مغل سرائے کے بعد ’میاں کا باڑا‘ اور ’اسماعیل پور‘ کا نام بھی بدلا گیا

share with us

راجستھان:09؍اگست2018(فکروخبر/ذرائع)وزیر اعظم نریندر مودی بھلے ہی ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘ کا نعرہ لگاتے پھر رہے ہوں لیکن اکثر و بیشتر بی جے پی کی مسلم دشمنی اُبھر کر سامنے آ ہی جاتی ہے۔ تازہ معاملہ راجستھان سے متعلق ہے جہاں کے ان دو گاؤں کا نام بدل دیا گیا ہے جو ظاہری طور پر مسلم نام تھے۔ یہ دونوں گاؤں ہیں ’میاں کا باڑا‘ اور ’اسماعیل پور‘۔ اتر پردیش کی یوگی حکومت نے مغل سرائے کا نام بدل کر ’دین دیال اپادھیائے‘ رکھا تھا اور راجستھان کی وسندھرا حکومت نے ضلع باڑمیر کے’میاں کا باڑا‘ گاؤں کا نام بدل کر ’مہیش نگر‘ اور ضلع جھنجھنو کے ’اسماعیل پور‘ گاؤں کا نام ’پچناوا خرد‘ رکھ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارہ ’اے این آئی‘ کے مطابق باڑمیر ضلع کے گاؤں ’میاں کا باڑا‘ کا راجستھان حکومت نے نام بدل کر ’مہیش نگر‘ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں علاقے کے سابق سرپنچ ہنومنت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان کی آزادی سے پہلے تک اس کو مہیش باڑا کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن آزادی کے بعد یہ ’میاں کا باڑا‘ کہلانے لگا۔ اب ایک بار پھر اس کا نام بدل کر مہیش نگر کر دیا گیا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں باڑمیر واقع سیوانا کے رکن ا سمبلی حمیر سنگھ کا بیان دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس گاؤں میں شیو کے ہونے کی وجہ سے اس کا نام مہیش نگر رکھا گیا ہے۔ پہلے بھی اس گاؤں کا یہی نام تھا لیکن وقت کے ساتھ لوگوں کی بولی میں تبدیلی آئی اور ہجرت کے سبب اسے میاں کا باڑا بلایا جانے لگا۔‘‘

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا