کیا سعودی خواتین کار کے بعد موٹرسائکلز بھی چلائیں گی ؟

share with us

ریاض:12؍جون2018(فکروخبر/ذرائع))ایک سال قبل تک سعودی خاتون کو چست جینز اور ہارلے ڈیوڈسن ٹی شرٹ پہنے ریاض سپورٹس سرکٹ میں موٹربائیکس چلاتے دیکھنے کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔لیکن 24 جون سے خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر عائد پابندی کے ختم ہونے سے قبل ہی کئی خواتین موٹرسائکلز سکھانے والے نجی ادارے (بائیکرز سکلز انسٹیٹیوٹ) میں ہر ہفتے داخلہ لے رہی ہیں،تاکہ موٹر سائیکل چلانا سیکھ سکیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو مردوں سے بہت سے معاملات میں اجازت درکار ہوتی ہے،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت،تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کی اجازت شامل ہے۔دوسری جانب اس پابندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی گرفتاری کی خبریں بھی سامنے آئیں۔یہی وجہ تھی کہ مصنوعی روشنیوں میں موٹر سائیکل چلانا سیکھنے والی خواتین میں سے کسی نے بھی اس کریک ڈاؤن پر بات نہیں کی۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا