غزہ میں موجودہ معاشی بحران مزیدسنگین ہونے کا اندیشہ ہے،یواین ،یورپی یونین

share with us


رملہ:06؍نومبر2018(فکروخبر/ذرائع)اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں موجودہ معاشی بحران مزید گھمبیر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگر فلسطینی اتھارٹی کو درپیش معاشی بحران حل نہ کیا تو اس کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کا سقوط ہوسکتا ہے ۔عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مشرق وسطی کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی نیکولائے ملاڈینوف اور یورپی یونین کے عہدیداروں نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی رقم فلسطینی اسیران اور شہدا کے لواحقین کو دیے جانے کے خدشے کے تحت بند نہ کرے اور اس کے لیے کنیسٹ میں کسی قسم کی قانون سازی نہ کی جائے ورنہ اس کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔اقوام متحدہ اور یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکسوں کی رقم روکنے کے لیے کنیسٹ میں قانون سازی صہیونی ریاست اور اس کے اداروں کو زوال کا شکار کرسکتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی پہلے ہی اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ اگر اس کے ٹیکسوں کی رقم روکی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہوسکتی ہے۔ا نہوں نے کہاہے کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت ایک ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا کررہی ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے بعض ڈونر ممالک امداد دینے سے ہاتھ کھینچ چکے ہیں۔عبرانی اخبار کیمطابق یورپی ذرائع نے کہا ہے کہ اگراسرائیلی کنیسٹ نے فلسطینی ٹیکسوں کی رقم روکنے کا قانون منظور کیا تو فلسطینی اتھارٹی کو امداد دینے والے بہت سے ممالک بھی امداد روک دیں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے دی جانے والی رقم انسانی امور پر صرف کی جانے لگے گی۔عبرانی اخبار کے مطابق اسرائیل کے سیاسی اور سیکیورٹی ادارے فلسطینی اتھارٹی کو مالی بحران سے دوچار کرنے کے کسی بھی قانون کے حوالے سے پہلے متردد ہیں۔ کنیسٹ نے چھ ماہ قبل اس قانون پر ابتدائی رائے شماری کی تھی جس میں فلسطینی اسیران اور شہدا کو ملنے والے وظائف روکنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں کی ادائی روکنے کی سفارش کی گئی تھی۔
 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا