ہیبلے پنچایت حدود کا کچرہ نکاسی مسئلہ : کیوں اتنی اہمیت کی حامل ہے یہاں کے علاقوں کی صفائی !!؟؟

share with us

بھٹکل 08؍ اگست 2018(فکروخبر نیوز) ہیبلے پنچایت کے حدود میں کچرہ نکاسی مسئلہ نے عوام کی جتنی توجہ حاصل کی ہے شاید ہی کسی اور مسئلہ نے اتنی توجہ حاصل کی ہو ۔ اور توجہ کیوں نہیں حاصل ہوتی ہے ، صفائی تو بہر حال ہونی چاہیے ، صفائی ہی میں انسانی صحت کا راز ہے ۔ جتنی بیماریاں پھیلتی ہیں اور پھیل رہی ہیں ان میں اکثر کچرہ نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ عوام کو کچرہ ڈالنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ان کی طرف سے پھینکا جانے والا کچرہ کسی کی بیماری کا تو سبب نہیں بن رہا ہے ؟ اور متعلقہ پنچایت کے ذمہ داروں کو اپنے علاقہ کی صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ یوں تو عام طور پر پنچایت میں کچرہ نکاسی کا نظام خال خال ہی نظر آتا ہے۔ اکثر پنچایتوں میں وہاں کے مکین اپنے علاقوں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اگر کوڑا کرکٹ جمع کرنے کے لیے کوئی مخصوص جگہ نہیں ہوگی تو عوام جہاں تھوڑا سا کچرہ جمع دیکھے گی وہاں پر کچرہ پھینکنے کا معمول بنائے گی اور ہیبلے پنچایت حدود میں کچھ ایسے ہی ہورہا ہے۔ کچھ مدت قبل جہاں تھوڑا سا کچرہ جمع تھا آج وہاں کچروں کے ڈھیر لگ گئے اور پھر پنچایت کے ذمہ داروں کے ساتھ مکینوں اور حال تو یہ ہوا کہ بلدیہ حدود میں رہنے والوں کو بھی کچرہ نکاسی کے مسئلہ کو اٹھانا پڑا اور انتظامیہ کی اس طرف خصوصی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ۔ 
ہیبلے پنچایت کے حدود میں حنیف آباد ، رحمت آباد ، فردوس نگر ، جامعہ آباد ، جامعہ آباد روڈ اور اس راستے کے کنارے موجود مختلف محلے ، اور تینگن گنڈی کے تمام علاقوں سمیت جامعہ آباد سے جالی کو ملنے والی سڑک پر جتنے علاقہ موجود ہیں وہ سب اس میں داخل ہیں یہاں پر چند ایسے مشہور ادارے بھی ہیں جو نہ صرف ریاستی اور ملکی سطح پر مشہور ہیں بلکہ اس کاشہرہ بیرونِ ملک تک پھیلا ہوا ہے اور ہر سال ملک کے نامور علماء اور قائدین کی آمد رہتی ہے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل جہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں طلباء اپنی تعلیم مکمل کرنے میں منہمک ہیں ۔ اس کے علاوہ اسی سڑک کے بالکل متصل دنیا کی مشہور شخصیت اور بیسویں صدی کے عظیم مفکر طرف منسوب مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھی موجود ہے ، اسی اکیڈمی کے داہنی جانب سے نکلنے والی سڑک پر جاتے ہی علی پبلک اسکول بھٹکل کی عالیشان عمارتیں نظر آتی ہیں۔ جامعہ آباد روڈ پر اکیڈمی سے کچھ آگے بڑھیں تو ادارہ تربیتِ اخوان کے تحت چلنے والا شمس انگلش میڈیم ہائی اسکول ہے اس کے بائیں طرف سے سے حنیف آباد کو جوڑنے والی سڑک پر کچھ آگے بڑھیں تو ویمن سینٹر اور بی بی مونٹیسری کی عمارت کھڑی نظر آتی ہے۔ مسجد سیدنا ابراہیم جامعہ آباد سے متصل اردو میڈیم ہائی اسکول اور پراپرئمری اسکول قائم ہے ۔ جامعہ آباد سے تقریباً دیڑھ کلومیٹر کے فاصلہ پر اردو ، کنڑا پرائمری اسکول اور اس سے تھوڑے سے فاصلہ پر کنڑا ہائی اسکول کی عمارت کھڑی ہے ۔ اسی سڑک سے ہم اگر ہیبلے پنچایت حدود کے سب سے پرانے علاقہ تینگن گنڈی پہنچتے ہیں توو ہاں مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن کی عمارتیں موجود ہیں۔ اس کے تھوڑے سے فاصلہ پر ضلع اترکنڑا کے چند مشہور اور بڑے بندر گاہوں میں ایک خوبصورت بندرگاہ کا کام تکمیل کے قریب ہیں ، ایسے میں ہیبلے پنچایت حدود میں آنے و الے ان مشہور اسکولوں ،مدرسوں اور بندرگاہ تک پہنچنے والوں کے لیے انہی سڑکوں سے گذرنا پڑتا ہے جن کے کناروں پر ڈھیر سارا کچرہ نظر آتا ہے اور یہ منظر دیکھنے والے کے ذہن میں کئی خیالات نہ چاہتے ہوئے جنم لیتے ہیں ۔جس پنچایت حدود میں شہرِ بھٹکل کے نہیں بلکہ ضلعی ریاستی اور ملکی سطح پر مشہور چنیدہ ادارے موجود ہوں تووہاں کس قدر صفائی کا اہتمام عوام اور متعلقہ پنچایت کو رکھنا چاہیے وہ ظاہر ہے۔ !!

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا