بحیرہ مردار کے خشک حصوں میں رہائشی منصوبے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں: فلسطین

share with us

مقبوضہ بیت المقدس:09؍جولائی2018(فکروخبر/ذرائع)فلسطین نے بحیرہ مردار کے اطراف میں نئی یہودی رہائشی بستی کی تعمیر کے منصوبے کی وجہ سے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے۔فلسطین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام، 1967 کی سرحدوں کے اندر مقبوضہ فلسطین کی زمین  میں شامل، بحیرہ مردار کے خشک ہونے والے حصوں کو اپنی حاکمیت میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی رہائشی بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں کے دائرہ کار میں اسرائیلی حکومت بحیرہ مردار کے خشک حصوں کو اپنی سرکاری اراضی شمار کرتی ہے۔بیان میں اسرائیل کے مذکورہ منصوبوں کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسرائیل  کی یہ کوششیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اسرائیل کے فلسطین لبریشن تنظیم کے ساتھ کئے گئے سمجھوتوں کی  خلاف ورزیوں کا ایک شاخسانہ ہے۔بحیرہ مردار کے اطراف  کے لئے  اسرائیلی منصوبوں کو عملی شکل دئیے جانے کا سدباب کرنے کے لئے بیان میں بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔اسرائیل کے روزنامہ ہیزرٹ  نے اس سے قبل جاری کردہ خبر میں کہا تھا کہ بحیرہ مردار  کے شمالی حصوں کو سیاحتی مقاصد کے ساتھ ترقی دینے کے لئے اسرائیلی حکومت نے تقریباً 116 ملین ڈالر کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا