دہلی : فیس ادا نہ کرنے پر اسکول پرنسپل نے گھنٹوں معصوم بچیوں کو تہ خانہ میں رکھا بند

share with us

نئی دہلی:11؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے پر مامور اساتذہ ہی اگر طلبا کے ساتھ زیادتی کریں گے تو پھر ملک اور معاشرے کا کیا ہوگا؟وقت پر فیس ادا نہیں کر پانے کی وجہ سے 59 بچیوں کو 5 گھنٹوں تک تہہ خانے میں قید کر کے رکھے جانے کا انتہائی المناک واقعہ سامنے آیا ہے جس سے ہر شخص نالاں ہے۔

دہلی کے رابعہ گرلز پبلک اسکول میں فیس نہیں جمع کرنے والی بچیوں کے ساتھ انتہائی زیادتی کیے جانے کی خبریں ہیں۔دارالحکومت دہلی میں واقع بلی ماران کے رابعہ گرلز پبلک اسکول میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کر نے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔اطلاعات کے مطابق فیس نہیں جمع کر پانے کی وجہ سے بچیوں کو گھنٹوں اسکول میں بنے تہہ خانے میں قید کر کے رکھا گیا۔ والدین اس بات سے حیران ہیں کہ محض وقت پر فیس ادا نہیں کر پانے کی وجہ سے 59 بچیوں کو 5 گھنٹے تک تہہ خانے میں قید کر رکھا گیا۔
40 ڈگری درجہ حرارت میں  بھوکی' پیاسی بچیاں دوپہر کا انتظار کر رہی تھیں۔ تاکہ جلدی سے ان کے والدین انہیں آکر لے جائیں۔ والدین کے پہنچتے ہی بچیاں انہیں دیکھکر زار زار رو پڑیں۔ والدین نے الزام عائد کیا کہ تہہ خانے میں کمرے کے باہر کی کنڈی لگی ہوئی تھی جب بچیوں کو لینے اسکول پہنچے تو وہاں موجود اسٹاف بھی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔اپنے بچیوں کا برا حال دیکھ کر سر پرست ناراض ہو گئے اور اسکول کے باہر جم کر ہنگامہ کیا۔بتا دیں کہ اس واقعہ کی ویڈیو اور تصویریں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔اس سلسلے میں اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان بچیوں کی جون مہینے کی فیس اب تک جمع نہیں کی گئی ہے۔ جب کہ سرپرستوں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے وقت پر فیس جمع کرنے کی رسید بھی دکھائی۔جب بچیوں کے والدین نے ہیڈ مسٹریس فرح ادیبہ خان سے بات کی تو انہوں نے ان سے بدتمیزی کی اور ناشائستہ زبان کا استعمال بھی کیا نیز اسکول سے باہر نکال دینے کی بھی دھمکی بھی دے ڈالی۔پولیس نے جووینائیل ایکٹ کی دفعہ 75 کے خلاف کیس درج کر معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔

 

 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا