں سچائی، اس لیے عموماً عوام کو مایوسی ہاتھ لگتی ہے، اور وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس بات کا احساس ان جھوٹے وعدے اور دعوے کرنے والوں کو بھی ہوتاہے کہ ایک نہ ایک  دن عوام ان کا مواخذہ کریں  گے، چنانچہ ایسے  ہی مواقع کے لیے وہ مذہبی جذبات کا حربہ استعمال کرتے  ہیں۔ اور چونکہ اس ملک کے عوام کی اکثریت کم علم اورسادہ لوح ہے، ساتھ ہی وہ مذہب کے تئیں بہت حساس بھی واقع ہوئی ہے، اس لیےوہ اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔

ان لوگوں کا تو ذکر ہی کیا، جو ملک کو ایک مخصوص دھرم اور کلچرمیں رنگنا چاہتے ہیں اور تمام  باشندگان ملک پر اپنی تہذیب وثقافت بالجبر نافذ کردیناچاہتے ہیں، ان سیاسی پارٹیوں کا حال  بھی زیادہ مختلف نہیں ہے  جو خود کو سیکولر اور مذہبی رواداری کا علمبردار کہتی  ہیں۔  خود کو جمہوریت کا پاسدار کہنےکے باوجود ان کا حال یہ ہے کہ کوئی بھی بات زبان سے نکالنے سے پہلے انھیں بھی اکثریت کے جذبات واحساسات کاخیال رکھنا پڑتاہے۔ اس وقت  جبکہ ایک بہت پرانا اور حساس مسئلہ اپنے کلائمکس پر ہے، یہ صورت حال کچھ زیادہ ہی سنگین ہو گئی ہے۔

ظاہر ہے کہ اس وقت جو پارٹی برسراقتدار ہے، وہ خود کوسیکولرزم کی علمبردار نہیں، بلکہ ایک مخصوص دھارمک نظریات کی حامل قراردیتی ہے، اور پورے ملک کو اسی دھرم اور کلچر کے رنگ میں رنگنے کی خواہش مند ہے۔ یہ  لوگ اپنی اس خواہش کااعلان کسی اشارے کنائے میں نہیں بلکہ بہ بانگِ دہل کرتےہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے خود کو اکثریت کا  نمائندہ ہونے کاایسا ہوا کھڑا کیا ہے، اور یہ حربہ کامیاب بھی رہا ہےکہ اب انھیں نہ کسی کی ملامت کی پروا ہے نہ قانون کا کوئی خوف۔  انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے مخالف نہ صرف یہ کہ انتہائی کمزور ہیں، بلکہ سیکولرزم کے تمام تر دعووں کےباوجودوہ خود بھی اکثریت پرستی میں مبتلا ہیں اور  اس کے  جذبات و احساسات کے خلاف ان کے اس خوف کا یہ حال ہے کہ وہ حق و انصاف کی بات تک زبان سے نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ مگر کیا واقعی ملک کی اکثریت وہی کچھ چاہتی ہے جو ان دنوں باور کرایا جا رہاہے؟

کیا واقعی ملک  کے زیادہ تر لوگ محض جذباتی ہیں  اور انھیں حق وانصاف، عدالت وقانونسے کوئی سروکار نہیں؟یہ بات کسی سروے سے تو آج تک ثابت نہیں ہوئی، بلکہ مذہبی جذبات کی سیاست کرنے والوں کا  ووٹ فیصد اس کی نفی کرتارہاہے۔ ہاں، پولرائزیشن کی کوششوں سے اس بات کا مغالطہ دینے میں وہ کامیاب ضرور ہوتے رہے ہیں۔ اب بھی یہی کوشش کی جارہی ہے۔

 

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے 
:08نومبر2018(ادارہ فکروخبر)

 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا