*مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا*

share with us

 10 جولائی 2018 کو ہندوستان، گجرات، سورت کے مشہور بزرگ، داعی اور مفکر عالم دین مولانا عبداللہ صاحب کاپودروی، مسافران آخرت میں شامل ہوگئے، ان کی عمر تقریبا 85 سال تھی، مولانا گجرات کے مرکزی ادارہ دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر کے شیخ الجامعہ اور ہندوستان کے کئی علمی دعوتی اور فلاحی اداروں اور تنظیموں کے سربراہ و معاون تھے، انہوں نے 1950 میں دارالعلوم دیوبند میں سال ڈیڑھ سال پڑھا اور غالبا 1955 میں ہندوستان کے مشہور علمی ادارہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے سند فراغت حاصل کی اور وہاں استاد مقرر ہوئے، اس کے بعد دوبارہ دارالعلوم دیوبند آئے اور 1959 اور 1960دوسال دارالعلوم دیوبند میں مقیم رہے اور دورہ حدیث کی کتابیں پڑھیں۔۔۔۔۔،انہوں نے کئ سال تک جامعہ اسلامیہ ڈابھیل اور دارالعلوم فلاح دارین میں تدریسی خدمات انجام دیں، ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، وہ کچھ عرصہ کینیڈا میں بھی مقیم رہے، اور کئی ملکوں کے سفر کئے....... چند سال قبل ان کے مختلف مضامین کا مجموعہ "افکار پریشان" کے نام سے چھپا تھا، اور اس ناکارہ نے اس پر تبصرہ لکھا تھا، جو میرے لکھے گئے تبصروں کی کتاب "کتب نما" میں شامل ہے، "افکار پریشان" کے بعض اہم مضامین میں نے ماہنامہ وفاق المدارس میں بھی شائع کروائے.......انہوں نے گجرات ہندوستان کے علمی اداروں اور مراکز کے تعارف پر بھی عربی زبان میں بھی ایک تفصیلی مقالہ لکھا ہے اور آٹھویں صدی ہجری کے مشہور محدث، علامہ بدر الدین عینی کی علمی خدمات کے تعارف پر ایک عربی مقالے کا ترجمہ..... "علامہ بدرالدین عینی اور علمی حدیث میں ان کا نقش دوام"........ کے نام سے کیا ہے، جسے احقر نے کراچی کے ایک کتب خانے کو اشاعت کے لیے دیا ہے.

مولانا عبداللہ سورتی ایک صاحب درد عالم دین تھے، آج بطور خاص ہندوستان کے مسلمان امت کے ایک غم خوار سے محروم ہوگئے، انہوں نے بجا طور پر اپنی کتاب کے سرورق پر اقبال کا یہ مشہور زمانہ شعر لکھا تھا:

مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!

آج ان کے نالے ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئے...... حق تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں سکون والی ابدی زندگی نصیب فرمائے.

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا