اپنی بچی کو لے جارہے باپ پر ہی ہجوم نے اغوا کار سمجھ کر کیا حملہ 

share with us

 

اڈپی 07؍ جولائی 2018(فکروخبر نیوز) سوشیل میڈیا پربچوں کے اغوا کی جانے والی بعض بے بنیاد خبروں کی وجہ سے اب حقیقی باپ بھی اپنے بچوں کو لے جانے سے کترارہے ہیں اور ان کے لیے بھی اب پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ بے قابو بھیڑ اب بنا تحقیق کیے ہی حملہ آور ہوجاتی ہے اور پولیس کی موجودگی میں بھی یہی بے قابو بھیڑآپے سے بھی باہر ہوجاتی ہے ۔ اس طرح کا ایک واقعہ اجیرے میں پیش آیا جہاں ایک باپ اپنے ایک سالہ بچی کو رکشہ میں لے جانے کے دوران بھیڑنے اس پر حملہ کردیا۔ متأثرہ کی شناخت محمد خالد کی حیثیت سے کرلی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص اپنی ایک سالہ بچی کو رکشہ پر لے جارہا تھا، اس دوران بچی کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ وہاں بائک سے گذرنے والے دوافراد نے اغوا کار سمجھ کر فوری طور پر رکشہ روک لی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں لوگ وہاں جمع ہوگئے اور رکشہ سے اتار کر زبردستی اس کی پٹائی شروع کردی ۔ وہ کہتا رہا کہ میں اس بچی کا باپ ہوں لیکن اس کی کسی نہ نہیں سنی اور اسے بری طرح زدوکوب کیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس بھی وہاں پہنچی جس نے بڑی مشکل کے بعد خالد کو بھیڑ سے الگ کیا۔پولیس کے بیچ بچاؤ کے بعد بھی کچھ لوگ خالد پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کرنے لگے۔ پولیس اسے تھانہ لے گئی اور تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ خالد اسی بچی کا باپ ہے جس کو وہ لے جارہا تھا۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا