رافیل سودے میں دھماکہ خیز خلاصہ، ریلائنس کو پارٹنر بنانا سودے کی لازمی شرط تھی

share with us

بھارت فرانس کے درمیان رفائل جنگی طیارے سودے کے معاملے میں فرینچ میگزین نے ایک اہم انکشاف کیا ہے۔رفائل سودے میں یکے بعد دیگرے انکشافات ہوتے ہی جارہے ہیں، اب 'فرینچ انویسٹی گیٹیو جنرل میڈیا پارٹ' نے ایک نیا انکشاف کیا ہے۔مذکورہ میگزین نے لکھا ہے کہ دسالٹ ایوی ایشن کے دستاویز میں ریلائنس ڈیفینس کا نام کمپنی کے لیے 'مینڈیٹری' یعنی ضروری بتایا گیا ہے۔

میگزین نے مزید کہا کہ کمپنی کے اندرونی دستاویزات میں ریلائنس ڈیفینس کو بطور آف سیٹ پارٹنر کے طور پر 'لازمی' طور پر شامل کیے جانے کا ذکر تھا، جو اطلاع ابھی تک منظرعام پر نہیں آئی تھی۔فرینچ میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دستاویز اس کے پاس آج بھی موجود ہیں جس میں آف سیٹ پارٹنر کے لیے 'کاؤنٹر پارٹے' نام کے ایک خاص لفظ کا استعمال کیا گیا ہے، جو فرینچ زبان کا لفظ ہے۔
فرانس کے اس وقت کے صدر فراسوا اولاند نے کہا تھا کہ ان کے پاس ریلائیس کمپنی کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں تھا، بھارت کی جانب سے انل امبانی کی کمپنی ریلائنس کو تھوپ دیا گیا تھا۔
انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا تھا کہ یہ دسالٹ ہی بتاسکتی ہے کہ اس پر انل امبانی کی کمپنی کا دباؤ تھا یا نہیں؟مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے اسی بات کو بنیاد بناکر مودی حکومت کا دفاع کیا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اولاند کے بیان سے پہلے کانگریس  کے صدر راہل گاندھی نے کہا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر رفائل کے متعلق انکشافات ہوں گے۔
 وہیں بھارت کی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن بدھ کی رات فرانس کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوگئی ہیں۔ ان کا یہ دورہ فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن سے 36 رفائل طیاروں کی خرید پر اٹھے تنازع کے تناظر میں ہے۔
سیتا رمن بدھ کی رات پیرس روانہ ہوگئیں اور وہاں اپنے ہم منصب پارلی سے دفاعی امور پر بات چیت کریں گی۔

   ذرائع کے مطابق دفاعی تعاون کو بڑھانے کے طور طریقوں پر بات چیت کے علاوہ سیتا رمن 58 ہزار کروڑ روپے کے سودے کے تحت بھارتی فضائیہ کو ڈسالٹ کے ذریعے 36 رفائل جیٹ طیاروں کی  فراہمی کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیں گی۔

   وزیر اعظم مودی نے پیرس میں 10 اپریل 2015 کے اس وقت کے فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کے ساتھ باہمی بات چیت کے بعد 36 رفائل جیٹ طیاروں کی خریداری کا اعلان کیا تھا۔ 23 ستمبر 2016 کو آخری طور پر یہ سودا پکا ہوا تھا۔
 

 کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیاں اس سودے میں بدعنوانی کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت 1670 کروڑ روپیے  فی طیارے کے حساب سے اس کی خریداری کر رہی ہے۔ جبکہ یوپی اے حکومت کے دوران اس کی قیمت 526 کروڑ روپیے طے کی گئی تھی، جبکہ اس وقت 126 جنگی طیارے لینے کے دستاویز پر دستخط کیے گئے تھے۔ 
 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا