دیکھیں مودی جی کب تک چپ رہتے ہیں؟

share with us

حفیظ نعمانی

نومبر کا پہلا ہفتہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رام مندر کی نذر ہوجائے گا۔ 02  نومبر کو آر ایس ایس کے بھیا جوشی نے ایک پریس کانفرنس میں یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم ایک بار پھر 1992 ء جیسی تحریک پھر شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گذشتہ 30  سال سے تحریک چلا رہے ہیں، لوگوں کی خواہش ہے کہ اجودھیا میںرام مندر بنے اس میں قانونی رُکاوٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ ہندو سماج کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دے گا۔

آر ایس ایس اب وہ نہیں ہے جو پانچ سال پہلے تھی۔ اس سے پہلے جو تحریک تھی وہ اس حکومت کے خلاف تھی جو رام مندر بنانے کے وعدہ پر نہیں بنی تھی۔ گذشتہ پانچ سال سے وہ حکومت ہے جو ہندو سماج سے یہ وعدہ کرکے بنی ہے کہ وہ اجودھیا میں اس جگہ رام مندر بنائے گی جہاں سیکڑوں برس سے بابری مسجد تھی۔ وہ حکومت جسے مودی سرکار کہا جاتا ہے وہ آج بھی اپنے وعدہ پر قائم ہے لیکن مسئلہ یہ پھنسا ہوا ہے کہ آر ایس ایس، بی جے پی، شیوسینا، وشو ہندو پریشد جیسی پارٹیاں یہ دعویٰ کررہی ہیں کہ جہاں بابری مسجد سیکڑوں برس سے تھی وہاں مسجد سے پہلے رام مندر تھا اسے میرباقی نے توڑکر اس زمین میں بابری مسجد بنائی تھی۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ کوئی مسلمان اگر وہ مسلمان ہے تو ایسی زمین پر جو دوسرے کی ہو یا متنازعہ ہو اس پر اس لئے مسجد نہیں بنائے گا کہ شریعت میں پابندی ہے کہ زمین اپنی ہو یا کسی نے وقف کی ہو یا کسی نے خریدی ہو اور اس پر کوئی تنازعہ نہ ہو تب وہاں مسجد بنے گی۔

 

یہ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ آر ایس ایس کے بھیاجی نے کہا کہ سپریم کورٹ ہندو سماج کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ دے گا۔ اس سے پہلے بی جے پی کے صدر امت شاہ نے یہ کہہ کر اپنا تعارف کرادیا کہ عدالت فیصلہ دیتے وقت یہ دیکھ لے کہ اس پر عمل ہوگا بھی۔ اور مسلمانوں کے ہر لیڈر اور ہر پارٹی نے کہہ دیا ہے کہ عدالت جو فیصلہ کردے گی وہ ہم مان لیں گے اور جب بھی کرے یہ اس کی اپنی مرضی پر ہے۔ آر ایس ایس نے 30  برس کی تحریک کا ذکر کیا ہے جبکہ عدالت میں آنے کے بعد تحریک کا کیا مطلب؟ اس کا تازہ نمونہ میرٹھ کے 48  اُبھرتے ہوئے مسلمان نوجوانوں کو 1997 ء میں پی اے سی کے جوانوں نے گرفتار کیا پھر انہیں ہنڈن ندی کے کنارے کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا۔ ان میں کے ایک زخمی کو اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کے سامنے پیش بھی کیا گیا اس نے آنکھوں دیکھا حال سنایا بھی۔ اور یہ بھی سب کو معلوم تھا کہ پی اے سی کی کس کمپنی کے سپاہی تھے لیکن مسلمانوں نے صبر کی سل 31  برس سینے پر رکھی نہ کوئی تحریک چلائی نہ خودسوزی کی دھمکی دی نہ یہ کہا کہ ہم سب کے گولی مار دیں گے بس صبر کرتے رہے اور 31  برس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے 16  پی اے سی والوں کو عمر قید کی سزا دی ہے۔

 

ملک کے تمام مسلمان 1992 ء سے صبر کئے بیٹھے ہیں کیونکہ اس وقت کے وزیراعظم نرسمہارائو نے دوسرے دن پوری مسلم دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ ہم مسجد وہیں بناکر دیں گے۔ اور فیصلہ عدالت پر چھوڑا تھا کہ وہ بتائے کہ جس زمین پر مسجد تھی کیا وہاں کوئی مندر تھا یا وہ خالی تھی اور میرباقی نے خریدی تھی یا کسی نے وقف کی تھی؟ آر ایس ایس سے لے کر ہر ہندو لیڈر اجودھیا میں رام مندر بنانے اور رُکاوٹ کی بات کرتا ہے یہ کہتے ہوئے کیوں ڈرتا ہے کہ وہاں بنانے کی عدالت اجازت دے جہاں سیکڑوں برس سے مسجد تھی۔ ہر مسلمان چپ ہے اور اسے یقین ہے کہ عدالت زمین کی ملکیت کا فیصلہ پنڈتوں پر کرے گی اور عدالت نہ ہندو ہے نہ مسلمان وہ عدالت ہے جو ہندو نیتا یہ کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ جلد سے جلد کردینا چاہئے تاکہ دیوالی کی خوشی دوگنی ہوجائے وہ اس اُمید پر کہہ رہے ہیں کہ جج ہندو ہیں اس لئے وہ ہندو سماج کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ اور مسلمان ججوں پر اعتبار کیسے نہ کریں انہوں نے ہی مالے گائوں کے دھماکہ میں آخرکار سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل سمیت سبکو ملزم بنا دیا۔ ان کے علاوہ جن سیکڑوں مسلمان نوجوانوں کو حکومت کی مرضی کے خلاف باعزت بری کیا وہ بھی جج ہندو تھے اگر وہ ہندو مسلمان کرتے تو ایک بھی رہا نہ ہوتا۔

 

ریاستی حکومت کے اختیار میں کچھ نہیں ہے اس لئے یوگی نے کہہ دیا کہ دیوالی کے بعد مندر کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔ دہلی میں تین ہزار سادھو سنتوں نے حکومت اور عدالت کو دھمکی دی ہے۔ حیرت ہے کہ یہ سادھو سنت ہیں یا ان کے چیلے ہیں جو جیلوں میں پڑے ہیں اور ان پر بڑے بڑے الزام ہیں؟ سادھو سنت ہوں صوفی اور بزرگ ہوں یا پادری ان کی سب سے بڑی طاقت ان کا اس پر بھروسہ ہے جس کے حکم کے بغیر پیڑ کا پتہ بھی نہیں ہل سکتا وہ اوپر والے سے دعا کرتے ہیں یا پرارتھنا کرتے ہیں کہ اگر ہم حق پر ہیں تو عدالت کو ہمارے حق میں فیصلہ کرنے کی توفیق دے اور اگر دوسرے حق پر ہیں تو ان کی چیز ان کو عطا کردے۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ خدائی فیصلہ ہوگا۔

بعض لوگوں نے ایک عجیب بات کہی کہ مندر اجودھیا میں بنے گا اور مسجد لکھنؤ میں۔ اگر میرباقی نے مندر کی زمین پر مسجد بنواکر مندر کہیں اور بنوایا ہوتا تو ہندو تنظیموں کے لئے بھی یہ ضروری تھا۔ تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ میرباقی نے مسجد اجودھیا میں بنائی اور مندر فیض آباد میں بنا دیا۔ یہ بعض نام کے مسلمانوں کی تجویز ہے جو نہ مسجد جاتے ہیں نہ انہیں نماز سے کوئی مطلب ہے وہ صرف سیاست کے وقت مسجد کی بات کرتے ہیں۔ اگر کسی نے سودا کرکے کہیں مسجد بنوا بھی دی تو اس میں کوئی مسلمان قدم بھی نہیں رکھے گا۔

 

یہ بات کوئی نہیں کہتا کہ ہمیں 2019 ء میں ووٹ مانگنا ہے جن کی حکومت بنانے کے لئے سارے ہندو ایک ہوگئے تھے وہ چائے بناکر بیچنے سے زیادہ نہیںجانتے انہوں نے ایسی حکومت کی ہے کہ پورا ملک ہائے ہائے کررہا ہے۔ لیکن آر ایس ایس یا سادھو سنت حکومت اپنے ہی ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے مسجد کی زمین پر رام مندر کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے جو حکومت دلاسکے۔ اب اگر نریندر مودی میں ہمت ہے تو وہ بل لے آئیں یا آرڈی نینس لے آئیں اور کہہ دیں کہ سپریم کورٹ کچھ نہیں ہے سی بی آئی بھی نہیں ہے آر بی آئی بھی نہیں ہے اور الیکشن کمیشن بھی نہیں ہے بس مودی وزیراعظم ہیں اور ان کے بنائے ہوئے صدر ہیں۔

 

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں ہے )
06؍نومبر2018(ادارہ فکروخبر)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا