صدر ایردوآن کے دورے سے قبل ترک جرمن تعلقات مسلسل کشیدہ

share with us

دونوں جانب سے اقدامات کے بعد کشیدگی میں کچھ کمی ہوئی‘ترک میڈیا

انقرہ :07؍اگست2018(فکروخبر/ذرائع)ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے آئندہ دورہ جرمنی سے قبل دونوں ممالک کے تعلقات اب تک کی گئی تمام تر کوششوں کے باوجود مسلسل کشیدہ ہیں۔ترکی اس سال اب تک 54جرمن شہریوں کو اپنے ہاں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر چکا ہے۔ترک میڈیا کے مطابق اگر ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے پیمانے کے طور پر مختلف حقائق پر نظر ڈالی جائے، تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان دونوں ملکوں کے باہمی روابط میں پایا جانے والا کھچاؤ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ترکی اور جرمنی کے تعلقات اس وقت سے کافی کشیدہ ہیں، جب جولائی 2016ء میں ترک افواج کے ایک حصے کی جانب سے مسلح بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔اس دوران ترک نڑاد جرمن صحافی ڈینیز یوچیل کی ترکی میں طویل حراست سے لے کر جرمن وزارت خارجہ کی طرف سے ملکی شہریوں کو ترکی کے سفر کیخلاف وارننگ جاری کیے جانے تک اس دوطرفہ کھچاؤ میں کئی زیر و بم آئے۔اب لیکن ایسے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ یہ دوطرفہ کشیدگی کچھ کم ہو رہی ہے تاہم مکمل طور پر ختم یہ ابھی تک نہیں ہوئی۔ ان حالات میں انقرہ اور برلن کی طرف سے اگرچہ آپس کی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم یہ ابھی تک نہیں کہا جا سکتا کہ ترک جرمن کشیدگی اب مکمل طور پر ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا