سعودی شہریوں کی شرح بے روزگاری کم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا؟

share with us

ریاض:10؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع) سعودی عرب سے لاکھوں غیر ملکیوں کو تو نکال دیا گیا، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، مگر حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود سعودی شہریوں کی شرح بے روزگاری کم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

سعودی گزٹ کے مطابق سعودی جنرل اتھارٹی فار سٹیٹکس کا کہنا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 2لاکھ 34 ہزار سے زائد غیر ملکی مملکت سے جاچکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ 6202 غیر ملکی افراد سعودی عرب سے رخصت ہورہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سعودی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت سعودی نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 12.9 فیصد ہے، جسے وزارت محنت و سماجی ترقی نیچے لانے میں کامیاب نہیں ہورہی۔ اس حوالے سے ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 60 سال سے زائد عمر کے 3لاکھ 20 ہزار افراد تاحال اپنے عہدوں پر فائز ہیں اور ان کے نام جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس میں بھی رجسٹرڈ ہیں۔

مملکت میں سپورٹ انجینئر کے طور پر کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد 2لاکھ 21 ہزار ہے جبکہ اس کے برعکس اسی عہدے پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 24لاکھ سے زائد ہے۔ ٹیکنیشن کے طور پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 4لاکھ 88ہزار ہے اور اس کے برعکس اس عہدے پر کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 6ہزار ہے۔سرکاری سیکٹر کی جانب سے غیر ملکیوں کی بھرتی کیلئے سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں 14352 ویزے جاری کئے گئے ہیں جن میں سے 5920 ویزے غیر ملکی خواتین کی بھرتی کیلئے جاری کئے گئے ہیں۔ مختلف ملازمتوں کیلئے غیر ملکیوں کو بھرتی کرنے کیلئے پرائیویٹ شعبے کی جانب سے ایک لاکھ 5ہزار 900 ویزے جاری کئے گئے ہیں۔ سرکاری و پرائیویٹ شعبے میں منیجر لیول اور اعلیٰ عہدوں پر بڑی تعداد میں اس وقت بھی سعودی شہری ہی فائز ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ انتظامی عہدوں پر سعودی شہریوں کی تعداد 1لاکھ 59ہزار جبکہ ان عہدوں پر غیر ملکیوں کی تعداد صرف 65ہزار ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا