بھٹکل اور منگلور کے درمیان چلنے والی سرکاری اے سی بسوں کے اضافہ کے خلاف یادداشت پیش 

share with us

 

کرایہ 200 سے بڑھا کر 250 کردیا گیا  : عوام اضافہ کو لے حیران وپریشان 

بھٹکل 13؍ جون 2018(فکروخبر نیوز) کرناٹکا سوابھی مانی کرانتی سنگھا کی جانب سے منگلورو بس اڈے کے مینیچر کے نام ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھٹکل اور منگلور کے درمیان چلنے والی اے سی بسوں کے کرایوں کے حالیہ اضافہ کو ختم کیا جائے۔ یاد رہے کہ بھٹکل اور منگلو رکے درمیان اے سی بسیں چلتی ہیں جس کا کرایہ نارمل بسوں کے مقابلہ میں زیادہ ہی ہے لیکن اب اس کے کرایہ میں اضافہ کرتے ہوئے 200سے 250روپئے کیے گئے ہیں۔ مذکورہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس اضافہ سے عام عوام پر بہت ہی برا اثر پڑے گا ۔ خصوصاً ڈاکٹروں کے پاس جانے والے حضرات کے لیے ان بسوں کے اوقات بہت ہی مناسب ہے۔ اب کرایہ میں اضافہ کی وجہ سے اس پر عام عوام کا سوار ہونا دشوار ہوجائے گا۔ اسی طرح مریضوں کا منگلورو تک کا سفر بڑی آسانی کے ساتھ ہوا کرتا تھا لیکن اب کرایہ کے اضافہ کے بعد مریض بھی ان بسوں پر سواری کرنے کے لیے سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے ہی اس روٹ پر نجی بسیں زیادہ ہونے کی وجہ سے عوام اسی پر سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس طرح اچانک اس بڑے اضافہ کے بعد خدشہ اس بات کا ہے کہ عوام سرکاری بسوں پر بہت کم سواری کریں گی جس سے حکومت کا بڑا نقصان ہوجائے گا اور یہ بسیں بے کار ہوجائیں گی۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا