مکفول کا پاسپورٹ رکھنا انسانی اسمگلنگ کا جرم ، کفیل کو ہو سکتی ہے ۱۵ برس قید

share with us

جدہ:05؍نومبر2018(فکروخبر/ذرائع)سعودی پبلک پراسیکیوشن نے خبردار کیا ہے کہ مکفول کا پاسپورٹ رکھنا انسانی اسمگلنگ کا جرم ہے۔ اس پر کفیل کو 15برس تک قید اور 10لاکھ ریال جرمانے یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا ہوگی۔ خواتین یا بچوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر سزا سخت کر دی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق جو آجر اجیر کو کام پر مجبور کرنے یا غلط طریقے سے اس سے ڈیوٹی لینے یا اسے لگام لگانے یا اسے دھمکانے کی غرض سے پاسپورٹ اپنے قبضے میں کریگا   وہ قابل سزا جرم کا مرتکب ہو گا ۔  یہ  جرم انسانی اسمگلنگ کا ہے۔ اس پر 15برس تک قید یا 10لاکھ ریال تک کے جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی ۔ پبلک پراسیکیوشن نے اپنے سرکاری اکائونٹ پر یہ انتباہ جاری کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ اجیر کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں کرنا انسانی اسمگلنگ کا جرم ہے اور اس کی سزا 15برس قید یا ایک ملین ریال جرمانہ یا دونوں ایک ساتھ ہوں گی ۔ پبلک پراسیکیوشن نے توجہ دلائی کہ اگر یہ جرم کسی عورت یا بچے یا معذور کے حوالے سے کیا جائیگا تو ایسی صورت میں سزا سخت کر  دی جائیگی۔انسانی اسمگلنگ کے جرائم میں متعدد  سرگرمیاں  شامل ہیں۔استحصال کی خاطر کسی شخص کو سفر کی سہولت فراہم کرنا، پناہ دینا، اپنے ہاں ٹھہرانا یا اس سے اس کی مرضی کے برخلاف کام لینا  قابل ذکر ہے۔ پبلک پراسیکیوشن نے خبردار کیا کہ انسانی اسمگلنگ کا کوئی بھی جرم سنگین نتائج کا حامل ہو گا۔اس میں کسی بھی شخص کو مجبور کرنا یا دھمکانا یا دھوکا دینا یا اغوا کرنا یا عہدے یا اثرونفوذ کا غلط استعمال یا کسی کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا یا اقتدار کے بل پر کسی سے کچھ کام لینا انسانی اسمگلنگ کے جرائم ہیں۔ وزارت محنت و سماجی بہبود نئے قانون محنت اور اس کے لائحہ عمل کے تحت تمام خلاف ورزیوں اور سزاؤں کی نشاندہی کر چکی ہے۔ قانون محنت کی دفعہ 38کی خلاف ورزی اسی طرح دفعہ 15کی خلاف ورزی پر 10ہزار ریال کا جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ دفعہ 38کی خلاف ورزی یہ ہے کہ سعودی آجر غیر ملکی اجیر سے ورک پرمٹ میں مذکور پیشے کے سوا کسی اور پیشے کا کام لے جبکہ دفعہ 15کی خلاف ورزی یہ ہے کہ آجر مکتب العمل میں اپنے ادارے کی فائل نہ کھلوائے یا ادارے کے کوائف اپ ڈیٹ کرنے کا اہتمام نہ کرے۔ سزاؤں میں یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر آجر نے اجیر کی مرضی کے بغیر اس کا پاسپورٹ یا اقامہ یا میڈیکل انشورنس کارڈ اپنے پاس رکھا تو ایسی صورت میںاس پر  2ہزار ریال جرمانہ ہو گا جبکہ ادارے کا انتظامی لائحہ عمل نہ ہونے پر  اتنا ہی جرمانہ کیا جائے گا جبکہ لائحہ عمل کی پابندی نہ کرنے پر جرمانہ 10ہزار ہو گا۔ اگر کوئی نجی ادارہ ملازمین کی تعطیلات کی پابندی نہیں کرے گا تو اس پر 10ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ پیشہ ورانہ صحت اور ادارہ سلامتی کے ضوابط پورے نہ کرنے پر 15ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا۔کوئی ایک خلاف ورزی ایک سے زیادہ بار ریکارڈ پر آنے پر مذکورہ سزائیں دگنی کر دی جائیں گی۔ 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا