شبلی کی سوانح نگاری، ان کی اہم تصانیف کی روشنی میں

share with us

عارف عزیز(بھوپال)

اُردو میں باقاعدہ سوانح نگاری کا آغاز خواجہ الطاف حسین حالیؔ سے ہوا، لیکن جس شخصیت نے اِس صنف کو عروج پر پہونچا دیا، وہ علامہ شبلی نعمانی ہیں، اُن کی نو سوانحی تصانیف کئی معنوں میں اپنے پیش رو سرسید، ڈپٹی نذیراحمد اور حالیؔ سے زیادہ مکمل اور نسبتاً بہتر ہیں، اِن سوانح عمریوں میں المامون، النعمان، الفاروق، الغزالی، سوانح مولانا روم اور سیرۃ النبیؐ کو شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔ جن میں اپنے عہد کی عظیم المرتبت ہستیوں کے بارے میں اُردو زبان میں اِتنا معتبر اور مستند مواد جمع ہوگیا ہے کہ اُن کے حالاتِ زندگی، علمی کارنامے اور فکری بصیرت مربوط طریقہ سے سامنے آجاتے ہیں، لیکن شبلی کی سوانح عمریوں میں سوانح نگاری کے ساتھ تاریخی اجزاء بھی اِتنے مدغم ہوگئے ہیں کہ وہ تاریخ کے ضمن بھی زیربحث آتی رہیں گی، اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی کے پیشِ نظر صرف سوانح نگاری نہیں ماضی پرستی بھی تھی، انہوں نے جدید طرز کے مطابق نئے مباحث پر محققانہ اور عالمانہ بحث کرکے اُنہیں مغربی تصانیف کی ہمسری کے قابل بنادیا، دلچسپی اور شگفتگی ایسی پیدا کی کہ وہ سب کے پڑھنے کے قابل بن گئیں۔
حالیؔ و شبلی سے پہلے اُردو میں سوانح نگاری فارسی و عربی کے اسلوب کے مطابق تھی ، اُس میں جدید ذوق ورجحان کا مطلق خیال نہیں رکھا گیا ، اوّل اتنی خشک کہ کوئی پڑھنے کی ہمت نہ کرے یا دلچسپی کا اِتنا سامان کہ وہ تاریخ کے معیار سے گرجائیں، شبلیؔ نے اِن نقائص کو دور کیا، جدید طرز کے مطابق نئے مباحث پر محققانہ اور نظرڈال کر اُنہیں مغرب کی ہمسری کے قابل بنایا۔
کارلائل کا ایک مشہور فقرہ ہے کہ ’’تاریخِ عالم صرف عظیم انسانوں کی تاریخ کا نام ہے‘‘ شبلی کی سوانح نگاری بھی اِس فقرہ کا پرتو نظر آتی ہے، اُن کے دل میں مشاہیرِ اسلام پر لکھنے کا داعیہ کیوں پیدا ہوا اِس کا کچھ اندازہ ’’حیاتِ شبلی‘‘ میں علامہ سیّد سلیمان ندوی کی اِس تحریر سے ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
’’مسلمانوں کی بیماری کا علاج ایک (سرسیّد) کے نزدیک یہ تھا کہ مسلمان مذہب کے سوا ہر چیز میں انگریز ہوجائیں اور دوسرے (مولانا شبلی) کے نزدیک یہ تھا کہ صحیح اسلامی عقائد کی حفاظت اور بقاء کے ساتھ ساتھ نئے زمانے کی صرف مفید باتوں کو قبول کیا جائے‘‘۔ (حیاتِ شبلی)
شبلیؔ مغربی تہذیب اور اُس کے ادب سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے، سرسیّد کے رفقاء میں وہ تنہا تھے جو آخری عمر تک اسلامی تہذیب و ادب کے دفاع میں اپنے قلم سے جہاد کرتے رہے، انہوں نے یورپی اسکالروں کی اُس بہتان طرازی اور اختراپردازی کا پردہ چاک کیا، جو مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کے ذہنوں پر شب خون مارنے کے لئے منصوبہ بند طریقے سے آزمائی جارہی تھی اور اُس کی وجہ سے نوجوان طبقہ اپنے مشاہیر کے عقائد اور تہذیب پر شرمندگی محسوس کرکے اُن کے مخالفوں کی ہمنوائی کرنے لگا تھا۔ شبلی خود کہتے ہیں:
’’یورپ کے بے درد واقعہ نگاروں نے سلاطینِ اسلام کی غفلت شعاری ، عیش پرستی اور سیہ کاری کے واقعات کو اُس بلند آہنگی سے تمام عالم میں مشہور کیا کہ خود ہمیں یقین آچلا اور تقلیدپرست تو بالکل یورپ کے ہم آہنگ بن گئے‘‘۔ (مقالاتِ شبلی)
اِس احساسِ کمتری بلکہ ذہنی غلامی سے نکالنے کی واحد صورت یہ تھی کہ تاریخِ اسلام کے تابناک پہلوؤں سے مسلمانوں کا تعارف کرایا جاتا اور اُنہیں محرومی و پسپائی سے نجات دلاکر عظمتِ رفتہ کا احساس دلایا جاتا، تاریخِ اسلام کی نامور شخصیتوں پر قلم اُٹھانے سے شبلی کا ایک اور مقصد اُردو ادب کو علم و فن کے بیش بہا سرمایہ سے مالا مال کرنا تھا، اِس مقصد سے انہوں نے اہلِ قلم حضرات کو عربی و فارسی کے بجائے اُردو میں تصنیف و تالیف کی ترغیب دی اور خود بھی اِس زبان میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔
اِس تمہید سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سوانح نگاری کے میدان میں قدم رکھنے سے علامہ شبلی کے دو مقاصد تھے اوّل مشاہیرِ اسلام کے احوال سے مسلمانوں کو اپنی عظمتِ رفتہ کا اِحساس دلانا، دوم زبان وادب کے دامن کو وسیع کرنا، پہلا مقصد کافی دقت طلب اور اُس سے زیادہ نازک تھا، شبلیؔ چاہتے تھے کہ مشاہیرِ اسلام کے تعارف میں اُن کے کارناموں کو اِتنے شرح و بست کے ساتھ پیش کیا جائے کہ مخالفینِ اسلام مرعوب ہوکر اپنے اعتراضات پر خود شرمندہ ہوجائیں۔ اِس اہم مقصد نے شبلی کو سوانح نگاری سے تجاوز کرکے تاریخ نگاری کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور کیا اور وہ سوانح کے اصولوں سے واقف ہونے کے باوجود تاریخ نگاری کی وسعتوں میں داخل ہوگئے کیونکہ اِس کے بغیر اُن کا مقصد پورا نہیں ہوتا تھا۔
علامہ شبلیؔ جدید سوانح کے فن، اصول اور حدود وقیود سے کما حقہٗ واقف تھے، مغرب کی سوانح نگاری کے نمونے بھی اُن کے پیش نظر تھے۔ کارلائل، گبن اور رینکے جیسے مغربی سوانح نگاروں کا اُردو تراجم کے ذریعہ انہوں نے مطالعہ کررکھا تھا، پھر بھی شبلی نے فن سوانح نگاری کو تاریخ کے ساتھ مدغم کردیا تو یہ فن سے اُن کے تجاہلِ عارفانہ کی دلیل نہیں، اپنے مقصد کے حصول کی لگن تھی، جس کے لئے شبلی کو تاریخ کا سہارا لینا پرا اور بعض نے اِسے اُن کی کمزوری قرار دیا، حالانکہ یہ اُن کی شعوری روش تھی، جس کا جائزہ شبلیؔ کی اہم سوانحی تصانیف کو پیش نظر رکھ کر لیا جانا چاہئے۔
’’المامون‘‘ ۱۹۸۸ء میں شائع علامہ شبلیؔ کی پہلی مستقل تصنیف ہے۔ جو اُردو میں حالیؔ کی حیاتِ سعدی کے بعد جدید طرز کی دوسری سوانح عمری ہے۔ سرسیّد نے اِس کتاب پر جو مختصر دیباچہ لکھا ہے ، اُس میں کتاب کی جس خصوصیت پر رشنی ڈالیگئی ہے، اِس کا اطلاق صرف ’المامون‘ پر نہیں، شبلی کی تمام سوانحی کتب پر ہوتا، شبلیؔ کا ارادہ پہلے عباسی خاندان کی تاریخ رقم کرنے کا تھا، بعد میں انہوں نے فرمانروایانِ اسلام لکھنے کا منصوبہ بنایا، لیکن مصروفیت کی وجہ سے یہ بھی عملی جامہ نہیں پہن سکا لہٰذا شبلیؔ نے ’ہیروز آف اسلام‘ سلسلہ کی پہلی کڑی کے طور پر عباسی خلیفہ مامون الرشید پر قلم اُٹھایا، شبلیؔ خود بھی علم کے پیکر تھے، اُنہیں فلسفہ وکلام سے گہری رغبت تھی، مسلمانوں میں فلسفہ وکلام کی اصل اشاعت مامون کے دور میں ہوئی، اِس عہد میں آزادئ فکر کا جو ماحول تھا، بالخصوص مذہبی آزادی ، علم وفضل اور تہذیب و تمدن کی جو فضا چھائی ہوئی تھی، اُسے شبلی مغربی نقادوں کے الزامات کا جواب تصور کرتے تھے اِسی لئے انہوں نے خلقِ قرآن کے فتنہ کو بھی نظرانداز کرکے مامون کو اسلامی ہیرو کے طور پر پیش کیا، ’المامون ‘بظاہر ایک سوانح عمری ہے لیکن اِس میں بھی شبلیؔ کا سوانحی انداز ، تاریخی انداز سے بہت متاثر ہے، اِسی لئے ’المامون‘ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ نہ تو مکمل تاریخ ہے، نہ قطعاًسوانح ہے، شبلیؔ نے اِس میں فن سے زیادہ مقصد کو پیش نظر رکھا ہے، حالانکہ شبلی اِس رائے کے حامی تھے کہ سوانح نگار کو شخصیت کے مثبت و منفی دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالنا چاہئے ، اِس بناء پر اُنہوں نے ’حیاتِ جاوید‘ کو مدلّل مداحی سے تعبیر کیا ہے لیکن ’المامون‘ میں متعدد مقامات پر اُن کا رویہ اس کے برعکس نظر آتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ شبلی مامون کی شخصی کمزوریوں سے زیادہ اُن کارناموں کو بیان کرنا چاہتے ہیں ، جو ہیروز کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ مامون پر قلم اُٹھانے شبلی کا مدعا، اسلامی تاریخ کے اُس عہد زرّیں کو پیش کرنا تھا، جو خوشحالی مادّی ترقی اور آزاد خیالی کے لحاظ سے دورِ حاضر کا ہمسر نظر آتا ہے، اپنے اِس مقصد میں وہ نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ اُس کے نتیجہ میں اردو ادب کو ایک شاہکار سوانحی تصنیف بھی میسر آگئی۔
’’سیرۃ النعمان‘‘ ۱۸۸۹ء میں شائع ہوئی، جو علامہ شبلی کی تیسری تصنیف اور دوسری اہم سوانح ہے، شبلی کو امام اعظم ابوحنیفہ سے جو تعلق خاطر تھا، اُسی موانست کی بناء پر اُن کا لقب نعمان ہوا، یہ اُن کے والد کے نام کا بھی جزو تھا، سید صاحب کے خیال میں یہی تعلق اور جذبہ ’سیرۃ النعمان‘ لکھنے کا باعث بنا لیکن ایک بڑا محرک یہ بھی تھا کہ حالاتِ زمانہ کے لحاظ سے جو حقیقت پسندی، میانہ روی ، اسلامی نظامِ قانون کو برسرِکار لانے کے لئے شبلی ضروری سمجھتے تھے، اُس میں امام ابوحنیفہ کا طریقۂ کار معاون ثابت ہوتا تھا۔ اِسی لئے ’سیرۃ النعمان‘ کا کلامی اور اصلاحی پہلو کافی اہم ہے، ’سیرۃ النعمان‘ کے دیباچہ کا ’المامون‘ کے دیباچہ سے تقابل کیا جائے تو اِس میں ایک لطیف لیکن اہم فرق یہ نظر آتا ہے کہ مامون پر لکھتے وقت شبلی کا ارادہ ’رائل آف ہیروز‘ یعنی نامور فرماں روایانِ اسلام کا ایک سلسلہ رقم کرنے کا تھا لیکن ’سیرۃ النعمان ‘ کے دیباچہ میں یہ ارادہ نامورانِ اسلام لکھنے میں تبدیل ہوگیا، وہ خود لکھتے ہیں :
’’ اُن کا شروع سے خیال تھا کہ سلطنت کے مختلف سلسلۂ نسب کے ساتھ ساتھ علوم وفنون کے جدا جدا خاندان قائم کئے جائیں اور اُن کے ناموروں کے حالات درج ہوں، اِسی مقصد سے اُنہوں نے فقہ کے بانی امام ابوحنیفہ کا انتخاب کیا۔ اِس سوانح کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی کو مواد کی کمی نے کافی پریشان رکھا اور وہ ایسا مواد قلم بند کرنے پر مجبور ہوئے، جو نہ سوانح کے لحاظ سے مستحسن تھا، نہ تاریخ کے اعتبار سے معاون، پھر بھی شبلی نے زیادہ سے زیادہ مستند واقعات کا انتخاب کرکے تحقیق کا حق ادا کردیا ہے، سوانح کے اوّل حصے میں ذاتی حالات اور شخصیت کا بیان ہے، دوسرے حصّے میں امام صاحب کے طرزِ اجتہاد اور اصول استنباط پر بحث کی گئی ہے، جو بقول شبلی اُن کی محنتوں کی ’’تماشگاہ‘‘ ہے، یہی کتاب کی جان اور مصنف کی علمیت ، غوروفکر، سلیقۂ استدلال اور مشکل مسائل کو حل کرنے کی قابلیت کا شاہکار ہے۔ سوانح میں امام ابوحنیفہ کی بشری کمزوریوں اور مناظرات میں اِدعا نیز جوش مقابلہ کے اثرات کا ذکر کرکے اُنہیں امام صاحب کی تواضع اور بے نفسی کے خلاف قرار دیا ہے، ’النعمان‘ کی یہی خوبیاں اور خصوصیات ہیں جس کی بنا پر وہ خوش اعتقادی کم اور حقیقت بیانی زیادہ نظر آتی ہے اور شبلی کے شعورِ فن کا اعلیٰ مظاہرہ قرار پاتی ہے۔ 
’’الفاروق‘‘ علامہ شبلی نے ۱۸۹۹ء میں لکھی، اِس کا آغاز ایک مقدمہ سے ہوتا ہے ، جس میں اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار ، اُن کی خصوصیات اور مؤرخین کے فرائض سے بحث کی گئی ہے، یورپین مورخوں کی بے اعتدالی اور اسلام کے بارے میں اُن کے گمراہ کن نظریات کا ذکر بھی ہے۔ حالانکہ حضرت عمر فاروقؓ کی سوانح پر عربی، فارسی اور اردو میں متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ لیکن علامہ شبلی کی ’الفاروق‘ بے مثال ہے۔ اِس سوانح کو مرتب کرنے میں شبلی نے نہ صرف ہندوستان کے جملہ ذخیرۂ معلومات کا استعمال کیا بلکہ روم، شام اور مصر کے کتب خانوں کو بھی چھان مارا ہے، جس کا نتیجہ اِس حد تک کامیابی کی صورت میں نکلا کہ یہ اردو زبان کے لئے سرمایہ افتخار بن گئی۔ خود شبلی کو اِس کتاب پر بڑا ناز تھا، وہ ’الفاروق‘ کے سوا دوسری سوانح نہ لکھتے تب بھی بے مثلہ مورخ و محقق قرار پاتے۔ 
علامہ شبلی میدانِ تحقیق کے بڑے شہسوار ہیں، ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول ’الفاروق‘ میں اُنہوں نے اصولِ صداقت کو برتنے میں کمالِ احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے، انہوں نے جتنی احتیاط اِس کتاب میں برتی شاید کسی اور کتاب میں ملحوظ رکھی ہو، اِسی لئے مہدی افادی بھی ’الفاروق‘ کو عمروں کی کمائی قرار دیتے ہوئے کتاب کے اِس خاص وصف کو سراہتے ہیں۔
شبلی کی دوسری سوانح حیات کی طرح ’الفاروق‘ بھی دو حصّوں میں تقسیم ہے۔ اِس کے حوالے اُن کتب سے لئے گئے ہیں جو قابلِ اعتبار اور تحقیق کے نقطۂ نظر سے معیاری ہیں، حصّہ اوّل میں حضرت عمر فاروقؓ کے حسب ونسب ، ولادت، سنِ رُشد، قبول اسلام اور ہجرت خلافتِ اسلامیہ کے لئے اُن کے انتخاب اور اُن کے عہد کی فتوحات کا بیان ہے جبکہ دوسرے حصّے میں عہدِ فاروقی کی فتوحات کا جائزہ لیتے ہوئے اسبابِ فتوحات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ حکومت کی نوعیت، ملک کی تقسیم،عہدیدارانِ سلطنت کے فرائض، رشوت سے متعلق دلچسپ معلومات، صیغۂ محاصل اور محکمۂ عدالت کی کاروائیاں، پولس اور فوجداری محکمہ کی کارکردگی نیز محکمہ مالیات اور دفاع سے متعلق تفصیلات مذکر ہیں۔
’الفاروق‘ کو تاریخ وادب کا اتحاد بھی کہا جاسکتا ہے۔ اِس میں رزم ہو یا بزم، فتح ہو یا شکست، خانہ جنگی کا تذکرہ ہو یا آراضی کا بندوبست، خراج کی وصوسلی کا نظام ہو یا زمین کی پیمائش کا انتظام، مالِ غنیمت کی تقسیم ہو یا ذمیوں کے حقوق اور مسلمانوں کے باہمی معاملات تمام تفصیلات کی مرقع آرائی علامہ شبلی کے سحرکار قلم نے اِس طرح کی ہے کہ اُس دور کا پورا نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے اور خوبی یہ ہے کہ تاریخ کے اصولوں سے انحراف بھی نہیں ہوتا ، وہ ایسی زبان وبیان اختیار کرتے ہیں، جس میں شستگی وشائستگی، برجستگی ورعنائی، بے ساختگی و ہمواری اور ایجازواختصار نقطۂ عروج پر نظر آتا ہے ، ایک اقتباس ملاحظہ ہو ، حضرت عمر فاروقؓ کی جامعیت پر روشنی ڈالتے ہیں:
’’قانون فطرت کے نکتہ شناس جانتے ہیں کہ فضائل انسانی کی مختلف انواع ہیں اور ہر فضیلت کا جدا راستہ ہے ۔ ممکن بلکہ کثیرالوقوع ہے کہ ایک شخص ایک فضیلت کے لحاظ سے تمام دنیا میں اپنا جواب نہیں رکھتا لیکن اور فضائل سے اِس کو بہت کم حصّہ ملا تھا۔ سکندر سب سے بڑا فاتح تھا لیکن حکیم نہ تھا، ارسطو حکیم تھا لیکن کشورستاں نہ تھا بڑے بڑے کمالات ایک طرف چھوٹی چھوٹی فضیلتیں بھی ایک شخص میں مشکل سے جمع ہوتی ہیں۔ بہت سے نامور گزرے ہیں جو بہادر ہیں لیکن پاکیزہ اخلاق نہ تھے ، بہت سے پاکیزہ اخلاق تھے لیکن صاحبِ تدبیر نہ تھے۔ بہت سے دونوں کے جامع تھے لیکن علم و فضل سے بے بہرہ تھے۔ آپ حضرت عمرؓ کے حالات اور اُن کی مختلف حیثیتوں پر نظر ڈالئے صاف نظر آئے گا کہ وہ سکندر بھی تھے اور ارسطو بھی ، مسیح بھی تھے اور سلیمان بھی، تیمور بھی تھے اور نوشیرواں بھی ، ا مام ابوحنیفہ بھی تھے اور ابراہیم ادہم بھی‘‘۔
اب ذرا اِس اقتباس پر نظر ڈالئے جس میں حضرت عمرؓ کی سادگی اور جلالت شان کا ذکر ہے۔
’’تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا حکمراں دکھا سکتے ہیں جس کی معاشرت یہ ہوکہ قمیص میں دس دس پیوند لگے ہوں، کاندھے پر مشک رکھ کر غریب عورتوں کے ہاں پانی بھر آتا ہو، فرشِ خاک پر پڑا رہتا ہو، بازاروں میں پڑا پھرتا ہو، جہاں جاتا ہو جریدہ وتنہا چلا جاتا ہو، اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھوں سے تیل ملتا ہو ، دردربارِ نقیب و چاوش حشم و خدم کے نام سے آشنا نہ ہو اور پھر بھی رعب وادب ہوکہ عرب و عجم اُس کے نام سے لرزتے ہوں اور جس کی طرف رخ کرتا ہو زمین دہل جاتی ہو، سکندر ہو یا تیمور تیس تیس ہزار فوج رکاب میں لے کر نکلتے تھے۔ جب اُن کا رعب قائم ہوتا تھا۔ عمر فاروقؓ کے سفرشام میں سواری کے ایک اونٹ کے سوا کچھ نہ تھا لیکن چاروں طرف غل پڑا ہوا تھا کہ مرکز عالم جنبش میں آگیا‘‘۔
علامہ شبلی نعمانی کے اسلوب نگارش کا یہی طرہ امتیاز ہے کہ انھوں نے خشک اور بے کیف موضوعات میں بھی انشاء پردازی سے ایسی شان پیدا کردی کہ اُن کی تحریریں دلآویز اور دلنشیں ، مؤثر اور اثرانگیز ہوگئیں۔ ’الفاروق‘ کوئی ادیب لکھتا تو صرف انشاء کی رنگینی و رعنائی ہوتی، کوئی شاعر لکھتا تو شاہنامہ ہوجاتی۔ کوئی مورخ لکھتا تو محض واقعات کا مجموعہ ہوتی اور کوئی فلسفی لکھتا تو فلسفہ کے بے کیف مباحث ہوتے لیکن اس کا مصنف جامع العلوم تھا۔ وہ ادیب بھی تھا، شاعر بھی تھا، ناقد بھی، متکلم بھی تھا، فلسفی بھی اور ماہرِ تعلیم بھی تھا، مصنف کی اسی جامعیت اور گوناگوں خصوصیات سے ’الفاروق‘ تاریخ وادب کا شاہکار بن گئی ہے۔
علامہ شبلی کے دل میں حمیت اسلامی کا جو دریا موجزن تھا، اُس سے مغلوب ہوکر انہوں نے ’المامون‘ ، ’الفاروق‘ ، ’سیرۃ النبی‘ جیسی بلند پایہ کتب رقم کیں، اِس سلسلہ کی اہم کڑی عمر بن عبدالعزیزؒ کی ذات گرامی اورسلطان صلاح الدینؒ کی فتوحات بھی ہیں، شاید بہت سے لوگوں کو یہ حسرت رہی ہو کہ شبلی کا سحرانگیز قلم اُن کے کارنامے بھی بیان کرتا۔ 
علامہ شبلیؔ کی سوانح نگاری کا یہ تذکرہ اُن کی دیگر سوانحی تصانیف کے بغیر نامکمل ہے بالخصوص ’’سیرۃ النبیؐ‘‘ جو قامت و قیمت دونوں میں بے مثال ہے اور علامہ اُسے حاصلِ زندگی قرار دیتے تھے، اِس پر بھی گفتگو ہونا چاہئے تھی لیکن اِس ’بحرِ8 بیکراں ‘کو ایک مختصر تحریر میں سمونا ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے ۔
استفادہ کی کتب:
۱۔ حیاتِ شبلی علامہ سید سلیمان ندوی
۲۔ الفاروق علامہ شبلیؔ نعمانی
۳۔ سیرۃ النعمان علامہ شبلیؔ نعمانی
۴۔ المامون علامہ شبلیؔ نعمانی
۵۔ مقالاتِ شبلی علامہ شبلیؔ نعمانی
۶۔ افاداتِ مہدی از مہدی افادی
۷۔ شبلیؔ پر ایک نظر از صباح الدین عبدالرحمن 
۸۔ شبلیؔ بحیثیت مورخ از اختر وقار عظیم
۹۔ شبلیؔ کی سوانح نگاری از مولانا مجیب اللہ ندوی
۱۰۔ علامہ شبلی بحیثیت سوانح نگار از ڈاکٹر صفیہ بی
۱۱۔ جدید اردو نثر کا ارتقاء پروفیسر محمد ارشد کیانی

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا