سعودی صحافی کے قتل کے شواہد موجود ہیں‘ عوام سے شیئر نہیں کرسکتے ، ترک وزیر خارجہ

share with us

انقرہ:06؍نومبر2018(فکروخبر/ذرائع)ترک وزیرخارجہ میولوت چاوش اولو نے کہا ہے کہ سعودی صحافی کے قتل کے شواہد موجود ہیں لیکن عوام کے ساتھ ابھی شئیر نہیں کر سکتے۔ جاپان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صحافی کیس کی تحقیقات کی معلومات ضرور شئیر کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ترک صدر کو یقین ہے کہ سعودی شاہ سلمان نے قتل کے احکامات نہیں دیے، 15 لوگ بغیر حکم کے قتل کرنیاستنبول نہیں آسکتے، تحقیقات کے مکمل ہو جانے کے یقین کے بعد معلومات شیئر کریں گے۔ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خاشقجی کے قتل کا حکم کس نے دیا اس بارے میں سعودی عرب سے جواب حاصل نہیں کر سکے لیکن صحافی کے ساتھ کیا ہوا یہ پتا لگانا سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار اور سعودی نژاد امریکی رہائشی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ صحافی کی گمشدگی کے کچھ دن بعد ترکی کا موقف سامنے آیا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ خاشقجی کو مار دیا گیا تاہم سعودی عرب ترکی کے اس موقف کی متعدد بار تردید کرتا رہا۔خاشقجی کی گمشدگی کے بعد مغرب کی طرف سے سعودی عرب پر دبا بہت بڑھ گیا تھا کہ وہ اس گمشدگی کے بارے میں قابل اعتبار وضاحت دے۔ کئی معربی ممالک نے سعودی عرب میں ہونے والے سرمایہ کاری کانفرنس کا بھی صحافی کے قتل کے معاملہ پر بائیکاٹ کیا۔اس سے قبل ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترک حکومت قومی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جمال خاشقجی کیس کے حقائق سامنے لائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ترک تحقیقاتی ٹیموں نے معاملے سے متعلق جامع اور مکمل تحقیق کی ہے، مسئلہ ترکی اور سعودی عرب کے مابین نہیں ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا