اسرائیلی مجسٹریٹ عدالت نے عید کے روز کفرقاسم میں فلسطینیوں کے گھرمسمار کرنے کا حکم دیدیا

share with us

رام اللہ:12؍جون2018(فکروخبر/ذرائع)اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے سنہ 1948 کے مقبوضہ فلسطینی علاقے کفرقاسم میں فلسطینی شہریوں کے چار مکانات عید کے روز مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجسٹریٹ عدالت نے کفر قاسم میں الجملہ کے مقام پر فلسطینیوں کے چار گھر مسمار کرنے اور ان میں بسنے والے فلسطینی شہریوں کو 15جون کو بے گھر کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔صہیونی عدالت کے فیصلے پر فلسطینی عوام میں سخت مایوسی اور غم وغصہ پایا جا رہاہے۔گذشتہ روزبیتح تکفا نامی یہودی کالونی میں قائم اسرائیل کی مجسٹریٹ عدالت نے چار گھروں کو ماہ صیام کے بعد مسمار کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اگر انتظامیہ تیار ہو تو وہ پندرہ جون مذکورہ مکانات کو مسمار کردے۔ اسرائیلی پولیس ان مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں مسمار کرنے کے مقدمات قائم کرچکی ہے۔خیال رہے کہ کفر قاسم سنہ 1948کے دوران صہیونی ریاست کے تسلط میں آنے والا شہر ہے۔ یہ شہر غرب اردن کے نابلس شہر سے 48 کلو میٹر دور ہے۔ سنہ 1956 کو مصرسے آنے والے 49 فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ یہ شہر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں وحشیانہ قتل عام کے حوالے سے مشہور ہے۔

 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا