امریکا افغان حکومت اورطالبان کے مذاکرات کی حمایت کرے گا،امریکی وزیرخارجہ

share with us


احتیاط سے آگے بڑھیں گے،40سال سے جاری بحران ایک دن میں حل نہیں ہو سکتا،افغان صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس 


واشنگٹن /کابل:10؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)امریکا افغان حکومت اورطالبان کے مذاکرات کی حمایت کرے گا۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکا افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرے گا۔مائک پومپیوگزشتہ روزغیراعلانیہ دورے پر کابل پہنچے اور افغان صدر اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور دیگر اعلی حکام سے ملاقاتیں کی تھی ۔ افغان صدر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی۔مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا افغان حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا خود بھی مذاکرات میں شریک ہونا چاہتا ہے۔ مائیک پومپیو جب سے وزیر خارجہ بنے ہیں یہ ان کا افغانستان کا پہلا دورہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں مزید فوجی بھیج کر طالبان پر دبا ؤڈالنے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر آجائیں۔پومپیو نے کہا کہ بہت سے طالبان اب سمجھتے ہیں وہ لڑائی کرکے جیت نہیں سکتے۔ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ وہ احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ صدر غنی نے کہا کہ 40 سال سے جاری بحران ایک دن میں حل نہیں ہو سکتا۔اس موقع پر مائیک پومپیو نے پیشکش کی کہ امریکا طالبان کے ساتھ مذاکرات میں براہ راست شریک ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن مذاکرات افغان حکومت کی زیر نگرانی ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کیلئے ہمسایہ ممالک کی بھی ضرورت ہوگی۔پومپیو نے افغانستان میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات اور اگلے سال صدارتی انتخابات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے امید کی کہ انتخابات سے قبل افغانستان میں پرتشدد واقعات میں کمی آجائے گی۔ پاک افغان سرحد کے قریب افغان صوبہ لوگر میں طالبان نے 3درجن سے زائد اسکولوں کو بند کردیا جبکہ ایک پرائمری اسکول کی عمارت کو آگ لگا کر تباہ کردیا۔امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان کے جنوبی صوبے ارزگان میں ہفتے کے روز ایک حملے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔ فوجی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والا کارپورل جوزف ماسیئل تھا۔دوسری جانب افغانستان پرعالمی دو روزہ کانفرنس سعودی قیادت میں جدہ اور مکہ مکرمہ گزشتہ روزسے شروع ہوگئی ہے ۔یہ کانفرنس اسلامی سربراہ کانفرنس اور او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے تحت منعقد کی جارہی ہے۔کانفرنس میں نا صرف افغانستان کے ممتاز علما شریک ہونگے بلکہ دنیا بھر کے منتخب علما بھی مدعو ہوں گے۔کانفرنس کا مقصد افغانستان میں امن بحال کرنے میں مدد اور ہرطرح کی دہشتگردی ، انتہا پسندی اور شدت پسندی کی مذمت کرنا ہے۔
 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا