اب جے کسان کا زمانہ گیا

share with us

حفیظ نعمانی


ان دنوں کو کون بھول سکتا ہے جب مہاراشٹر سے خبر آئی تھی کہ کپاس کے ایک اور کسان نے خودکشی کرلی اور بی جے پی ایسے آسمان سر پر اٹھاتی تھی جیسے سونیا گاندھی نے بی جے پی کے ایک لیڈر کو مار دیا ہو۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم جیسے تمام حساس لوگ کانگریس کو ذمہ دار مانتے تھے۔ 2014 ء میں جب کانگریس کی حکومت ختم ہوگئی تو ایسی کسی خبر کو سننے کے لئے کان تیار نہیں تھے جیسی خبروں پر کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا۔ لیکن بی جے پی کی حکومت کے آتے ہی کسانوں کی خودکشی کی تعداد ہر دن بڑھنے لگی اور بات صرف مہاراشٹر نہیں پنجاب، گجرات، اترپردیش، ہریانہ، کرناٹک اور جگہ جگہ سے کسانوں کی خودکشی کی خبریں آنے لگیں اور بی جے پی کے لیڈروں کو سانپ سونگھ گیا اور کسی کے منھ سے نہیں نکلا کہ اب قصور کس کا ہے؟
یہ بات پہلے بھی سامنے آئی تھی اور اب بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کہ جو کسان مقامی ساہوکاروں سے قرض لیتے ہیں اور ادا نہیں کرپاتے وہ ان کا جینا حرام کردیتے ہیں۔ ان واقعات کے بعد جب شور ہوا کہ کاشتکار آخر بینک سے قرض کیوں نہیں لیتے؟ تو جو تفصیل سامنے آئی اس کے بعد ان بینکوں کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ ان میں آگ لگادی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسان کے پاس 10 بیگھہ زمین ہے جس کی قیمت ایک لاکھ روپئے سے بھی زیادہ ہے اسی کے کاغذات بینک کو دے کر اگر دس ہزار روپئے لے لئے تو اسے اگر مزید ضرورت ہوئی تو بینک کہتا ہے کہ دوسری زمین کے کاغذ لاؤ۔ اور یہ زمین اگر مہاجن کے پاس رہن رکھ دی جائے تو وہ تین چار بار دس دس ہزار دے دے گا۔ بس سود بڑھالے گا یہ غریب کسانوں سے معلوم ہوا کہ ملک کے بینک للت مودی، وجے مالیہ اور نیرو مودی کے لئے ہیں ان غریبوں کے لئے نہیں جو عاجز آکر خودکشی کرتے ہیں۔ ان حرام زادوں کی جائیدادیں اب حکومت لے رہی ہے اور کسان سے پہلے زمین کے کاغذات رکھوا لئے جاتے ہیں اور اس میں ذراسی بھی خامی ہوتی ہے تو منھ پر پھینک دیتے ہیں کہ دوسری زمین کے کاغذ لاؤ۔
آزادی کے بعد برسوں ہندوستان دوسرے ملکوں کے گیہوں اور چاول اپنے ملک کے لوگوں کو کھلاتا رہا۔ یہ اندرا گاندھی کے زمانہ میں ہوا کہ اپنے ملک میں اتنا گیہوں پیدا ہوا کہ باہر سے منگوانا بند کیا اور ملک میں سبز انقلاب کا جشن منایا گیا۔ اس سے پہلے جو لال بہادر شاستری نے جب کہا تھا جے جوان جے کسان تو کسانوں کو للکارا تھا کہ اور محنت کرو۔ اور جب کسان نے اپنی محنت سے ملک کو اس قابل کردیا کہ وہ اپنی زمین کی پیداوار دنیا کے دوسرے ملکوں کو بھیج کر ڈالر کما رہا ہے تو اس کی ایسی ناقدری کہ وہ خودکشی کررہا ہے۔
اترپردیش میں وزیراعظم مودی کو کسانوں کے ووٹ لینا تھے تو انہوں نے ہر تقریر میں کہا کہ اپنی حکومت بنتے ہی سب سے پہلے کسانوں کا قرض معاف کیا جائے گا۔ اور جب حکومت بن گئی تو اعلان کردیا کہ ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کیا جاتا ہے۔ یہ ایک لاکھ کی شرط ووٹ لیتے وقت کیوں نہیں بتائی؟ اور اب کسان دہلی آکر اپنی پریشانیوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غازی آباد میں روک دیا جاتا ہے اور آگے بڑھنے پر گھیر گھیرکر مارا جاتا ہے۔ وہ کوئی ڈاکو لٹیرے یا غنڈے نہیں تھے یہ وہی تھے جن کو ہر لیڈر اپنی تقریر میں جے کسان کے اعزاز سے نوازتا ہے مگر جب وہ دہلی آنا چاہتے ہیں تو پانی کی بوچھار آنسو گیس اور لاٹھیوں سے مارا جاتا ہے۔
کئی گھنٹہ کی بدمزگی کے بعد فریقین میں اس طرح ملاقات ہوئی کہ وزیرداخلہ اور نائب وزیر زراعت کسان لیڈروں سے ملے اور ان کے 9 میں سے 7 مطالبوں کو تسلیم کیا۔ یہ اہم اس لئے نہیں ہے کہ کسی بھی تحریک کے دباؤ کے نتیجہ میں حکومت مطالبے تسلیم کرتی ہے اور پھر ان میں کیڑے نکالتی ہے کہ اس کا مطلب وہ نہیں تھا جو تم سمجھے۔ اس وقت کسانوں کا اہم مسئلہ یہ تھا کہ ان کی فصلوں کی اتنی قیمت بھی بازار میں نہیں مل رہی جتنی لاگت آتی ہے۔ کسان چاہتے ہیں کہ بازار میں قیمت کم ملے تو حکومت سہارا قیمت پر ایسے خریدے جیسے گیہوں اور دھان خریدتی ہے۔ کسان خریداروں کے ان مرکزوں سے واقف ہیں جن پر گیہوں اور دھان خریدے جاتے ہیں ہم نے کئی برس پہلے کئی جگہ کے مرکز دیکھے تھے ٹریکٹر ٹرالی اور بیل گاڑی آکر کھڑی ہوئی ہے تو اگر بازار میں قیمت کم ہے تو رشوت دے کر بھی سرکاری مرکز پر اتار دیں گے اور اگر بازار میں زیادہ قیمت مل رہی ہے تو مرکز کا رُخ بھی نہیں کریں گے یا اپنے گودام میں اور مہنگا ہونے تک انتظار کریں گے۔
کسانوں کا مطالبہ تھا کہ جو بجلی ہم آبپاشی میں استعمال کریں اس کو مفت کیا جائے جو کسان 60 برس کا ہوجائے اسے پینشن دی جائے۔ ظاہر ہے کہ اسے کوئی بھی حکومت تسلیم نہیں کرے گی۔ جس علاقہ سے یہ کسان آئے تھے وہ گنے کا علاقہ ہے جس کی فصل اچھی بارش کی وجہ سے اس سال بھرپور ہوئی ہے۔ کسان کو بار بار کے وعدوں کے باوجود شوگرمل والے ابھی اس گنے کی قیمت ہی ادا نہیں کرسکے ہیں جو گذشتہ سال دیا تھا۔ اور اب کسان اپنے کھڑے گنے کی طرف ایسے دیکھ رہا ہے جیسے غریب باپ اپنی ان لڑکیوں کو دیکھتا ہے جن کا ہر کپڑا جوانی کے دباؤ سے تنگ ہوتا جارہا ہو۔
شہر کے لوگوں کو کیا معلوم کہ کسان کے ساتھ شوگرمل والوں کا رویہ کیسا ہے؟ وہ گنے کے بڑے ہونے سے پہلے ہی کسانوں کو پرچی دے دیتے ہیں کہ ان کا پورا گنا سرکار کے مقرر کئے ہوئے نرخ پر وہ خریدیں گے۔ فصل اچھی نہ ہو تو کسان کے حلق میں ہاتھ ڈال کر اپنا نقصان پورا کرلیں گے اور اس سال فصل بہت زیادہ تو مل والوں کو پسینہ آرہا ہے۔ سنا ہے کہ ان کے دلال گاؤں گاؤں گھوم رہے ہیں اور گنا کسانوں سے کہہ رہے ہیں کہ پرچی اور سپلائی کے چکر میں پڑوگے تو دو برس میں بھی نمبر آنا مشکل ہے اگر نقد پیسے لو تو 250 روپئے کوئنٹل کے حساب سے جاکر تول دو اور پیسے ہم سے لے لو۔ وزیراعلیٰ یوگی باغپت میں آکر کہہ چکے ہیں کہ شوگر کا مرض بڑھ رہا ہے اور گنا کم پیدا کرو۔
اصل بات یہ ہے کہ دوسرے ملکوں سے اناج اس وقت منگوایا جاتا تھا جب ایک سال میں ایک یا دو فصلیں زمین سے لی جاتی تھیں اب نئی کھاد، نیا بیج اور کیڑے سے بچاؤ کی دوائیں آگئیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک سال میں تین فصلیں اور پیداوار تین گنا۔ ہمارے بچپن میں گنا چار فٹ سے زیادہ لمبا نہیں ہوتا تھا اب سات فٹ کا بھی ہوتا ہے اور ایک گنے میں اتنا رس نکلتا ہے جتنا پہلے پانچ گنوں میں نکلتا تھا لیکن حکومت سے زیادہ سرمایہ دار فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کاشتکاری چھوٹے کسانوں کے قابو کی نہیں رہی اب ان کے کرنے کی ہے جن کے پاس ہر کام کی مشین ہو۔ رہا خودکشی کا مسئلہ تو یہ درمیانی اور چھوٹے کسان کررہے ہیں جو قرض لے کر ادا نہیں کرپاتے۔ اور حکومت بھی بڑے کسانوں کی مدد کرتی ہے اس لئے انہیں جان دینے کی کیا ضرورت ہے؟
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

06؍اکتوبر2018(فکروخبر/ذرائع)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا