ہندوتوا کی حمایت میں بیانات، بی جے پی کے شیعہ رہنماؤں کے مقاصد کیا ہیں؟

share with us

سنہ 2014 کے عام انتخابات اور 2017 میں اتر پردیش کے اسبملی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اگرچہ کسی مسلمان کو انتخابی مقابلہ کے لیے ٹکٹ نہ دیا ہو، لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس پارٹی میں مسلم برادری کے لوگ نہیں ہیں۔ہندوتوا وادی نظریات پر مشمتل بھارتیہ جنتا پارٹی کے مسلم رہنما کبھی کبھی ہندوتوا کے تئیں اتنے جذباتی اور پرجوش ہوجاتے ہیں کہ بسااوقات پارٹی خود مصیبت میں پھنستی نظر آتی ہے۔

حالیہ مثال بھارتی ریاست اتر پردیش کے ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور  محسن رضا کا ہے۔محسن رضا نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہاتھا کہ 'اب مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو کرتا۔پاجامہ کی جگہ پینٹ۔شرٹ پہننا ہوگا'۔محسن رضا کے اس بیان کی کافی تنقید ہوئی، اس کے بعد بی جے پی نے اس بیان سے اپنا دامن کھینچ لیا۔

محسن رضا اس سے قبل بھی کئی ایسے متنازع بیانات دے چکے ہیں جو عام طور پر بی جے پی میں سخت نظریات کے حامل رہنما بھی نہیں دیتے۔اترپردیش حج ہاؤس کو جب زعفرانی رنگ سے رنگا گیا تھا تو اسے محسن رضا نے امن اور ترقی کی علامت قرار دیا تھا۔

حالانکہ اس قطار میں صرف محسن رضا ہی اکیلے نہیں ہیں۔سماج وادی پارٹی کی طرف سے ایم ایل سی رہ چکے اور فی الحال بی جے پی کے ایم ایل سی بکل نواب بھی اکثر کچھ نہ کچھ ہندتوا وادی نظریات پر مشتمل بیایات دیتے رہتے ہیں۔ وہ کبھی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ کے طور پر بڑی رقم دینے کا اعلان کرتے ہیں اور تو کبھی مندر پہنچ کر گھنٹی بجاتے ہوئے تصویر کھینچواتے ہیں۔اسی صف میں شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین وسیم رضوی کا بھی شمار ہوتا ہے۔ اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے سے پہلے وہ سماج وادی پارٹی کے لیڈران سے کافی قریب تھے اور اسی وجہ سے انہیں شیعہ وقف بورڈ میں چیرمین کاعہدہ ملا تھا۔

وسیم رضوی کبھی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے مسلمانوں کو مسجد کا دعوی چھوڑ دینے کی صلاح دیتے ہیں اور کبھی پارٹی بناکر اسے ہندؤں کے حوالےکرنے کی بات کرتے ہیں۔اسی طرح وسیم رضوی نے ایک بار کہا تھا کہ مدارس میں انتہا پسندی کی تعلیم ہوتی ہے۔اس طرح کے  لوگوں کی فہرست لمبی ہے اور زیادہ تر لوگ شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی اور آر آر ایس کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں وہ کام بھی کر رہے ہیں، لیکن جو لیڈر آئے دن ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں، اس سے بسااوقات پارٹی کو خفت اٹھانی پڑتی ہے۔

آر آر ایس نے مسلمانوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے باقاعدہ 'مسلم راشٹریہ منچ' بنا رکھا ہے۔لیکن عام سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان بیانات کے پش منظر مقاصد کیا ہیں؟ کیا انتہائی جذبات میں دیے جاتے ہیں یا پھر ذاتی فائدہ کے لیے؟ یا پھر اعلی کمان کی طرف سے ہدایات ملتے ہیں یا پھر کوئی اور وجہ ہے؟ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ مسلم برادری میں ایسے لوگوں کی بات ماننے والے کتنے لوگ موجود ہیں؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مشہور تاریخ داں پروفیسر علی خان محمودآباد کہتے ہیں، 'ان تینوں ہی لیڈران کا انتخاب بی جے پی نے کیا ہے،عوام نے نہیں، ایسے میں ان کے بیانات سیاسی مقاصد اور فائدہ کے حصول کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں''۔کیا شیعہ برادری میں بی جے پی کے لیے حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے؟ اس سوال پر پروفیسر علی خان محمودآباد کہتے ہیں کہ انتخابات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ دراصل ایسی سوچ کو پھیلانا مسلم سماج میں مزید تقسیم کی عکاسی کرتا ہے'۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سینئیر صحافی سبھاش مشرا کہتے ہیں، '' ان میں سے کوئی لیڈر عوام سے منسلک نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہنا قطعی غلط ہوگا کہ ان کی باتوں کا مسلم سماج میں کوئی اثر پڑتا ہے۔وسیم رضوی اکثر اس طرح کا بیان شیعہ وقف بورڈ کے نام پر دیتے ہیں، لیکن بسااوقات بورڈ کے دوسرے اراکین اس طرح کے بیانات کو خارج کر چکے ہوتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ان تینوں رہنماؤں کو بی جے پی حمایت سے کیا فائدہ مل رہا ہے؟محسن رضا پہلے پارٹی کے ترجمان تھے، اب اتر پردیش میں حکومت قائم ہونے بعد وزیر بنا دیے گئے ہیں۔وہیں بی جے پی موافق بیانات کی وجہ سے وسیم رضوی کی چیر مین کی کرسی برقرار ہے۔ بکل نواب پر اربوں روپے کی زمین خرد برد کا الزام ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق لکھنؤ کے مشہور صحافی شرد پردھان کہتے ہیں، ''حکومت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کے نظریات بھی بدل جاتے ہیں، وسیم رضوی اور بکل نواب بھی انھیں لوگوں میں ہیں''۔جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو پارٹی عام طور پر ایسے بیانوں سے خود کو الگ رکھتی ہے، لیکن جو بیان اسے مناسب معلوم ہوتا ہے، ایسے بیان کو بی جے پی مسلم برادری کی پارٹی کے تئیں رخ بدلنے کی کوشش کے طور پر پیش کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے بی جے پی کو سیاسی فائدہ ہو نہ ہو، لیکن فائدے کا ماحول بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ) 

08/جولائی2018(ادارہ فکروخبر)

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا