سودی قرض کی لعنت  دامن بچائیں تو کیسے ؟ 

share with us


سید فاضل حسین پرویز 

چارمینار کی بلندی سے ایک سودخور نے اک لڑکی کو دھکیل دیا ۔ اس خبر کو میڈیا نے بڑی اہمیت دی ۔ آپ اور ہم نے بھی اس پر افسوس ظاہر کیا ۔ خواتین کی بعض تمظیموں نے مہلوک لڑکی کو بعد از مرگ اس کا حق دلانے اور خطا وار کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوے جلوس بھی نکالے اور صحافتی بیانات بھی جاری کئے ‘ اور پھر بات وہیں ختم ہوگئی ۔ 
قرض خود ایک لعنت ہے ‘ یہ رات کی نیند اور دن کا چین چھین لیتا ہے ۔ مقروض ہمیشہ خود سے اور قرض دار سے شرمندہ رہتا ہے اور اکثر و بیشتر وہ حق پر ہونے کے باوجود حق بات کہہ نہیں سکتا ۔ کیوں کہ قرض کا بوجھ اس کے اعصاب و حواس کو مفلوج کردیتا ہے ۔ اگر قرض وقت پر ادا نہ کیا جاسکے تو اپنے ہی گھر کو منہ چھپا کر آنا پڑتا ہے ۔ اگر خدانخواستہ یہی قرض سودی ہے تو اللہ کی پناہ ۔ یہ ایک ایسا دلدل ہے جس سے بہت کم لوگ نکل پاتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی نحوست ہے جس سے نجات ممکن نہیں ۔ اس کے اثرات پورے خاندان پر پڑتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ہم قرض اور سودی قرض کیوں لیتے ہیں ۔ 
قرض تو عام بات ہے ۔ سرورکونین ﷺ نے بھی حیات مبارک کے دوران قرض لیا تھا ۔ آپ ﷺ نے قرض کی وقت پر ادائگی کی تلقین فرمائی اور مقروض کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید بھی کی ۔ مگر سود سے منع کیا گیا اسے حرام قرار دیا گیا بلکہ سود کھانے والے کو ماں کے ساتھ زنا کرنے کے مماثل قراردیا گیا ۔ ان حقائق سے واقف ہونے کے باجود ہم سودی قرض لیتے ہیں یا اس کے لئے مجبور ہیں ۔ کاروبار کے لئے ‘ شادی ‘ بچوں کی تعلیم یا مکان کی تعمیر یا پھر کسی اور مقصد کے لئے ۔کبھی نہ چاہتے ہوے بھی ناگہانی حالات میں انسان کو اس قسم کا قرض لینے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ نوے فیصد لوگ سودی قرض اس لئے لیستے ہیں کہ وہ اپنی چادر سے زیادہ پیر پھیلانے کے عادی ہوتے ہیں ۔ انہیں قرض حسنہ یا بلاسودی قرض اس لئے نہیں مل پاتا کہ دینے والے بھی ان کی حیثیت اور ان کی ادائگی کی طاقت کا اندازہ کرکے ہی دیتے ہیں ۔ یا پھر ان کا ریکارڈ مشکوک ہو تو بھی عزیز و اقارب ‘ اڑوس پروس یا فلاحی ادارے انہیں بلاسودی قرض نہیں دیتے ۔ یہ ہم میں سے بیشتر کی کمزوری ہے کہ آسانی سے بلاسودی قرض مل جاتا ہے تو ہم ادائگی میں تساہل کرتے ہیں ۔ نرم رویہ اختیار کرنے ولوں کو سلیقہ سے ٹال دیا جاتا ہے ۔ قرض دار گھر کے چکر لگالگا کر تھک جاتے ہیں اور آخر میں میدان حشر میں وصولی کی دھمکی دے کر ایک طرح سے معاف کردیتے ہیں ۔ اگر قرض دینے والا طاقتور ہو ‘ اثرات اور رسوخ کا حامل ہو تو وہ آسانی کے ساتھ اپنا پیسہ وصول کرلیتا ہے کبھی سامان اٹھالیاتو کبھی خاندان کے کسی فرد کو اٹھالینے کی دھمکی دے ڈالی ‘ یا نہیں تو پھر بھری محفلوں میں بے عزتی کردی ۔ جہاں سختی ہوتی ہے وہاں قرض ادا ہوجاتے ہیں ۔ اگر سودی قرض کسی مہاجن سے یا نام نہاد مسلم سودخور سے لیا جاے تو سمجھ لینا چاہئے کہ عزت کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی کوئی پراپرٹی گروی ہے تو وہ ہر قیمت میں آپ کے ہاتھ سے چلی گئی ۔ سودخور کی نظر آپ کی پراپرٹی پر ہے تو وہ آپ کو مہلت دے گا ۔ آپ سے ابتداء میں نرم رویہ اختیار کرے گا ۔ اور جب آپ قرض ادا کرنے کے قابل نہ رہیں گے تو قرض او رسود کے عوض آپ کی پراپرٹی ہڑپ کرلے گا ۔ ہم میں سے کئی ایسے ہیں جو اپنی اچھی خاصی جائیدادوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اگر سودی قرض بنک کے توسط سے لیا جارہاہے اور آپ میں اس کی ادائگی کی اہلیت ہے تو ٹھیک ہے ورنہ بنک بھی آپ کی پراپرٹی نیلام کرکے اپنی رقم وصول کرلیتا ہے ۔ آج کل تو بنکس کی جانب سے زبردستی قرض دئے جارہے ہیں ۔ ٹیلی مارکٹنگ کے ذریعہ مختلف زمروں کے تحت قرض دینے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ قرض لینا بہت آسان ہوگیا ۔مگر ادائگی کے وقت دانتوں تلے پسینہ آجاتا ہے ۔ خانگی بنکوں نے قرض کی وصولی کے لئے علحدہ اسٹاف رکھا ہے جو غنڈوں سے کم نہیں ۔ یہ سر بازار آپ کی عزت نیلام کرسکتے ہیں ۔ آپنے کار کے لئے لون لیا ۔ دو اقساط ادانہیں کیں‘ ۔ آپ بڑی شان سے اپنی کارمیں معہ فیملی کہیں جارہے ہیں یا آرہے ہیں ‘ راستے میں بنک کا ری کوری اسٹاف آپ کاراستہ روک لیتا ہے ۔ کار سے باہر نکال کر کار ساتھ لے جاتا ہے ۔ اور آپ اپنی ہی فیملی کی نظروں سے گرجاتے ہیں ۔ آپ کی شرافت اور ریکارڈ سے متاثر ہوکر آپ کے دوست یا رشتہ دار قرض حاصل کرنے کے لئے مروت میں ضامن بن جاتے ہیں ‘ خدانخواستہ کسی وجہ سے آپ قرض کی اقساط ادا نہیں کرپاتے ہیں تو بنک کی جانب سے قانونی نوٹس ان ہمدردوں کے نام جاری ہوجاتی ہے اور وہ زندگی میں دوبارہ ہمدردی نہ کرنے کا عہد کرلیتے ہیں ۔ 
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ کسی نہ کسی وجہ سے ہم سودی قرض کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم آپس میں بے مروت اور بے حس ہوتے جارہے ہیں ۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ ختم ہونے لگاہے ۔ نفسانفسی کا عالم ہے ۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرنے کی بجاے اس کے مقابلہ میں اپنے معیار زندگی کو زیادہ بلند کرنا چاہتا ہے ۔ خاندان کے امیر رشتہ دار غریب اور مستحق کی مدد کرنا نہیں چاہتے ‘ کیوں کہ اس سے ان کی امیری کو خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ ہاں دکھاوے کے لئے چندے اور عطیات بہت دیتے ہیں ‘ مگر بھانجے اور بھتیجے کی اعلی ٰ تعلیم کا مسئلہ ہو یا خاندان کی غریب لڑکویں کی شادی کا مسئلہ ان پر توجہ نہیں دی جاتی ۔ پہلے بیت المال سے قرض حسنہ کی سہولت تھی مگر اب بیت المال کے ذمہ داروں کے لئے یہ رقم کافی نہیں ہوتی ۔ بہت ساری مسلم تنمظیمیں اسلامی ممالک سے یا این آرآیز سے چندے اکھٹا کرتی ہیں کہ وہ اس سے مسلمانوں کو سودی قرض سے نجات دلایں گی ‘ افسوس کہ یہ تنظیمیں ان عطیات او رچندوں کا غلط استعمال کرتی ہیں ۔ اگر محلہ واری خطوط پر بیت المال بناے جایں اور مستحق افراد کو بلاسودی قرض دیا جاے اور مقروض ایمانداری کے ساتھ یہ قرض ادا کردے تو کچھ عجب نہیں کہ کم از کم مسلم معاشرہ کے غریب افراد سودی قرض کے دلدل سے نجات حاصل کرسکیں گے ۔ 
اگر معاشرہ میں سودخوروں کے ہاتھوں کوئی پریشان ہورہا ہے تو اہل ثروت حضرات مل کر اس کی مدد کریں ۔ اجس سے دنیا اور آخرت میں انہیں اجر ملے گا ۔ 
مجموعی طور پر ہم حتی الامکان کوشش کریں کہ پیر کو چادر کے اندر ہی رکھیں ۔ اگر مجبوری ہو تو جلد سے جلد ادا کرنے کی کوشش کریں ۔ 
(مضمون نگار کی رائے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ) 
09؍جولائی2018(ادارہ فکروخبر)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا