خاشقجی کا کیس 72 گھنٹے میں حل کیا جاسکتا ہے، مدد کو تیار ہیں،سابق دبئی پولیس چیف

share with us


سکیورٹی حکام نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج کی مدد کے بغیر بھی جمال خاشقجی کی آخری جگہ کا سراغ لگا سکتے ہیں،گفتگو


دبئی:11؍اکتوبر2018(فکروخبر/ذرائع)دبئی کے سابق پولیس سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان نے لاپتا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے واقعے کی تفصیل بے نقاب کرنے میں ناکامی پر ترک سکیورٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ کیس صرف 72 گھنٹے میں حل کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے عرب ٹی وی سے بات چیت میں کہاکہ آج کی کرائم سائنس سے نام نہاد نامعلوم کارروائی بالکل غیر متعلق ہو کر رہ گئی ہے۔پولیس فورسز جرم میں کارفرما عناصر کی نشان دہی اور تعیّن کے لیے جدید صلاحیتوں کی حامل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی حکام نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج کی مدد کے بغیر بھی جمال خاشقجی کی آخری جگہ کا سراغ لگا سکتے ہیں اور اس کا تعیّن کرسکتے ہیں۔تحقیق وتفتیش کی منطق یہ ہے کہ اس سے کسی نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے ، یہ نہیں کہ اس سے ابہام جنم لے اور صورت حال مزید پیچیدہ ہوجائے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ استنبول میں ایک ہفتہ قبل لاپتا ہونے والے جمال خاشقجی کا معاملہ 72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کیا جاسکتا ہے ۔البتہ جب تک لاپتا شخص کی نعش نہیں مل جاتی،اس وقت تک تو اس کی موت کے بارے میں بات بھی نہیں کی جاسکتی ہے اور یہ گم شدگی کا ایک کیس ہی رہے گا۔لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان نے جمال خاشقجی کے اغوا میں کارفرما شخص کا سراغ لگانے کے لیے ترک حکام کو مدد کی بھی پیش کش کی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں دبئی میں ایک ہوٹل میں فلسطینی تنظیم حماس کے رہ نما محمود المبحوح کے 2010ء میں قتل کا حوالہ دیا ہے۔ دبئی پولیس نے 72 گھنٹے میں ان کے قاتلوں کا سراغ لگا لیا تھا اورا سرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’ موساد‘‘ کے ایجنٹوں کو قتل کے اس واقعے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔
 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا