غریبوں کا مفت علاج کریں پرائیویٹ اسپتال: سپریم کورٹ

share with us

نئی دہلی:10؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)سپریم کورٹ نے گذشتہ کل اپنے ایک اہم ترین فیصلے میں کہا کہ حکومت سے رعایت حاصل کرنے والے دہلی کے تمام پرائیویٹ اسپتال غریبوں کا مفت علاج کریں۔ کورٹ کا کہنا ہے اگر پرائیویٹ اسپتال غریبوں کے مفت علاج کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتے ہیں تو ان کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔غریبوں کے مفت علاج کے معاملے میں سپریم کورٹ نے دہلی کے تمام پرائیویٹ اسپتال پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ پیر کے روز عدالت عظمٰی نے کہا کہ حکومت سے رعایت حاصل کرنے والے تمام ہی اسپتال غریبوں کے مفت علاج کا اپنا وعدہ پورا کریں۔ ساتھ ہی کورٹ نے کہا کہ اگر اسپتال غریبوں کا مفت علاج نہیں کریں گے تو اپنے لائسنس کی منسوخی کے لیے تیار رہیں۔
اس سے پہلے این جی او سوشل جیورسٹ کی مفاد عامہ کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے اسپتال کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔ حالانکہ مول چند، سینٹ اسٹیفن، اور سیتا رام بھرتیا جیسے پرائیویٹ اسپتال نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ملک کی سب سے بڑی عدالت کی بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس بنچ میں جسٹس ارون مشرا اور جسٹس عبد النظیر شامل تھے۔جسٹس مشرا نے کہا کہ عدالت اس بات کی نگرانی کرے گا کہ پرائیویٹ اسپتال اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جو اسپتال اپنا وعدہ پورا نہیں کریں گے ان کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ 
     قابل ذکر ہے کہ ان اسپتالوں کو غریبوں کے مفت علاج کی شرط پر سستی شرح پر زمین دی گئی تھی۔ زیادہ تر اسپتال کا کہنا ہے کہ علاج بہت مہنگا ہے اس لیے مفت علاج کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسپتالوں نے علاج کے بجائے  فری کنسل ٹنسی سروس دینے کی تجویز رکھی تھی۔  جسے عدالت نے مسترد کردیا اور مفت علاج کا واضح حکم سنادیا۔ 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا