طلاق ثلاثہ بل میں ترمیم، اب مجسٹریٹ کو ضمانت دینے کا اختیار

share with us

نئی دہلی:09؍اگست2018(فکروخبر/ذرائع)مرکزی کابینہ نے طلاق ثلاثہ سے متعلق بل میں ترمیم کو منظوری فراہم کر دی ہے۔ تین طلاق کے معاملہ کو غیر ضمانتی جرم تو اب بھی قرار دیا گیا ہے لیکن ترمیم کے بعد اب مجسٹریٹ کو ضمانت دینے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔مجوزہ قانون ایک بار میں تین طلاق یا طلاق بدعت پر لاگو ہوگا اور یہ متاثرہ کو خود اور نابالغ بچوں کے لئے گزارہ بھتہ مانگنے کے لئے مجسٹریٹ سے گہار لگانے کا حق فراہم کرے گا۔ اس کے تحت بول کر، لکھ کر، ای میل، ایس ایم ایس اور واٹس اپ جیسے دیگر الیکٹرانک ذرائع سے دی جانے والی تین طلاق غیر قانونی ہوگی۔ یہ قانون ریاست جموں و کشمیر پر لاگو نہیں ہوگا۔ حال ہی میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی عوام کی پر زور خواہش ہے کہ پارلیمنٹ تین طلاق پر قانون سازی کرے اور حکومت اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچا نے کے لئے پابند عہد ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2017 کو صدیوں سے چلی آ رہی تین طلاق کا رواج یعنی طلاق بدعت کے خلاف محض 7 گھنٹے بحث کے بعد لوک سبھا نے بل پاس کردیا۔ بل میں ترمیم سے متعلق کئی مشورے سامنے رکھے گئے لیکن سبھی کو خارج کر دیا گیا تھا۔ملی، خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جہاں اس بل پر اعتراض ظاہر کیا تھا وہیں کانگریس سمیت کئی سیاسی جماعتوں کو بھی اس بل پر اعتراض تھا۔ طلاق ثلاثہ بل کے خلاف بڑی تعداد میں مسلم خواتین نے بھی سڑکوں پر اترکر اور ریلیاں کر کے اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔ اب جو بل میں حکومت کی طرف سے ذرا سی نرمی کی گئی ہے اسے اسی احتجاج کا نتیجہ تصور کیا جا رہا ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا