ہیتی: تیل کی قیمتوں میں اضافہ کو لے کر عوام مشتعل ،پرتشدد مظاہرے

share with us

ہیتی:10؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)افریقی ملک ہیتی میں حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہیتی کی عوام نے اپنا آپا کھودیا اور جم کر آتشزدگی کی۔ہیتی کی عوام اس وقت مشتعل ہوگئی جب حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔مشتعل عوام نے پورے ملک میں دہشت پھیلادی، لوگوں نے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی، گاڑیاں نذر آتش کر دیں، ہوٹلز، دکانیں، شو رومز لوٹ لیےملک میں ہورہے تشدد اور احتجاجی مظاہرے کے بعد ہیتی حکومت نے تیل کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے کے اپنے فیصلے کو واپس لینے کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے پر تشدد رخ اختیار کیا جس کے باعث سرکاری املاک کا بڑا نقصان ہوا ہے۔دارالحکومت پورٹ یو پرنس میں متعدد مقامات پر چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی ہوئے، مظاہرین نے دارالحکومت کے سب سے مہنگے ہوٹل بیسٹ ویسٹرن پر بھی حملہ کردیا تھا۔ہیتی کے وزیراعظم جیک گائے لوفونٹنٹ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ذریعے تیل پر سبسڈری کم کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ہیتی مغربی ہیمپشائر کا غریب ترین ملک ہے جہاں کی 80 فیصدی عوام دو ڈالر سے کم پر اپنا گزربسر کرتی ہے۔خیال رہے کہ جمعہ کو ہیتی کے تجارتی اور مالیاتی وزیر نے پٹرول کی قیمتوں میں 38 سے 51 فیصدی اضافہ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد وہاں کی عوام مشتعل ہوگئی تھی۔ہیتی میں اگر اضافہ کی گئی قیمتوں کو نافذ کردیا جاتا تو وہاں ایک لیٹر ڈیزل چار ڈالر اور پٹرول پانچ ڈالر کا ہوجاتا۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا