دفعہ 377 اور 497 کا خاتمہ دراصل ہندوستانی تہذیب کا خاتمہ ہے 

share with us

احساس نایاب


مودی دور میں جس قدر تیزی سے ایک کے بعد ایک گھر توڑو قوانین عمل میں لائے جارہے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ ہندوستان میں بہت جلد خاندانی نظام کا پوری طرح سے خاتمہ ہوجائیگا، میاں بیوی کے رشتے کی کوئی اہمیت نہیں رہ جائے گی ، انسان جو سکون اپنی ازدواجی زندگی سے حاصل کررہا تھا اب وہ جانوروں کی طرح شاہراہوں میں ڈھونڈنے لگے گا،جبکہ جائز رشتوں میں جو سکون اور خوشیاں میسر ہیں وہ ناجائز رشتوں میں کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ صدیوں سے جو ہندوستان کی شیبہ تھی یہاں کی تہذیب و تمدن ،سنسکرتی رسم و رواج،گنگا جمنی ثقافت اور خاندانی نظام وہ سب کچھ درہم برہم ہوجائیگا اور رشتوں میں بسا پیار ، محبت ، اپناپن، عزت واحترام ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور اعتبار بھی ختم ہوجائیگا اور ایک عورت کو جو ماں ، بہن ، بیٹی اور دوسرے پاکیزہ رشتوں کی نظر سے دیکھا کرتے تھے آجکے بعد اْن رشتوں پہ بھی جنسی ہوس حاوی ہونے لگے گی، جس سے انسان کی پہچان صرف مرد و عورت تک محدود ہوجائیگی اور اسکے آگے باقی تمام رشتے ناطے دم توڑ دینگے اور جب خاندانی نظام ہی نہیں رہیگا ، ناجائز رشتوں سے ناجائز اولادیں جنم لینے لگینگی تو حکومت کو مجبورا جگہ جگہ اولڈ ایج ہوم اور اناتھ آشرموں کو قائم کرنا پڑیگا اور سماج پہ اسکا اتنا بدترین اثر پڑیگا کہ لڑکیوں اور عورتوں کا تنہا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوجائیگا اور آگے چل کر وہی خطرہ عورتوں کے ساتھ مردوں اور لڑکوں پہ بھی منڈلانے لگے گا اور مرد ، عورت ، بوڑھے بچے کوئی بھی محفوظ نہیں رہینگے ، جیسے چند دن قبل عدالت عظمی کے دفعہ 377 کو کالعدم قرار دے کر ہم جنس پرستی کو جائز ٹھہرانے والے فیصلہ سنانے کہ بعد ایک نوجوان آٹو ڈرائیور کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا،ہوا یوں کہ رات میں تنہا پاکر دو مردوں نے اسکے ساتھ جبرا جنسی زیادتی کر مار پیٹ کرنے لگے اور ایسے حادثات آگے چل کر اور زیادہ خوفناک شکل اختیار کرینگے اور اسکی وجہ زنا جیسے حرام فعل کو قانونی جواز فراہم کرناہے. 
آخر اسطرح کے فیصلے سنانے سے پہلے اس سے ہونے والے خطرناک نتائج کے بارے میں کیوں نہیں سوچا گیا ؟؟؟؟ 
آخر آزادی کے نام پر جانور اور انسان کو ایک صف میں کیوں لاکر کھڑا کردیا گیا ہے ؟؟؟؟
جیسے جانوروں میں رشتوں کی پہچان اور اہمیت نہیں ہوتی ، اْسی طرح انسانوں کے اندر بھی رشتوں کو لیکر احساس اور جذبات ختم ہونے لگینگے اور کل تک ہندوستان میں جس تہذیب و تمدن کی بڑی بڑی باتیں کیا کرتے تھے اب وہ دنیا کے سامنے ڈھکوسلے بازی ، جملے بازی کہلائیگی ، کیونکہ آج ہمارا ملک مغربی رنگ میں پوری طرح سے رنگتا چلا جارہا ہے ، نتیجتہ اسکی حقیقی پہچان جسے ہندوستان کی روح کہا جاتا ہے وہ دفن ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدالت عظمی نے زنا سے جڑی ہر قسم کی فحاشی کو جائز قرار دیکر، جرم کے زمرے سے ہٹا کر، ناجائز رشتوں کو قائم کرنے کے لئے ہم جنس پرست مردوں و عورتوں کو کھلی چھوٹ دیکر انکی راہیں ہموار کررہی ہے وہ بیحد بیحد شرمناک ہے اور اسطرح کے فیصلوں سے ہمارا سماج طوائف کا کوٹھا بن کے رہ جائیگا جہاں پہ بدکاری اور گناہ کے کام عام ہوتے ہیں اور اسطرح کے حالات کسی بھی باشعور اور مہذب سوچ رکھنے والے انسان کے لئے لمحہ فکریہ ہیں ،اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ قیامت کے قریب زنا عام ہوجائیگا لیکن ہم اسکو ہونی مان کر خاموش تماشبین بنکر تو نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ ہر انسان کا فرض ہے کہ ایسے فیصلوں و قوانین کی پرزور مذمت کریں تاکہ ہمارا معاشرہ ہمارا سماج تباہ و برباد ہونے سے بچ جائے ورنہ یہ وائرس کی طرح ہمارے آس پاس یہاں تک کے ہمارے گھروں کو بھی کھوکھلا کرنے سے نہیں چوکے گا اور اْس وقت پچھتاوے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسوس تو 125 کڑور عوام کی خاموشی پہ ہوتا ہے اور انْ لوگوں پہ جو ان فیصلوں کے خوفناک انجام سے بے خبر ہوکر اسکا خوش دلی سے استقبال کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش جو سمجھدار ہیں وہ پہلے فیصلے پہ ہی مخالفت کرتے جب لیوان ریلیشن شپ کو جائز قرار دیا گیا تھا اور کسی بھی مرد و عورت لڑکا یا لڑکی کو بنا شادی کے ایک ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی تھی ، کاش کہ ہم لوگ اْسی وقت ہوش کے ناخن لیتے تو آج دفعہ 377 اور 497 کو ختم کرکے ہم جنس پرستی اور سماج میں سیکس جیسے زنا کو اتنی آسانی سے کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی اور برابری کے حقوق کے نام پہ یہ جو ننگا ناچ کھیلا جارہا ہے اْسے دیکھنے کے گناہ سے تو بچ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
یہاں پہ ایک اور بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ چند لوگوں کا ماننا ہے کہ اسطرح کی باتیں کرنا اور اسکی جانکاری رکھنا بھی غلط ہے خاص کر خواتین کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ہمارا اْن سبھی بھائیوں اور بہنوں سے بس اتنا کہنا ہے کہ انکی یہ سوچ بلی والی کہاوت کی طرح ہے۔ جیسے بلی خود آنکھ بند کرکے دودھ پیتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ اسکو کوئی نہیں دیکھ رہا ، بالکل اْسی طرح ہمارا یہ سوچنا یا کہنا کہ ہمارے بچے ہماری خواتین ان زہر آلود ہواؤں سے ناواقف ہیں یہ ایک دکھاوے اور دل بہلاوے سے زیادہ کچھ نہیں یا یہ سمجھیں کہ یہ ہماری سب سے بڑی بیوقوفی ہے کیونکہ بھلے ہمارے گھروں کا ماحول جتنا بھی پاکیزہ ہو لیکن ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں جس سماج کا حصہ ہیں وہاں پہ یہ سب کچھ عام ہوچکا ہے اور آج ہمارے گھروں میں، ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل، کمپیوٹر، ٹیلی ویڑن ریموٹس کھلونا بنکر رہ گئے ہیں جس کے ذریعہ گھر بیٹھے ایک ہی پل میں ساری دنیا کی جانکاری حاصل کرسکتے ہیں ، یا ایک پل کے لئے یہ بھی مان لیا جائے کہ موبائل اور انٹرنیٹ سے کسی کا کوئی واسطہ ہی نہیں ہے تب بھی الیکٹرانک میڈیا پہ تو یہ ہر دن کی بریکنگ نیوز اور ایڈورٹائزمنٹ کا اہم حصہ بنا ہوا ہے یہاں تک کہ اردو اخبارات کے فرنٹ پیچ کے خاص خبروں کی زینت ہے ، اسلئے ہم سبھی کی بہتری اسی میں ہے کہ ہم دھوکے کی زندگی جینے کی بجائے خود کو جھوٹی تسلی دیکر حقیقت سے آنکھیں پھیر کر اپنی ذمہ داریوں سے پلہ جھاڑ لینے کے بجائے سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے خواب غفلت سے جاگیں اور اپنے ملک اپنے سماج اور اپنے گھروں کو تباہ و برباد ہونے سے بچائیں،اپنی طاقت اپنی قابلیت کے مطابق ایسے فیصلوں کے خلاف اپنا کردار پیش کریں ورنہ اللہ نہ کرے وہ وقت دور نہیں جب ہر لڑکی اور لڑکے کو شادی سے پہلے ایچ آئی وی اور ورجینٹی ٹیسٹ کروا کر اپنی پاکیزگی کا ثبوت دینا پڑیگا اور اسطرح کے شک و شبہ کی زد میں ہر عام و خاص نیک و بدکار دونوں ہونگے اور بات صرف شادی تک ختم نہیں ہوگی بلکہ اس 497 والے ادلٹری کے فیصلے سے بچوں کے اصل باپ کی پہچان کے لئے بھی ڈی این اے کروانے کی مانگ ہوگی جو کہ کسی بھی پاک دامن عورت پہ بدنما داغ ہے ، بھلے وہ شک کی بنا پہ ہو لیکن اسکی حیاداری پہ سوالیہ نشان ہوگا جو کوئی بھی نیک خاتون برداشت نہیں کرپائیگی اور جو ناجائز رشتوں میں شامل ہونگے انکی وجہ سے سنگل پیرنٹنگ والا سسٹم عام ہوجائیگا جسطرح آج یوروپ ممالک میں یہ رواج عام ہے اور بچے اپنے ماں ، باپ دونوں کے پیار سے محروم رہینگے کیونکہ اسطرح کے ناجائز رشتوں کی وجہ سے پہلے تو نومولود بچوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی قتل کردیا جائیگا یا کوڑے کچڑے میں پھینک دیا جائیگا اور اگر بدقسمتی سے کوئی بچہ دنیا میں سہی سلامت آ بھی جائے تو مرد اور عورت میں کوء اسکی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوگا کیونکہ یہ ناجائز تعلقات کی وجہ سے ہوگا اور مجبورا یا جبرا وہ بچہ عورت کے پاس رہیگا،ایسی صورت میں میں عورت مکمل طور سے ماں کا فرض نہیں نبھا پائیگی جس سے اْن معصوم بچوں کی تربیت پہ اثر پڑیگا اور ان بچوں کے نام کے آگے جنیٹک فادر لکھا جائیگا کیونکہ ایسے بچوں کے اصل باپ کا پتہ نہیں ہوتا اور یہ معصوم ہونے کے باوجود کسی اور کے گناہوں کی سزا بھگت رہے ہونگے, زندگی بھر اپنے نام کے آگے جنیٹک فادر والا ٹھپہ لگائے ہوئے اور آگے چل کر زیادہ تر ایسے بچوں کا سائکو ذہنی مریض یا مجرم ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ فیملی ویلیوز سے پوری زندگی بے خبر رہے گا جسکی وجہ سے ملک میں جرائم عام ہونے لگینگے خاص کر جنسی استحصال کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔. جیسے صدیوں سے برھما چاری باباؤں کے آشرموں میں ہورہے ہیں اسکی وجہ بھی یہی ہے کہ ان باباؤں کو رشتوں کی عظمت ، پاکیزگی کے بارے میں کوئی علم نہیں ، تبھی ان لوگوں نے نہ مندروں میں عورتوں، بچیوں کو چھوڑا ہے نہ آشرموں میں اور یہاں پہ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اْن باباؤں کا حال بھی ان فیصلوں سے جڑا ہوا ہے کیونکہ یہ بھی شادیاں نہیں کرتے بلکہ لیو ان ریلیشن شپ میں رہتے ہیں یا اپنے بھگتوں کے ساتھ آڈلٹری والے ناجائز رشتوں میں جڑے ہوتے ہیں یا 377 انجام دیا جاتا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ مودی راج میں اسطرح کے زنا کو جرم کے زمرے سے نکالا جارہا ہے تاکہ بی جے پی کے بلاتکاری منتری اور باباؤں کی راہیں ہموار ہوجائیں اور بنا کسی بندش کے وہ ہمیشہ اپنی من مانی کرتے ہوئے ہر مرد برھما بن جائے اور ہر عورت دروپدی کہلائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ بی جے پی کے راج میں مردوں کا چار شادیاں کرنا گناہ ہے لیکن عورتوں کے لئے پانچ پانڈو جائز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے )
03؍اکتوبر2018(ادارہ فکروخبر)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا