جھارکھنڈ: نماز کے بعد گھر لوٹنے کے دوران مسلم شخص ہجومی تشدد کا شکار

share with us

رانچی :12؍جون2018(فکروخبر/ذرائع)رانچی کے سٹی پولیس تھانہ علاقے میں اظہرالاسلام جب اتوار کی رات نماز ادا کرکے لوٹ رہے تھے کہ شرپسندوں نے انہیں نشانہ بنایا اور ان کی جم کر پٹائی کی۔رانچی کے سٹی پولیس تھانہ علاقے میں اظہرالاسلام جب اتوار کی رات نماز ادا کرکے لوٹ رہے تھے کہ شرپسندوں کے ایک نامعلوم گروہ نے انہیں منصوبہ بند طریقے سے زدو کوب کیا۔متاثر شخص کے ساتھیوں نے ایک ایف آر درج کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر تقریبا ایک درجن افراد پر مشتمل لاٹھی اور لوہے کی راڈ سے لیس شر پسندوں نے ان سے ہندو دیوتاؤں کے نام پوچھے اور ان کی پٹائی کی۔ایک ایف آر میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر تقریبا ایک درجن افراد جو کہ لاٹھی اور لوہے کی راڈ سے لیس تھے نے ان سے ہندو دیوتاؤں کے نام پوچھے، انکار کرنے پر مارا، پیٹا۔پولیس کے مطابق انہوں نے نا معلوم افراد کے خلاف اٹیمپٹ ٹو مرڈر (جان سے مارنے کی کوشش) کا مقدمہ درج کر لیا ہے، لیکن ابھی تک الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ایف آئی آر کے مطابق دھروا، نئی سرائے کے رہنے والے اظہر الاسلام جن کی عمر 50 برس کے قریب ہے، ضلع کے اڈگو گاؤں میں نماز ادا کرنے گئے تھے۔ جب وہ اور ان کے ساتھی عمران دیر رات موٹر سائیکل سے واپس ہو رہے تھے تو مبینہ طور پر حملہ آوروں نے دلدلی چوک کے پاس ان دونوں کو روک لیا۔ بات چیت میں انہوں نے ہندو دیوتاؤں کے نام پوچھے۔ شکایت کے مطابق انہوں نے اظہرالاسلام کو مارا پیٹا۔ عمران نے بھاگ کر پولیس سے رابطہ کیا۔آفیسر انچارج (ناگری) رام نارائن سنگھ نے کہا،'شکایت (ایف آئی آر) کے مطابق شر پسند گروپ نے اظہر سے ہندو دیوی دیوتاؤں کا جے جے کار کرنے اور ان کے حق میں نعرہ لگانے کا مطالبہ کیا۔ بات چیت نے جھگڑے کی شکل اختیار کرلی جس کے بعد ان لوگوں نے اظہر کی جم کرپٹائی کردی۔ زخمی شخص (اظہر الاسلام) کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ فی الحال وہ خطرے سے باہر ہیں'۔انہوں نے مزید کہا کہ اٹیمپٹ ٹو مرڈر کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ مظلوم شخص کو ایک خاص (دیوتا) بھگوان کے نعرہ لگانے کے مطالبہ کے بعد زدو کوب کیا۔ڈی ایس پی (ہیڈ کوارٹر) وجے کمار سنگھ نے کہا،' ہم مشکوک افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں'۔  

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا