دہلی: کیجریوال کا دھرنا جاری، منیش سسودیا بھوک ہڑتال پر

share with us

نئی دہلی:12؍جون2018(فکروخبر/ذرائع)آج مسلسل تیسرے دن بھی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنے کابیبنی رفقاء کے ساتھ راج نِواس پر شب بسری کی، یہاں وہ گذشتہ پیر کی شام سے ہی جمے ہوئے ہیں۔کیجریوال، نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، کابینی وزیر گوپال رائے اور ستیندر جین لیفٹینینٹ گورنر انل بیجل سے 'افسران کے غیر قانونی ہڑتال' کو ختم کروانے کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ادھر ایل جی اور دہلی کے اعلی افسران نے کسی بھی ہڑتال سے انکار کیا ہے۔فروری کے مہینے میں عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر چیف سکریٹری انشو پرکاش پر حملے کے خلاف افسران نے تحریری طور پر وزیراعلی اور ان کے کابینی رفقار کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے و مل جل کر کام کرنے میں کافی کمی کردی تھی۔راج نِواس کے مہمان خانے میں دو راتیں گزار کر کیجریوال نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں کہا،'مسٹر سسودیا اور مسٹر جین  نے منگل سے غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے'۔وزیر اعلیٰ نے یہ کہتے ہوئے 'اقتدار ان کی سب سے بڑی طاقت تھی'، میں مزید جوڑا کہ احتجاج (جد و جہد) جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ کیجریوال دہلی حکومت کی ڈور ٹو ڈور (دروازے سے دروزے تک) راشن اسکیم کو منظوری دینے اور گزشتہ چار ماہ سے حکومت کے کام کاج کا بائیکاٹ  کرنے والے افسران پر کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جانیں کیا ہیں دہلی حکومت کے 3 مطالبات

افسران خواہ مخواہ کے اس ہڑتال کو ختم کریں۔

 کام روکنے والے افسران پر کاروائی ہو۔

 راشن کی ڈور ٹو ڈور اسکیم کو منظوری دی جائے۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ کیجریوال نے سوموار کو اسمبلی میں کہا تھا کہ اگر بی جے پی دہلی کو پوری طرح سے آزاد ریاست کا درجہ دے دے تو وہ 2019 میں بی جے پی کے لیے تشہیر کریں گے۔ دہلی کا ایک ایک ووٹ بی جے پی کو حاصل ہوگا، لیکن اس کے لیے بی جے پی کو ان کی شرط تسلیم کرنی ہوگی۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا