دلت مسلم اتحاد : سراب یا حقیقت؟

share with us



ظہیر الدین صدیقی اورنگ آباد

 

آزادی کے بعد تقریباً چار دہائیوں تک حواس باختہ مسلمانوں کو اس بات کا خیال ہی نہیں آیا کہ اس ملک میں ہماری سیاسی حیثیت کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے؟ملک کے بٹوارے کے بعد تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر خونریز فسادات ،نا انصافی اورمسلسل خوف و ہراس کے ماحول نے ملت کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ایسا سلب کر لیا کہ اپنی بقاء ، جان و مال ، عزت و آبرو کا تحفظ ہی اُس کی اولین ترجیح بن گئی۔ مایوسی کی شکار،ذہنی طور پر مفلوج اور مغلوب قوم نے سیکولرازم کو اپنے لئے آخری جائے پناہ تصور کرلیا۔ مسلمانوں نے سیکولرازم کا لبادہ کچھ ایسا اوڑھا کہ اس کے باہر کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا کہ نا م نہادسیکولرازم کب فسطائیت میں تبدیل ہو گیا اور سیکولرازم محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا۔کافی تاخیر کے بعد جب یہ احساس جاگا تب بھی مسلمان اپنے آپ کو بے بس اور لاچار ہی محسوس کرتا رہا، اور سیکولر طاقتوں کے ساتھ بنے رہنے میں ہی عافیت سمجھتا رہا۔ آج بھی مسلمانوں کی اکثریت اسی بھرم میں زندہ ہے کہ مسلمانوں کی بقاء اور تحفظ سیکولرازم کی پاسداری میں ہی ہے۔ نصف صدی کے بعد کچھ ہوش مجتمع ہوئے تو مسلمانوں کو یہ خیال آیا کہ ہم سیاسی طور پر صرف استعمال ہو رہے ہیں بلکہ سیکولرازم کے نام پر ہمارا استحصال ہو رہا ہے۔چنانچہ انہوں نے نام نہاد سیکولرازم کے متبادل پر غور وفکر کرنا شروع کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان قوم ہی نا انصافی کا شکار نہیں ہے بلکہ اور بھی دیگر قومیں ہیں جو اسی کرب میں مبتلاء ہیں۔ خصوصاً دلت اور پسماندہ طبقات جو فسادات اور نا انصافی کا شکار تو نہیں ہیں لیکن سماجی عدم مساوات سے پریشان ہیں۔ مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ اگر مسلمان اور دلت پسماندہ طبقات یکجاء ہو جائیں تو اس ملک کے جمہوری نظام حکومت میں ایک نئے سماجی انقلاب کی نیو رکھی جاسکتی ہے۔ اسی خیال کے تحت بار بار یہ کوشش کیجاتی رہی کہ مسلمان اور دلت کسی بینر تلے متحد ہو جائیں ۔ ماضی میں اس طرح کی ایک کوشش دلت مسلم مہا سنگھ کے نام سے ریاست مہاراشٹرا میں کی گئی تھی، جس کے سربراہ مشہور زمانہ حاجی مستان اور دلت لیڈر جوگیندر کواڑے تھے۔ لیکن عین انتخابات سے قبل بغیر کسی منصوبہ بندی اور تنظیمی ڈھانچہ کے وجود میں آنے والا یہ مہا سنگھ (اتحاد) بری طرح ناکام ثابت ہوا، اور تاریخ کا ایک حصہ بن گیا۔ملک کی دیگر ریاستوں اور کبھی علاقائی یا مقامی سطح پربھی دلت مسلم اتحاد کی کوششیں ہو تی رہیں لیکن کوئی خاطر خوا ہ نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد کانگریس سے ناراض اتر پردیش کے مسلمانوں نے دو مرتبہ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایا وتی پر اعتماد کرتے ہوئے دلت مسلم اتحاد کا مظاہرہ کیا اوربہن مایاوتی کو اقتدار تک پہنچایا لیکن اس کے نتائج بھی حسب توقع حاصل نہیں ہوئے۔ مایاوتی نے مسلمانوں کے سہارے اقتدار تو حاصل کرلیا لیکن مسلمانوں کو اقتدار میں شامل کرنا گوارا نہیں کیا۔اور نہ عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کوئی خیال رکھا۔ چنانچہ ۲۰۰۹ء میں مسلمان واپس سماجوادی پارٹی کی طرف لوٹ گئے، اور مایاوتی کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔دوسرے یہ کہ جب بھی دلتوں سے اتحاد کی بات ہوئی انہوں نے کبھی اس بات کو قبول نہیں کیا کہ وہ کسی مسلم یا سیکولر پرچم کے تحت متحد ہوں گے بلکہ ہمیشہ اپنی شناخت قائم رکھتے ہوئے اتحاد کی بات کی۔تانکہ ان کی پارٹی کو مسلمانوں کے ووٹ تو مل جائے لیکن ان کے ووٹرس کو کسی دوسری پارٹی کو ووٹ دینا نہ پڑے۔یعنی دلتوں کو مسلمانوں کا ساتھ تو چاہیے لیکن وہ بھی مسلمانوں کو ووٹ دیں گے اس کا یقین نہیں۔ مقامی سطح پر بھی بار بار یہ تجربہ کیا گیا کہ دلتوں نے اتحاد کے نام پر مسلمانوں کے ووٹ تو حاصل کر لیئے لیکن جب کسی مسلمان کو ووٹ دینے کی بات آئی تو وہاں د لت بھی ’ہندو‘ ہوگیا۔ یہ وہ صحرا ہے جس میں پیاسے مسلمانوں کو دلت مسلم اتحا دکا موجیں مارتا ہوا سمندر نظر آتا رہا لیکن قریب جانے کے بعد پتہ چلا کہ اس کی حیثیت ایک سراب سے زیادہ نہیں ہے۔ اس پس منظر میں اگر ہم بھارپ بہوجن مہا سنگھ کے قائد پرکاش امبیڈکر اور مجلس اتحاد المسلمین کے قائد بیرسٹر اسد الدین اویسی کے اشتراک سے وجود میں آنے والے دلت مسلم اتحاد کو دیکھتے ہیں تو بادی النظر میں یہ اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت لگتا ہے لیکن اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کا کیا فائدہہوگا اس بارے میں قطعی کوئی رائے نہیں دی جاسکتی،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ یقیناً یہ اتحاد ملک کی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوگا کیونکہ ان کا روائتی ووٹ بنک کنگال ہو سکتا ہے ۔ اس بات پر بھی تبصرے کئے جارہے ہیں کہ فرقہ پرستوں کو اس اتحاد کا بالراست فائدہ ہوگا، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جب بھی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے خلاف کوئی کھڑا ہوتا ہے تو یہی کہا جاتا رہا ہیکہ یہ فرقہ پرستوں کی ’بی‘ ٹیم ہے ، اس سے ووٹ منتشر ہوں گے اور اس کا فائدہ فرقہ پرستوں کو ہوگا۔اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہیکہ اس ملک میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا وجود ہی ختم ہو جائے۔اگر کسی پارٹی کو انتشار کا اتنا ڈر ہے تو اس کا بہترین راستہ تو یہ ہے کہ وہ بھی اس اتحاد کا حصہ بن جائیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہیکہ صرف پرکاش امبیڈکر ہی دلتوں کے واحد لیڈر نہیں ہیں، ان کے علاوہ بھی جوگیندر کواڑے، راجیندر گوائی، آنندراج امبیڈکر، رام داس آٹھولے و دیگر قائدین ہیں جو دلت سماج میں اپنا اثررکھتے ہیں۔ ایسے میں کوئی ضروری نہیں کہ پورے دلت پرکاش امبیڈکر کی قیادت میں دلت مسلم اتحاد کا ساتھ دیں۔ یہ صحیح ہے کہ پرکاش امبیڈکر کے علاوہ اور بھی دلت لیڈر ہیں لیکن بھیما کورے گاؤں کے واقعہ کے بعد جس طرح پرکاش امبیڈکر نے دلتوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا ویسا کوئی اور لیڈر نہیں کرسکا یہی وجہہ ہے کہ آج پرکاش امبیڈکر کا قد ان تمام لیڈروں میں نمایا نظر آرہا ہے جس کا سیاسی فائدہ بھی یقیناً پرکاش امبیڈکر کو ہی ہوگا۔ ناقدین کو یہ بھی اعتراض ہے کہ مجلس اتحادالمسلمین ایک فرقہ پرست جماعت ہے۔اس پر پرکاش امبیڈکر نے بہت خوب جواب دیا کہ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ مجلس ایک فرقہ پرست پارٹیہے تو پھر آپ الیکشن کمیشن سے اس بات کی شکایت کیوں نہیں کرتے کہ مجلس کا رجسٹریشن ہی ردہو جائے۔ اویسی دس برسوں تک یو پی اے حکومت کے ساتھ رہے اس وقت وہ فرقہ پرست نہیں تھے اب ان کا ساتھ چھوڑ دیا تو فرقہ پرست ہوگئے؟اور جب وہ دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی بات کر رہے ہیں اور دیگر اقوام کے افراد کو اپنی پارٹی سے منتخب بھی کر وارہے ہیں تو پھر ان پر کس منہ سے فرقہ پرستی کا الزام لگا یا جا سکتا ہے؟ اس اتحاد کے تعلق سے ایک اور بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ اتحاد صرف دو پارٹیوں یا دو اقوام کا نہیں بلکہ اس میں دلتوں کے علاوہ ۱۲ فیصد آبادی رکھنے والا دھنگر سماج ، قبائلی سماج، بھٹکیا جماعتی، اور دیگر محروم طبقات کی ایک تحریک ہے جسے امبیڈکری سماج کاتائید و حمائت حاصل ہے اس تحریک کی شروعات پنڈھرپور سے ہوئی جس میں دلت اور او بی سی سماج کے اشتراک سے پہلے ہی ایک ونچت بہوجن اگھاڑی کا قیام عمل میں آچکا تھاجس کا ایک عظیم الشان اجلاس گذشتہ دنوں شولاپور میں منعقد کیا گیا ، اس اگھاڑی میں اسد الدین اویسی کی شمولیت بعد میں ہوئی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ اتحاد سابقہ دلت مسلم اتحاد سے بالکل الگ نظر آتا ہے۔ جس کے نتائج بھی کچھ الگ ہی ظاہر ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ۲۰۱۴ء میں جب یو پی اے حکومت کی ناکارکردگی اور گھپلوں گھوٹالوں کو بی جے پی نے طشت از بام کیا اور نریندر مودی نے ترقی ،خوشحالی اور کرپشن سے پاک ہندوستان کے سنہرے سپنے دکھاتے ہوئے ملک کا چوکیدار منتخب کر نے کی اپیل کی تھی تو اس وقت ملک کا غریب، پسماندہ، دلت اور بہوجن سماج بھی اچھے دن کی آس میں بی جے پی کا حامی ہو گیا تھا لیکن گذشتہ ساڑھے چار سالوں میں ہندوستان کی عوام پریہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے وہ جان گئے کہ یہ ایک ’جملہ باز‘ سرکار ہے ،ترقی و خوشحالی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جہاں تک دلتوں اور پسماندہ طبقات کا سوال ہے ان کے لئے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی حیثیت کسی بھگوان سے کم نہیں کیوں کہ ان کی وجہہ سے ہی ہزاروں برسوں سے چھو اچھوت کا شکار ہریجنوں کوسماج میں بحیثیت انسان زندگی گزارنے کا موقع ملا، اور ڈاکٹر امبیڈکر کا تدوین کردہ دستور ہند دلت سماج کیلئے کسی مقدس کتاب کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہی وہ دستور ہے جس کی بنا پر انہیں اس ملک میں برابری کا درجہ حاصل ہوا ۔ موجودہ بی جے پی حکومت جنہیں اعلیٰ ذات کے ہندوؤ کے علاوہ جن دلت پسماندہ بہوجن سماج نے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کے لئے ووٹ دیا تھا وہ تمام طبقات مایوسی، نا امیدی اور فریب دہی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس پرطُرّہ یہ کہ موجودہ سرکار اسی دستور کو بدلنے کی بات کر رہی ہے جس پر دلتوں کو بجا طور پر فخرہے۔ یہ سرکار ملک میں اس دستور کی جگہ وہ منوسمرتی نافذ کرنا چاہتی ہے جس کے تحت دلتوں اور پسماندہ طبقات کو پھر ذلّت کی اُسی کھائی میں ڈکھیلنے کی تیاری ہے جس سے وہ بڑی مشکل سے باہر آئے تھے۔ یہی وہ اہم وجہہ ہے جس کی وجہہ سے آج ہندوستان کا دلت کم سے کم بی جے پی کے ساتھ تو نہیں جا سکتا۔ رہ گیا نام نہاد سیکولر جماعتوں کا سوال تو وہ بھی اپنا اعتماد کھو چکی ہیں۔ایسے حالات میں آئین ہند کے تحفظ اورظلم، زیادتی، ناانصافی کو روکنے کیلئے مختلف طبقات کایہ اتحاد بین المظلومین ایک فطری عمل ہے۔اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس اتحاد کا خاطر خواہ نتائج کیسے حاصل کئے جائیں؟ صرف اتحاد کا اعلان کر دینے سے یا دو چار مشترکہ اجلاس کے انعقاد سے مخالفین میں خوف کا ماحول تو پیدا ہو سکتا ہے لیکن قائدین اور مظلوم طبقات کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔اس کے لئے متحد جماعتوں کو پوری منصوبہ بندی سے ، حکمت اور دانائی کے ساتھ لائحہ عمل طئے کرنا ہوگا۔ بھیما کورے گاؤں کے واقعہ کے بعد دلتوں میں پرکاش امبیڈکر کی جو شبیہ ابھر کر سامنے ائی ہے اسے مزید مستحکم کرنا ہوگا، دلتوں کے تمام طبقات کو اعتماد میں لینا ہوگا، آر ایس ایس نے جس طرح گھر گھر جاکر ہندوتوؤ ذہنیت کو بڑھاوا دیا اسی طرح دلت لیڈروں کو گھر گھر جاکر انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ آج بھارت کا سنویدھان خطرے میں ہے۔ اگر ہم نے اس وقت اس کی حفاظت نہیں کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ مسلمان دلتوں اور پسماندہ طبقات کا دشمن نہیں بلکہ وہ اور ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ انہیں یہ بھی سمجھا نا ہو گا کہ جمہوری نظام حکومت میں کسی بھی قوم کے متحدہ ووٹ اس کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں منتشر قوم کا تو وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔اور اگر اس ملک کا بہوجن سماج اور مسلمان ایک جگہ آجائیں تو اس ملک کی قسمت کا فیصلہ بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہوگا کیونکہ وہ اکثریت میں ہوں گے اور اعلیٰ ذات کے ۳ فیصد اقل ترین اقلیت میں ہوں گے جو اس ملک میں منو سمرتی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔مندرجہ بالا پس منظر میں مجلس کو بھی کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ صرف اتحاد بین المظلومین کا نعرہ لگانے سے مجلس کو کامیابی مل جائے گی بلکہ انہیں اس سراب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے دلتوں کو اعتماد میں لینے کیلئے اپنے طور پر کوشش کرنی ہوگی، مقامی دلت پسماندہ قائدین سے روابط بڑھا کر انہیں یقین دلانا ہوگا کہ ہم آپ کے ہمدرد ہیں۔اس کے ساتھ اتحاد بین المسلمین کے لئے پہلے سے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ اپنی تنظیم کو اور منظم کرنا ہوگا، ناراض اور کسی وجہہ سے اب تک مجلس سے دور رہنے والے مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔ اگر آپ اس بھرم میں رہیں گے کہ دلت مسلم اتحاد ہوگیا اب ہمیں کسی کی ضرورت نہیں یا عوام خود چل کر ہمارے پاس آئیں گے جس کو آنا ہے آئیں جس کو جانا ہے جائیں ،تو یاد رکھیے حیدر آباد میں تو آپ کے قدم جمے ہوئے ہیں لیکن حیدرآباد کے باہر آپ ابھی صحیح طریقہ سے کھڑے بھی نہیں ہو پائے ہیں۔

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے )

06اکتوبر2018(ادارہ فکروخبر)

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا