دیوالی سے قبل دلی کی فضا ہوئی بے حد خراب، ڈاکٹر بولے۔ 'سزائے موت' کے برابر ہے یہاں سانس لینا

share with us

نئی دہلی:07؍نومبر2018(فکروخبر/ذرائع)دیوالی سے قبل دلی کی ہوا ’بےحد‘ خراب سطح تک پہنچ گئی  ہے۔ ا سکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آس پاس کی ریاستوں میں پرالی جلائے جانے والے علاقوں سے مسلسل ہوا  اڑ کر دہلی میں آرہی ہے۔ دہلی کے 25 علاقوں میں فضا میں آلودگی کی مقدار ’کافی خراب‘ درج کی گئی ہے، تاہم آٹھ علاقوں میں یہ  محض’خراب‘ رہی۔

ڈاکٹروں نے آگاہ کیا ہے کہ اس دیوالی گزشہ سال کے مقابلہ ’کم آلودگی پھیلانے والے پٹاخے‘ جلائے جانے کے بعد بھی آلودگی کی سطح میں کافی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہیں دوسری جانب دہلی کے وزیر ماحولیات عمران حسین نے لوگوں سے بغیر پٹاخوں کے دیوالی منانے کی گزارش کرتے ہوئے آلودگی کم کرنے میں ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، بھارت میں ہر سال اسموگ اور آلودگی کے سے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہو جاتی ہے اور دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے مقابلے میں دہلی کی ہوا انتہائی زہریلی ہے۔ ہر سال نومبر میں یہاں اسپتالوں میں سانس لینے میں دقت کی شکایت لے کر کئی مریض پہنچتے ہیں۔ یہاں کے سر گنگارام اسپتال میں پھیپھڑے کی سرجری کرا چکے ایک مریض کے سروائیول پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر سرینواس کے گوپی ناتھ کہتے ہیں کہ دہلی کی ہوا میں سانس لینا اس کے سزائے موت کے برابر ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا