کیا بی جے پی کو ضمنی انتخابات راس نہیں آتے؟

share with us

 

نئی دہلی:07؍نومبر2018(فکروخبر/ذرائع):07؍نومبر2018(فکروخبر/ذرائع)سنہ 2014 سے لے کر اب تک جہاں کہیں بھی انتخابات منعقد ہوئے ان کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بی جے پی ضمنی انتخابات میں ناکام ہورہی ہے؟گذشتہ روز کرناٹک کے 3 لوک سبھا اور 2 اسمبلی کی نشستوں پر کانگریس اور جے ڈی ایس نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں وہ نشستیں بھی ہیں جن پر بی جے پی پہلے سے قابض تھی۔ 

کرناٹک میں ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد یہ ایک بحث کا موضوع بن گیا ہے کہ کہیں یہ 'بائی الیکشن' لوک سبھا انتخابات کا ٹریلر تو نہیں؟

سنہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے، اب تک ان ساڑھے چار برس کے عرصے میں 30 لوک سبھا نشستوں پر انتخابات منعقد ہوئے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر سیٹوں پر بی جے پی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 

سنہ 2014 میں، نریندر مودی کی قیادت میں 282 نشستوں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح بی جے پی سنہ 1984 کے بعد اپنے دم پر اکثریت حاصل کرنے والی پہلی جماعت بن گئی تھی۔ 

سنہ 2014 کے بعد سے 30 لوک سبھا نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے جس میں سے 16 نشستیں بی جے پی کے قبضے میں تھیں لیکن اب ان میں سے محض 6 نشستوں کو ہی بی جے پی بر قرار رکھ سکی ہے یعنی پارٹی نے 10 نشستیں کھو دی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا میں بی جے پی کی سیٹوں کی تعداد 282 سے کم ہو کر 272 ہو گئی ہے۔ ان نتائج سے اہم اپوزیشن جماعت کانگریس بے حد خوش ہے۔
مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ جیسی بڑی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں ۔ کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج کا اثر ان ریاستوں میں منعقد ہونے والے انتخابات پر ضرور پڑے گا۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا