آ ل انڈیا ادب اطفال سوسائٹی کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ’’ ادب اطفال دورِ حاضر ۔ رجحانات وامکانا ت

share with us

آل انڈیا ادب اطفال سوسائٹی کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ’’ ادب اطفال دورِ حاضر ۔ رجحانات وامکانا ت 30جون ویکم جولائی2018 ؁ء بروز سنیچر واتوار غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین نئی دہلی میں منعقد ہوا ۔ سیمینار پر ماہنامہ ’’ پھول ‘‘ بھٹکل کے ایڈیٹر مولانا عبداللہ دامدا ابو ندوی نے اپنے احساسات کچھ یوں بیان کیے۔ (ادارہ ) 

 

از : مولانا عبداللہ دامدا ابو ندوی

پھول کا سفر آج ہمیں جنوبی ہندوسان سے بہت دور راجدھانی دہلی کی طرف لے گیا۔۔۔اس اجڑے دیار نے نہ جانے کتنے عروج و زوال دیکھے ہوں گے اور کتنی ہی حکومتوں کے چراغ گل ہوتےدیکھے ہوں گے۔۔اس آباد ویرانے میں علم و ادب کی کتنی شمعیں روشن ہوئی ہوں گی ، کتنے ہی سلاطین و ملوک کا اقبال بلند رہا ہوگا اور نہ جانےدہلی کی خاک میں علوم وفنون کے کتنے ہی موتی دفن ہوئے ہوں گے۔۔

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی اس آخری آرام گاہ میں پھول کا قافلہ ایک نئے عزم و ارادے اور ایک نئے جذبے اور حوصلے سے سرشار ہوکر داخل ہوا۔۔سراج عظیم صاحب اور ان کے ساتھیوں نے دوروزہ سمینار خوبصورت انداز سےترتیب دیا تھا۔۔اس سمینار میں جہاں ایک طرف ملک کے دانشوران اور قومی و ملی اسکول، یونیورسٹی اور اداروں کے ذمہ داران تھے وہیں دوسری طرف ادارہائے ادب اطفال کے سکریٹریان اور بچوں کے رسائل کے ایڈیٹران بھی موجود تھے۔۔۔
غالب اکیڈمی میں ہوئے افتتاحی اجلاس میں ملک کے نامور لوگوں نے ادب اطفال کی موجودہ صورتحال، اس کو درپیش مسائل اور مستقبل کے امکانات پر اظہار خیال فرمایا۔۔مقالات و تاثرات جامع اور معلومات سے پُر تھے۔۔انداز نگارش بھی خوب اور انداز بیاں بھی دلچسپ تھا۔۔اسی دوران میں ہمارے کرم فرما،مدیر اچھا ساتھی بجنور مولاناسراج الدین ندوی بھی محفل میں رونق افروز ہوئے۔۔۔

مثل پروانہ فدا ہر ایک کا دل ہوگیا
یار جس محفل میں بیٹھا،شمع محفل ہوگیا

کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر حسین خاں صاحبؒ(جو وقت کے صدر جمہوریہ ہند اور چوٹی کے ماہر تعلیم تھے) بچوں کے ایک جلسے کی صدارت فرمارہے تھے،کسی خادم نے کان میں آکر کچھ کہا۔جس سے ذاکر حسین صاحب کی کیفیت بدل گئی، پھر لمحہ بھر میں وہ اپنی پہلی والی کیفیت پرآگئے اور آخر تک بچوں کے اس جلسے میں بیٹھے رہے۔جلسے کے بعد پتہ چلا کہ کان میں ان کی بیٹی کی وفات کی خبر سنائی گئی تھی۔
لیکن انھوں نے اس بات کو گوارہ نہیں کیا کہ اپنےذاتی غم پر بچوں کی خوشیاں قربان ہوں۔۔ہم نے ادب اطفال ٹرسٹ دہلی کے سمینار میں ایک ایسی ہی مثال مولانا سراج الدین ندوی کی شکل میں دیکھی،گزشتہ ماہ مولانا سراج الدین ندوی صاحب کے دو صاحبزادوں کا ایک سڑک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا،دوجوان بیٹوں کی جدائی کا غم اور تیسرا بھی شدید زخمی اور زیر علاج۔۔ اس انتہائی اندوہناک صورتحال میں بچوں کے ادب پر،بچوں کی تربیت پر،بچوں کے روشن مستقبل کے لیے جمع ہونے کا حوصلہ۔۔واقعی قابل صد تعجب تھا۔۔۔

اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں

اسی شب مولانا محترم نے اپنے مرحوم بیٹے کے نئے فلیٹ پر جس خندہ روئی اور شگفتہ دلی کے ساتھ پھول وفد کا استقبال کیا اور جس محبت اور اپنائیت کا سلوک کیا اس سے مولانا کی عقیدت اور محبت میں مزید اضافہ ہوا۔۔مولانا کی پرتکلف دعوت اور دیر رات تک ان کی محفل خوب رہی۔۔۔
وہ سلامت رہے ہزار برس
کنوینر اجلاس سراج عظیم صاحب بظاہر ایک چھریرے بدن والے دھان پان شخص ہیں لیکن انھوں نے جس حوصلے اور ہمت سے تمام امور کو بحسن و خوبی انجام دیا وہ قابل داد ہے۔۔
اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی پھول کے متحرک ذمہ داران ریاض الرحمن ندوی اور محمد سعود ندوی نے بعض اہم شخصیات سے پھول کا تعارف کروایا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہر ایک رسالے سے متعارف ہوا اور ہر کوئی اپنی تقریر میں پھول کے معیار اور ادارہ ادب اطفال کی کوششوں کو سراہنے لگا۔۔خصوصاچانسلر مولانا آزادیونیورسٹی حیدرآباد جناب فیروز بخت صاحب،سابق وائس چیرمین اردو اکیڈمی دہلی محترم خالد محمود صاحب اور اردو دنیا کے مشہور مجلے سائنس کی دنیا کے ایڈیٹرجناب محمد خلیل صاحب پھول سے کافی متاثر نظر آرہے تھے ۔۔۔۔
دوسرے دن ہیبسنس عمارت کے خوبصورت زیریں ھال میں عزیز دوست اور پھول کے اہم رکن محمد سعود کی تلاوت سے کانفرنس کاآغاز ہوا،جس میں کئی کتابوں کی رونمائی مہمان خصوصی مشہور ادیب ، دانشور و مٶرخ پدم شری پروفیسر اختر الواسع صاحب۔۔۔(صدر مولانا آزاد یونیورسٹی جودھ پور۔۔۔)کے ہاتھوں عمل میں آئی۔۔پھول سے خصوصی نسبت رکھنے والے جناب رونق جمال صاحب کی ایک کتابسانپوں کی دنیا بھی منظر عام پر آئی۔۔
مہمان خصوصی پدم شری جناب اختر الواسع صاحب کی بہت سی اچھی باتوں میں ایک بات ہمیں بہت اچھی اور گرہ میں باندھنے کے قابل معلوم ہوئی۔انھوں نے فرمایا: چارچیزوں سے وابستگی پیشہ ورانہ یا پیٹ کے لیےنہیں ہونی چاہیے: *مذہب،ماں،ملک اور مادری زبان۔۔
جی چاہتا ہے کہ کسی خوش نویس کو بلاکر یہ چھوٹی سی عبارت ملک کےتعلیمی اداروں کے درودیوار پر آب زر سے نقش کردوں۔۔
سمینار کےدونوں دن ہمیں محسوس ہوا کہ ادب اطفال کے حوالے سے بعض لوگ گہری مایوسی کا شکار ہیں،کچھ لوگ اردو کے تحفظ کے لیے پریشان ہیں اور کچھ ادب اطفال کے مستقبل کی طرف سے فکرمند ہیں۔۔
مجھے دوسری نشست میں پھول کی نمائندگی کا موقع ملا۔ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کے اس گہوارے میں اردو کی صورتحال کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے میں نے کہا کہ : اردو کے نام پر چلنے والے ادارے اور اردو اکیڈمیاں اردو کے ساتھ جس طرح کا ناروا سلوک کررہی ہیں تاریخ اس کو کبھی فراموش نہیں کرےگی،اردو اداروں کےبینرس اور اعلانات ہندی،انگریزی اور دیگر زبانوں میں نشر ہورہے ہیں یہاں تک کہ اردو مشاعروں کے بینرس تک ہندی اور انگریزی میں لکھے جارہے ہیں۔۔جب چائنا والے اپنی چینی زبان پر فخر کررہے ہیں،جاپان والے اپنی جیپنس زبان پر فخر کررہے ہیں اور اپنی زبانوں میں ڈاکٹر،انجینئر اور ڈگری ہولڈر بن رہے ہیں تو ہم اردو والے اپنی زبان کوکیوں محدود کررہے ہیں بلکہ حد یہ ہے کہ اکثر اردو کے دانشوران اپنی مادری زبان میں علمی گفتگو کرنے تک کو معیوب سمجھتے ہیں۔۔میں نے پھر پھول کی کوششوں اور بچوں کے اس سے لگاٶ کے بارے میں پرجوش انداز میں بتاکر اقبال کی زبانی اشارہ دیا کہ
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیزہے ساقی
لوگوں نے دوران کلام ہی میں بڑے پُرجوش تاثر کا اظہار کیا،مجھ نووارد کی بات بات پر ھال تالیوں سے گونج اٹھتا۔ اس موقع پر ہمارے کرم فرما رونق جمال صاحب نے ہاتھ اٹھا کر تائید کی۔۔۔۔
اسٹیج پر بیٹھے مہمانوں نے اپنے تاثرات میں حقائق کا اعتراف کیا اور پھول کی اس سرگرم تحریک کو سلام کیا۔۔۔
سمینار کے بعد ہر ایک نے انفرادی ملاقاتوں کے ذریعےپھول ٹیم کو خصوصی مبارکبادی دی اور اس مشن میں اپنےتعاون کی یقین دہانی کی۔۔کئی مٶقر مندوبین نے رسالوں کو جاری کرکے مزید حوصلہ بڑھایا۔۔
الغرض یہ دوروزہ خوبصورت کانفرنس پھول کے لیے اردو دنیا میں وسیع پیمانے پر تعارف کا ذریعہ رہی اور چلتے چلتے یہ پیغام دے گئی کہ: 

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

گئے دن کہ تنھا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

بچوں پر کام کرنے والے اور بچوں کے رسالے شائع کرنےوالے اپنی ناقدری پر ماتم کرنے یا شکایت کرنے کے بجائے چند اصولوں کی پابندی کریں تو یقین ہے کہ رسالہ ترقی کی منازل طے کرے گا:

(١)رسالہ مفت تقسیم نہ کریں..ذمہ داران بھی اس سے مستسنی نہیں ہیں۔۔
(٢)رسالے والے بچوں کو جوڑنے والے طریقے اپنائیں۔اور رسالے کے چھوٹے موٹے کام ان ہی کے ذمے کریں۔۔
(٣)بچوں کی ایک جماعت(ٹیم) بنائیں اور اس کا امیر بھی بچے کو بنائیں۔۔
(٤)اردو کےتحفظ کے لیے بچوں کی لائبریریاں ترتیب دیں۔جس میں صرف اور صرف بچوں کے معیار کی کتابیں ہوں۔
(٥)رسالہ رنگا رنگ ہوں،کم ازکم چار رنگ ہوں۔۔سادھے اوراق سے نئے دور کے بچے وحشت محسوس کرتے ہیں۔۔۔
(٦)جدید ٹیکنالوجی اور وسائل پر بھی آپ کی دسترس ہوں اور بچوں کا ادب برقی ذرائع سے بھی پھیلانےکی کوشش کریں۔۔
(٧)وقتا فوقتا علاقوں کی تعلیمی انجمنوں اور اداروں کے دورے کرکے رسالے کا تعارف کرائیں۔۔
(٨)بچوں میں مختلف مقابلے کرائیں۔
(٩)بہترین تحریر پر انعامات دیں۔۔سال میں ایک دفعہ صرف ایوارڈ تقریب کا انعقاد کریں۔۔
(١٠)رسالوں میں موجود کہانیوں میں تربیتی مواد اس طرح دیں کہ بچہ کہانی کا لطف بھی لیں اور تعلیم و تربیت کا مسئلہ بھی حل ہوجائے۔۔۔۔


عبداللہ دامداابو بھٹکلی
چپلون ۔منگلہ ایکسپریس 

پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا