حقوق انسانی کارکنان کے لیے ’غیر محفوظ‘ ممالک کی فہرست میں ہندوستان بھی شامل

share with us

جنیوا:13؍ستمبر2018(فکروخبر/ذرائع) اقوام متحدہ نے بدھ کے روز 38 ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جو انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں۔ اس فہرست میں ہندوستان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ دراصل اقوام متحدہ نے یہ فہرست انتقامی جذبے کی وجہ سے انسانی حقوق کارکنان کے قتل، انھیں دی جانے والی اذیتوں اور من مانے طریقے سے گرفتار کیے جانے کے واقعات کی بنیاد پر تیار کی ہے۔ اس فہرست میں ہندوستان کی شمولیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ مودی حکومت میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے اشخاص پر ہو رہے مظالم کا اثر ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس کی طرف سے ایک سالانہ رپورٹ میں غیر محفوظ ممالک کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں انسانی حقوق کے کارکنان کے ساتھ برے سلوک، ان پر مسلسل نگرانی اور عوامی طور پر انھیں بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہموں کو بھی ذہن میں رکھا گیا ہے۔ انتونیو گٹیرس نے اس سلسلے میں ایک بیان بھی دیا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’اقوام متحدہ عالمی انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بہادر لوگوں کا احسان مند ہے، جنہوں نے ہمیں معلومات فراہم کیں۔ اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد کو سزا دینا شرمناک ہے۔ ہمیں اس نظام کو ختم کرنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

خبروں کے مطابق 38 ممالک کی فہرست میں 19 ممالک کو نئے واقعات کی وجہ سے شامل کیا گیا ہے جب کہ 19 ممالک وہ ہیں جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں پر پرانے یا جاری واقعات کے لیے اس فہرست میں جگہ دی گئی ہے۔ جن ممالک کا نام اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں ہندوستان کے ساتھ ساتھ بحرین، کیمرون، چین، کولمبیا، کیوبا، کانگو، جبوتی، مصر، گوئٹے مالا، گیانا، ہونڈوراس، ہنگری، اسرائیل، کرغزستان، مالدیپ، مالی، مراقش، میانمار، فلپائن، روس، روانڈا، سعودی عرب، جنوبی سوڈان، تھائی لینڈ، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو، ترکی اور ترکمانستان وغیرہ ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ممالک کی حکومتوں نے انسانی حقوق کے کارکنان کو دہشت گردی میں تعاون کرنے یا غیر ملکی اداروں کی مدد کرنے یا ملک کی ساکھ و سیکورٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے مجرم ٹھہرایا ہے۔

جاری فہرست سے متعلق آئندہ ہفتے اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالنے والے اینڈرے گلمور کا کہنا ہے کہ ’’شہریوں کو ڈرانے یا خاموش کرنے کے لئے قانونی، سیاسی اور انتظامی ہتھكنڈے اختیار کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا