ٹرمپ کی جانب سے کوریا میں فوجی مشقیں روکنے کے بعد پینٹاگون کی اتحادیوں کو تسلی

share with us

واشنگٹن:12؍جون2018(فکروخبر/ذرائع)کم جونگ نے امریکی صدر کی واشنگٹن آنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جزیرہ نما کوریا میں فوجی مشقیں منسوخ کرنے کے بعد پینٹاگون نے اتحادی ممالک کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں پر مضبوطی کیساتھ قائم ہے۔شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اْن سے گزشتہ روز ایک تاریخی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کیساتھ مل کر امریکی فوجی مشقیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اقدام کو شمالی کوریا کی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے جبکہ امریکی اتحادیوں کے لیے یہ بیان حیران کن ہے۔مذاکرات کے بعد منظرِ عام پر آنے والے کم جونگ اْن کے پہلے بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ایک دوسرے کیخلاف دشمنانہ اقدامات کو فوری روکنا ہوگا۔دوسری جانب شمالی کورین حکام کا کہنا ہے کہ کم جونگ نے امریکی صدر کی واشنگٹن آنے کی دعوت قبول کر لی ہے،شمالی کوریا کے سربراہ نے کم جونگ نے صدر ٹرمپ کو ’مناسب وقت‘ پر پیانگ یانگ مدعو کیا اور صدر ٹرمپ نے بھی کم جونگ کو امریکہ آنے کی دعوت دی ہے،’دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی دعوت قبول کر لی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن سے ان کی بات چیت ’ایماندارانہ، لگی لپٹی رکھے بغیر اور تعمیری‘ رہی ہے۔سنگاپور میں منگل کو اس تاریخی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ جنوبی کوریا کیساتھ اپنی ’وار گیمز‘ روک دے گا جبکہ کم جونگ ان نے ایک میزائل تجربے کی سائٹ تباہ کرنے کا وعدہ کیا۔ٹرمپ کم ملاقات سے ایک روز قبل امریکہ کے سیکریٹری دفاع جم میٹس نے میڈیا نمائندگان کو بتایا تھا کہ اْن کے خیال میں فوجیوں پر بات چیت ایجنڈا میں شامل نہیں ہے۔میں جانتا ہوں کہ اگرچہ پینٹاگون نے جم میٹس کے بیان کو مسترد کیا ہے۔ترجمان پنٹاگون ڈانا وائٹ کا کہنا تھا کہ اْن سے پہلے مشورہ کیا گیا تھا۔ہمارے اتحادی ہمارے لیے بہت اہم ہیں اور ہم نے انھیں خطے میں امن و استحکام کی یقین دہائی کروائی ہے۔جنوبی کوریا میں 30 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔سال میں ایک مرتبہ ان کی کورین افواج کیساتھ بڑے پیمانے پر عسکری مشقیں ہوتی ہیں۔کم جونگ سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے مشترکہ عسکری مشقیں ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔عسکری مشقیں جنھیں عموماً ’وار گیمز‘ کہا جاتا ہے،یہ جنوبی کوریا کی افواج اور وہاں موجود امریکی افواج کے مابین ہوتی ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشقیں 'مہنگی' بھی ہیں اور شمالی کوریا کے لیے'اشتعال انگیز' بھی۔پہلے سے طے کی گئی مشقیں مستقبل میں شمالی کوریا کیساتھ مذاکرت تک روک لی گئی ہیں۔‘ایک برس کی لفظی جنگ اور دھمکیوں کے تبادلے کے بعد ہونے والی اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر بھی دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا کہ شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرے گا جبکہ امریکہ اور شمالی کوریا تعلقات کا نیا باب شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔اعلامیے پر دستخط کے بعد امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر عائد پابندیاں اٹھانا چاہتے ہیں تاہم یہ اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک امریکہ تو خطے کے جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے بارے میں اعتماد نہیں ہو جاتا۔اجلاس کے بعد دونوں عالمی رہنماؤں نے ’جامع‘ دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے دو قوموں کے درمیان نئے تعلق کے آغاز کا اعادہ کیا۔بی بی سی کی لارا بکر کا کہنا تھا کہ اس اعلامیے کے مطابق امریکہ اور شمالی کوریا اپنے ملکوں کے عوام کی خوشحالی اور امن کی خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے نئے تعلقات شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔اعلامیے کے مطابق جزیرہ نما کوریا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے امریکہ اور شمالی کوریا مشترکہ جدوجہد کریں گے اور اپریل 2018 کے پنمنجوم اعلامیے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرے گا۔معاہدے کے تحت امریکہ اور شمالی کوریا پرعزم ہیں کہ جنگی قیدیوں اور لڑائی میں لاپتہ ہونے والوں کو تلاش کیا جائیگا اور جن کی شناخت ہو چکی ہے انھیں فورًا ملک واپس بھیجا جائیگا۔

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا