بھیونڈی فساد2016 : محرم کے موقع پر پھوٹ پڑنے والے فساد میں گرفتار دو ملزمین کی ضمانت عرضداشت سماعت کے لیئے منظور

share with us

سپریم کورٹ نے حکوت کو نوٹس جاری کیا، گلزار اعظمی

ممبئی11؍ جولائی2018(فکروخبر /پریس ریلیز) ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو گنجان مسلم آبادی والے صنعتی شہر بھیونڈی میں محرم کے موقع پر نکلنے والے تعزیہ کے جلوس کے دوران پھوٹ پڑنے والے فرفہ وارانہ فسادات جس میں ۸؍ افراد شدید زخمی اور چند پولس اہلکاروں کو بھی پتھر بازی کی وجہ سے چوٹیں آئیں تھی کے معاملہ میں گرفتار دو مسلم نوجوانوں کی ضمانت عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل آئی جس کے دوران عدالت نے ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کیا ۔ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر بحث جمعیۃ علماء کی جانب سے سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا و سینئر ایڈوکیٹ امریندر شرن نے کی جبکہ ضمانت عرضداشت ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے تیار کی تھی ۔یہ اطلاع آج یہاں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربرہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزمین شبیر سلیم شاہ اور نوشاد سلیم شاہ کی ضمانت عرضداشتوں کی سماعت سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بیچ جس میں جسٹس رنجن گوگئی، جسٹس آر بھانوماتی اور جسٹس نوین سنہا شامل ہیں نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ اب جبکہ ضمانت عرضداشت سماعت کے لیئے منظور ہوگئی ہے ، انہیں امید ہیکہ ملزمین کو سپریم کورٹ سے راحت حاصل ہوگی کیونکہ ابھی تک اس معاملے میں باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہوسکی ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل تھانہ سیشن عدالت نے اسی معاملے کے ایک دیگر ملزم ملزم زبیر عبدالجبار پٹھان کو مشروط ضمانت پر رہا کیا تھا جس کی پیروی جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ عبدالمتین شیخ نے کی تھی۔
واضح رہے کہ ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو محرم کے موقع پر بھیونڈی شہر سے تعزیہ کا جلوس نکالا گیا تھا جسے شہر میں گھمایا جارہا تھا اس دوران ہنومان مندر کے پاس چند شرپسندوں نے جلوس میں رخنہ اندازی کی کوشش کی اور شرکاء جلوس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد دونوں فرقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا اس دوران پولس بھی پتھراؤں کی زد میں آگئی اور اس کی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا ۔
حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد شاستری نگر پولس نے ۱۹؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات307, 395, 436, 353, 332, 336, 338, 427, 143, 147, 148, 149 ، 34اور پبلک پراپرٹی ڈیمجیس ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4نیز بامبے پولس کی دفعہ 37(1) 135 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا اور ان تمام ملزمین کے خلاف فرد جرم بھی عدالت میں داخل کی تھی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا