داعش مقدمہ  سپریم کورٹ نے مقدمہ کی جلد از جلد سماعت مکمل کیئے جانے کے احکامات جاری کیا

share with us

حالانکہ ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے درخواست داخل کی گئی تھی، گلزار اعظمی

ممبئی:10؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)ممنو ع تنظیم داعش کے رکن ہونے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت کلیان کے ساکن اریب مجید کی ضمانت عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آ ف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایک جانب جہاں عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کردیا وہیں نچلی عدالت کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ کی جلد از جلد سماعت مکمل کرے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم اریب مجید کی ضمانت عرضداشت مسترد کیئے جانے کے بعد ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فروخ رشید کے ذریعہ ضمانت عرضداشت سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمد ی نے عدالت میں اپنے دلائل پیش کیئے لیکن عدالت نے بجائے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کے نچلی عدالت کو حکم دیا کہ معاملے کی سماعت جلد از جلد مکمل کرے۔ 
ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے جسٹس ارون مشراء اور جسٹس عبدالنظیر کو بتایا ملزم کو داعش تنظیم کا رکن بتایا گیا ہے جبکہ ملزم کی گرفتاری کے وقت داعش تنظیم پر ہندوستان میں پابندی عائد نہیں کی گئی تھی بلکہ ملزم کی گرفتاری کے تین ماہ بعد مرکزی حکومت نے۱۷؍ فروری ۲۰۱۵ء کو نوٹفیکشن جاری کرکے داعش تنظیم کو ہندوستان میں ممنوع قراردیا تھا جبکہ ملزم کی گرفتاری ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۴ء کو عمل میں آئی تھی لہذا ملزم کی گرفتاری ہی غیر قانونی ہے جس کاسپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہئے۔
ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے عدالت کو مزید بتایا کہ استغاثہ نے ممبئی ہائی کورٹ میں اس بات کا دعوی کیا تھا کہ مقدمہ کی سماعت شروع ہوچکی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پررہا نہیں کیا جانا چاہئے جبکہ حقیقت میں ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باجود ابھی تک صرف ۳؍ سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات کا اندراج خصوصی عدالت میں کرایا ہے جبکہ قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے اس معاملے میں ملزم اریب مجید کے خلاف گواہی دینے کے لیئے ۱۴۷؍ سرکاری گواہوں کو نامزد کیا ہے ۔
سپریم کورٹ نے دفاعی وکیل کے دلائل کی سماعت کے بعد کہا کہ اس معاملے میں بیرونی ممالک کے معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں لہذا بجائے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کو وہ نچلی عدالت کو حکم دیتے ہیں کہ وہ مقدمہ کی جلد از جلد سماعت کرے نیز اگر مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے میں تاخیر ہوتی ہے تو ملزم دوبارہ عدالت عظمی سے رجوع ہوسکتا ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا