فرانس عدالت نے بشار الاسد کے تین ساتھیوں کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے

share with us

میجر جنرل علی مملوک سمیت تین عہدیداروں کے خلا ف فرانس میں جنگی جرائم کے مقدمات درج تھے 


پیرس:06؍نومبر2018(فکروخبر/ذرائع)فرانس کی ایک عدالت نے بشارالاسد کے تین ساتھیوں جن کا تعلق انٹیلی جنس کے شعبے سے ہے کے ریڈ وارنٹ جاری کیے ہیں۔شامی صدر بشار الاسد کے انتہائی قریبی ساتھی میجر جنرل علی مملوک سمیت تین عہدیداروں کو اشتہاری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ میجنر جنرل علی مملوک شام کی حکمران جماعت البعث کے زیرانتظام نیشنل ڈیفینس دفتر کے انچارج ہیں اور انہیں بشارالاسد کی جانب سے کئی دوسری کلیدی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔عدالت کی طرف سے جن تین شامی عہدیداروں کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان پر فرانس کی عدالتوں میں جنگی جرائم کے کئی مقدمات قائم ہیں۔ ان پر شام میں انسانیت کے خلاف جرائم فرانس کی شہریت رکھنے والے دو شہرویں مازن دماغ اور ان کے بیٹے پیٹرک عبدالقادر کی جبری گم شدگی کا الزام بھی عاید کیا جاتا ہے۔اسد رجیم کے مقربین کے خلاف مقدمات کے قیام اور ان عدالتی کارروائی میں ان دستاویزات اور تصاویر نے اہم کردار ادا کیا ہے جو سنہ 2013 کو شامی فوج کے ایک فوٹو گرافر نے بیرون ملک فرار کے دوران فرانس منتقل کردی تھیں۔ ان میں جیلوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک کی ہزاروں تصاویر بھی شامل ہیں۔شامی فوج نے مازن دباغ اور اس کے بیٹے عبدالقادر کو نومبر 2013 کو فرانس سیواپسی کے دوران حراست میں لیا تھا۔ ان کی گرفتاری ایک پرامن مظاہرے میں شرکت کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ بعد ازاں دروان حراست دونوں باپ بیٹے کو اذتیں دے کر قتل کردیا گیا تھا۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا