اردو کی ترقی میں ہمارا  کردار !

share with us

احساس نایاب

 

 

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں 

 

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال جن کے اشعار قیامت تک آنے والی نسلوں کے طالب علم کے لئے مشعل راہ بن کر قدم قدم پر ان کی رہنمائی کرتے رہیں گے اور زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ کراتے رہیں گے کیونکہ ملک و ملت کی ترقی میں طالب علم کا کردار بےحد اہم ہے، لیکن آج وہی طالب علم اپنی مادری زبان سے وفا نہیں کررہے جسکی وجہ سے اردو سے جڑی تمام تاریخی وراثت اور تہذیب و ثقافت کا نام و نشان مٹایا جارہا ہے اور اسکی وجہ مسلمانوں ہی کی لاپرواہی اور مفادپرستی ہے، جب ہم خود اپنی زبان اپنی وراثت کی قدر نہیں کریں گے تو دوسروں سے قدردانی کی امید رکھنا بیوقوفی ہے....... 

ہم آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ  اردو زبان ہماری مادری زبان ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی ممتاز ترین زبانوں میں سے ایک خاص مقام رکھنے والی زبان ہے، یہی وجہ ہے کہ اردو زبان کو دنیا کی تیسری بڑی زبان کا درجہ ملا ہے اور اس میں تقریباً تین لاکھ الفاظ ہیں، اور یہ اردو زبان اتنی پیاری اور میٹھی ہے کہ مختلف مذاہب،مختلف طبقہ اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسے استعمال کرتے ہیں، باوجود اسکے آج یہ تعصب کی زد میں آکر اپنا وجود اپنی شناخت کھوتی جارہی ہے، اور ہندوستان میں کل تک جس اردو زبان کو چھٹا مقام حاصل تھا آج وہ گر کر ساتویں مقام پہ پہنچ گئی ہے، ان حالات میں اگر دوبارہ اردو زبان کے فروغ و ترقی، اسکا کھویا ہوا وقار اور اسکی ساکھ برقرار رکھنی ہے تو ہم طلبہ کو کمربستہ ہوکر زمینی سطح پہ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،  اپنی تعلیم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے متحدالخیال ہوکر اسکو ہر میدان میں نکھارنے اس کی بقا کے لئے جی توڑ کوشش کرنی ہوگی، جس کے لئے اردو تعلیم کو محض رسمی تعلیم سمجھ کر رٹنے کے بجائے اس کے ہر لفظ کی گہرائی اس میں بسی مٹھاس، اپناپن، ادب و احترام کو سمجھ کر محسوس کرنا ہوگا، جب تک ہم طلبہ اردو سے دلی محبت نہیں کرینگے اس کی ترقی ناممکن ہے، آج اردو ہماری مادری زبان ہونے کے باوجود ہم اس سے سوتیلا رویہ اختیار کررہے ہیں، دیگر زبانوں کے مقابلے اسکو اتنی فوقیت نہیں دے رہے ہیں جسکی وہ اصل حقدار ہے، افسوس صد افسوس! 

 

جبکہ مادری زبان کے متعلق پنڈت جواہر لال نہرو کا قول ہمارے ذہن میں گردش کررہا ہے، 

" اگر کسی بھی قوم کو ختم کرنا ہو تو سب سے پہلے اسکی مادری زبان کو اس سے چھین لو، پھر وہ قوم خود بہ خود ختم ہوجائی گی،، 

 آج اردو کو مٹانےکی اور ہماری زندگی سے چھیننے کی سازش کی جارہی ہے، کہیں اردو مدرسوں پہ تالا لگاکر تو کہیں اردو پہ دیگر زبانوں کو اہمیت دیکر، اس سے اردو زبان رفتہ رفتہ فنا ہوتی جائے گی جو ملک و ملت کے لئے عظیم خسارہ ہوگا 

اور اس خسارہ کی وجہ کہیں نہ کہیں  اسکے وارث یعنی کہ ہم ہونگے، اپنی بیش قیمتی میراث کو فراموش کرکے ہم غیر زبانوں کو فروغ دے رہے ہیں، تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ مان کر اُس کے اصل مقاصد کو بھلاچکے ہیں، جب تک اردو اساتذہ کا تجربہ اور طلبہ کا جوش یکجا ہوکر اردو کی آن بان شان اسکی پہچان کی خاطر اسکو عملی تعلیم کی شکل نہیں دیں گے،  تب تک اردو کا بول بالا نہیں ہوگا، اسلئے آج اور ابھی سے ہم سبھی کو ایک ساتھ یہ عہد کرنا ہوگا کہ آج سے ہم اپنی سوچ، اپنے خیالات اور اپنے کردار میں اقبال کی فکر، پاکیزگی اور دوراندیشی، غالب کا درد، میرتقی میر کی محبت اور حالی کی مٹھاس پیدا کریں گے،اپنی ماں کی زبان کو ماں جتنی محبت کریں گے، خود میں زیادہ سے زیادہ مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا کریں گے، ڈیجیٹل پی ڈی ایف کا بائیکاٹ کرکے کتابوں کو خرید کر پڑھنے کا مزاج بنائیں گے، ایک دوسرے کو کتابوں کا تحفہ دینے کی روایت قائم کریں گے، کیونکہ اہل علم و طلبہ کا فرض بنتا ہے کہ ہم جتنا ہوسکے کتابیں خرید کر پڑھیں، ورنہ ہمارے کتب خانوں کا خاتمہ ہوجائے گا، ہماری اردو لائبریریاں بند ہوجائیں گی، جو اردو ادب کی دنیا کے لئے زوال کی علامت ہے، ویسے بھی بدقسمتی سے موجودہ نسلیں اردو ادب سے دور ہوتی جارہی ہیں، جسکی وجہ مطالعہ کی کمی ہے اور یہ اردودانوں کے لئے بیحد شرم کی بات ہے، 

اس لئے مطالعہ کو لے کر علامہ اقبال نے بہت پیاری بات کہی ہے !

 

لکھنا نہیں آتا ہے تو میری جان پڑھا کر 

ہوجائے گی تیری مشکل آسان پڑھا کر

پڑھنے کے لئے اگر تجھے کچھ نہ ملے تو

چہروں پہ لکھے درد کے عنوان پڑھا کر

لاریب تیری روح کو تسکین ملے گی 

تو قرب کے لمحات میں قرآن پڑھا کر

آجائے گا تجھے اقبال جینے کا قرینہ

تو "سرورِ کونین" کے فرمان پڑھا کر !

 

اردو کو پھر سے زندہ کرنا ہے تو ہمیں اردو اداروں و تنظیموں کو پستی سے اٹھاکر فلک کی اونچائی پہ پہنچانا ہوگا،جس کے لئے مہینے میں ایک یا دو مرتبہ علمی مقابلے اور ادبی اجلاس منعقد کرنے ہونگے، اردو سے جڑے نئے لکھاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، اپنے گھروں میں اردو ادب کا ماحول بنانا ہوگا، ہر گھر میں اپنی ایک لائبریری تشکیل کرنی ہوگی بھلے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، اپنے اندازِ گفتگو میں پہلے والی چاشنی گھولنی ہوگی، جسکے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے تلفظ کا خیال رکھیں ہر لفظ کو صحیح طریقے و بہترین انداز سے ادا کرنے کی کوشش کریں، غلط تلفظ کی وجہ سے اردو الفاظ کے روح کو نکال کر اس کی ہئیت بگاڑنے سے گریز کرنا ہوگا، اپنے مخصوص دائرے کے علاوہ عام حلقوں میں بھی غیرزبانوں کو ترک کرکے اردو کو اہمیت دینی ہوگی اور یہ سب کچھ اُسی وقت ممکن ہوگا جب ہم اردو کتابوں کے ساتھ اردو اخبارات، رسالے اور اردو ادب سے جڑی شخصیات کی رہنمائی حاصل کریں گے، ان کے طرز عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے اور کم از کم ایک اردو اخبار کو اپنے گھر کی رونق بنائیں گے، تاکہ مستقبل میں ہم بھی یہ فخر سے کہہ سکیں:

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں 

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

اخیر میں ایک بات اور کہنا چاہوں گی کہ اردو زبان کی حفاظت ہم پر اس لئے بھی فرض ہے کہ اسلامی علوم کا بڑا ذخیرہ اسی زبان میں ہے اور بالخصوص برصغیر ہندوپاک میں سب سے زیادہ دینی کام اردو زبان میں ہی ہوئے ہیں اور اس کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور انشاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا، اردو محض ایک زبان نہیں ہے بلکہ یہ ہماری تہذیب و ثقافت کی شناخت ہے.

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا