بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی! 

share with us

تحریر:انل چمڑیا 

 ترجمہ:نایاب حسن

راشٹریہ سویم سنگھ کااصل ہتھیارہے پرچاراورپرچارکے ذریعے اپنے مقابل کوگھیرنا،اسے پست کرنا، مجھے یادہے کہ صحافت کی کلاس میں میرے سامنے دوطالب علم آئے، جوخودکوبدلنے کے لیے بے چین نظرآتے تھے، وہ خودکہتے تھے کہ کلاس میں دوسرے طلباجوکچھ کہتے ہیں، وہ اچھااورمعقول لگتاہے؛ لیکن نہ جانے کیوں آخرکارہمیں وہی باتیں اچھی لگتی ہیں، جن کی ہمیں تربیت دی گئی ہے، سیاسی اصطلاح میں انھیں ردعمل کی ذہنیت رکھنے والے یاانتہاپسندکہاجاسکتا ہے، مگر یہ تعبیرشاید ان کی ’’راشٹر ‘‘کی تعبیرکی مکمل تصویرکشی نہیں کرتی،پورے نوماہ کی ٹریننگ کے دوران میں نے یہ محسوس کیاکہ وہ دونوں طالبِ علم دیس، دنیاکی چاہے جتنی بھی باتیں کرلیں، مگر آخرکاروہ اپنے اسی بنیادی نظریے کے اردگردپہنچتے ہیں، وہ نظریہ ثبوتوں اورمعقول دلائل کی بنیادپرقائم نہیں ہوتا، وہ محض ایک خیال ہوتاہے اوراس میں ادھرادھرکی چیزیں داخل کی گئی ہوتی ہیں، ایک استاذکے ناطے مجھے یہ فکرتھی کہ اس عمرمیں ایسی دماغی تنگی کیسا ’’راشٹر ‘‘ بنائے گی؟ممکن ہے کہ آیندہ کبھی ان کے ہاتھوں میں اس ملک کی باگ ڈورہو،تب اس ملک کانقشہ کیاہوگا؟
دوسراواقعہ مجھے یادآتاہے کہ جب این ڈی ٹی وی انڈیاکے اینکرروش کمار نے مدھیہ پردیش کے ایگزام گھوٹالے کے معاملے پرایک پروگرام کے دوران بتایاتھاکہ اس گھوٹالے کے شکارہونے والے لوگوں میں وہ بھی تھے، جوسنگھ کے حامی خاندانوں کے رکن تھے؛ لیکن ایسے بچوں کے گارجین کواس گھوٹالے میں صرف یہ نظرآیاکہ یہ گھوٹالہ سنگھ کے نظریے کوبدنام کرنے کی سازش کاحصہ ہے ۔ 
آرایس ایس والوں اورعام سماج سے مکالمے میں فرق:
باہمی گفت وشنید ایسے لوگوں کے لیے کسی مسئلے کے حل تک پہنچنے کاایک راستہ ہے، جو اس عمل کواہمیت دیتے ہیں، جہاں یہ طے کرلیاجائے کہ جو میرا نظریہ یاخیال ہے، وہی سماجی قدراوراصل ملکی تہذیب ہے، توایسے میں مکالمے کاعمل محض ایک ڈھونگ ہوگا،حالیہ پروگرام کے دوران سنگھ سربراہ نے اپنے ہندوراشٹرکے ارادوں میں کسی ترمیم و تنسیخ کا اظہار نہیں کیا، اس کے حوالے سے انھوں نے وہی کہا، جتنا آج کے ہندوستان اورہندوستانی سماج میں عمومی طورپرکہنے کی گنجایش دستیاب ہے،سنگھ کی سترسالوں کی تاریخ میں ایسے موقعے پرکی جانے والی تقریروں کامطالعہ کریں، تویہ تجزیہ کیاجاسکتاہے کہ صرف اپنے رضاکاروں اورسماج کے دوسرے طبقات کے درمیان کی جانے والی تقریروں میں کتنابنیادی فرق ہوتاہے، سنگھ سربراہ نے کہاکہ پرنب مکھرجی جوہیں، وہ ہیں اوروہی رہیں گے، ٹھیک اسی طرح سنگھ جیساہے، ویساہے اورویساہی رہے گا، سنگھ اپنے مقاصدکے حصول کے لیے جلدبازی میں نہیں ہے، وہ ہندوستانی سماج کے مزاج کوبدلناچاہتاہے؛ اس لیے آہستہ آہستہ ہرموقعے کی منصوبہ بندی کرتاہے؛ تاکہ وہ سماج کے ان حصوں میں پہنچنے کی کوشش کرے، جہاں تک وہ پہلے نہیں پہنچ سکاہے، وہ اپنے ہردستیاب موقعے کااستعمال اپنے ہندوراشٹرکے مقصدکوپوراکرنے میں کرناچاہتاہے۔ 
یہ دانش ورانہ بحث مباحثے کاحصہ ہوسکتاہے کہ گاندھی، سردارپٹیل اوردوسرے نمایاں لوگوں نے سنگھ کے بارے میں کیاکچھ کہا؟ اورسنگھ کی سرگرمیاں کیارہی ہیں؟مگر وہ خود اس معاملے میں پختہ ذہن ہے کہ اسے اپنے ہندوراشٹرکے قیام کے عزائم کوپوراکرناہے، سنگھ کا’’ہندو‘‘ایک سیاسی خیال / نظریہ ہے، جوعام دانش کی سطح پر ہندوکے لیے مستعمل معنی اورہندوستانی تہذیب کی تاریخی تعبیرسے بنیادی طورپرمختلف ہے ۔ 
مکھرجی کی تقریرکانفسیاتی جائزہ:
پرنب مکھرجی کواپنے یہاں مدعوکرکے سنگھ نے اپنے عزائم کی بھی وضاحت کردی اورپالیسی کی سطح پر ہندوستانی سماج کے اُس حصے میں اپنی ایک لچک دارشبیہ بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جواسے کسی اورنظریے سے دیکھتاہے، اس بات کاتصورکریں کہ اگرپرنب مکھرجی سنگھ کے مرکزمیں اس کے سربراہ کے بغل میں نہ بیٹھتے،توکیاسنگھ سربراہ کوہندوستانی سماج کے ایک مؤثرطبقے کے بیچ اپنے آپ کواس طرح پیش کرنے کاموقع ملتا؟ یہ بھی تصورکریں کہ اگرسنگھ
سربراہ نے پرنب مکھرجی کے بعد اپنا ’’امرت وچن‘‘پیش کیاہوتا، تووہ کتناسناجاتا؟ تشہیرکے اصول اورطریق ہاے کارنہایت گہرے اوردوررس ہوتے ہیں، اس کی سطحیں اس طرح تیارکی جاتی ہیں کہ دوسطحیں مل کر چارکی طاقت حاصل کرلیں۔ 
پرنب مکھرجی نے ایسے لوگوں کے سامنے اپنی لچک دارشبیہ پیش کرنے کی کوشش کی، جواپنے فیصلوں اورعزائم کی انتہاؤں پراڑے ہوئے ہیں، یہ ایک ہندوکی معتدل شبیہ نہیں تھی؛ بلکہ ہندوتو کوقبول کرنے جیساتھا، سنگھ کے ہیڈکوارٹرپرپرنب مکھرجی یہ کہنے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے کہ گاندھی کے قتل میں سنگھ کاہاتھ تھا، برطانوی حکومت کے خلاف اس کی کوئی سرگرمی نہیں تھی اوراس نے ہندوستانی دستوراورترنگے کوقبول نہیں کیا تھا،انھوں نے دستورکاایک حصہ سنایا؛ لیکن ڈاکٹرامبیڈکرکاذکرنہیں کیا، دورانِ تقریرپرنب مکھرجی کے چہرے پربے اطمینانی کی جولکیریں نظرآرہی تھیں اورجتنازور دے کر وہ’’راشٹر‘‘،’’راشٹرواد‘‘ اور’’راشٹربھکتی ‘‘کے معانی بتارہے تھے، وہ دراصل ان کے اپنے اندرگونجنے والی آوازکودبانے کی کوشش تھی، پرنب مکھرجی کوایک بیٹی کے ناطے شرمشٹھامکھرجی نے درست کہاہے کہ آیندہ ان کی تقریرلوگوں کویادنہیں رہے گی، البتہ ان کی تصویریں یاد رہیں گی، جس طرح سنگھ جے پرکاش نارائن کانام لے کر اپنی انتہاپسندیوں اوربنیادی عزائم کوچھپانے میں کامیاب ہوتارہاہے، اسی کڑی میں اب ایک نام پرنب مکھرجی کابھی جڑگیاہے ۔ 
پرنب مکھرجی نے سنگھ کواورسنگھ نے غیرسنگھیوں کوخطاب کیا:
پرچارکاایک اصول یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی سٹیج سے کی جانے والی تقریروں سے زیادہ اہم خودسٹیج ہوتاہے،سٹیج اگراپنے بھکتوں کاہو،تووہاں سبزی نہیں بیچی جاسکتی ہے، سنگھ کاسٹیج ہی ایک پیغام تھااورپرنب مکھرجی کی انگریزی تقریرکی کوئی معنویت نہیں تھی، وہ ڈھائی ہزارسال قبل کی تاریخ کی ورق گردانی کررہے تھے، اُس تاریخ کی، جسے سنگھ اپنے طورپرپہلے ہی لکھ چکاہے،موہن بھاگوت کسی تناؤکاشکارنظرنہیں آرہے تھے؛ کیوں کہ ان کے ارادے واضح تھے اورانھوں نے سویم سیوکوں پریہ صاف کردیاتھا کہ پرنب مکھرجی کی تقریرسن کرکسی بھرم کاشکارہونے کی ضرورت نہیں ہے!

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 
18جون 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا