گرانی مار غریب عوام پر

share with us

عارف عزیز(بھوپال)

 نیوٹن کا نظریہ ہے کہ جوشئے اوپر جاتی ہے اس کا زمین کی کشش سے نیچے گرنا ضروری ہے لیکن ’’گرانی‘‘ اور ’’غیر محسوب دولت‘‘ کی حد تک یہ نظریہ درست ثابت نہیں ہوا ہے کیونکہ آزادی کے بعد سے آج ۷۱ سال ہوگئے ہیں، اس مدت میں سوائے مختصر سے درمیانی عرصہ کے جب رفیع احمد قدوائی مرحوم ہندوستان کے وزیر غذا تھے، قیمتوں میں جب بھی اضافہ ہوا، وہ اوپر اٹھیں تو نیچے نہیں گریں، اسی طرح سیاہ دولت کی قومی معیشت پر گرفت اتنی مضبوط ہوگئی ہے کہ اس نے ’’متوازی معیشت ‘‘ کی شکل اختیار کرلی ہے۔
قیمتوں میں اس اضافہ سے جو طبقہ سب سے زیادہ مصیبت کا شکار ہے وہ نچلا متوسط طبقہ ہے ، جس کی آمدنی کے مقابلہ میں اشیائے صرف کی قیمتیں ہر ماہ بڑھ رہی ہیں، اسی طرح یومیہ اجرت پانے والے اور غریبوں کو بھی سخت دشواری کا سامنا ہے لیکن مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ذرا احساس نہیں، انہیں اگر عوام کے دکھ درد کا احساس ہے تو وہ قیمتوں میں اضافہ کے ہر اقدام کی حوصلہ شکنی کیوں نہیں کرتیں، انہیں سمجھنا چاہئے کہ گرانی کی روک تھام ایک قومی اور فلاحی معاملہ ہے، جس کو سیاست کی بازیگری سے حل نہیں کیا جاسکتا۔
آج ضرورت اس کی ہے کہ تین محاذوں پر گرانی کا مقابلہ کیا جائے اول ضروری اشیاء کی پیداوار کو بڑھایا جائے، دوم تقسیم کا نظام درست کیا جائے، سوم روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ عام لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہو کیونکہ اگر قوت خرید کم ہوگی تو گرانی کم ہونے کے باوجود ناقابل برداشت ہوسکتی ہے، جہاں تک زرعی پیداوار کا سوال ہے تو بعض علاقوں میں سوکھے یا سیلاب کے باوجود وہ اتنی کم نہیں ہوئی کہ تشویشناک بن جائے، پھر بھی گراں قیمت پر گیہوں کا فروخت ہونا یہی ظاہر کرتا ہے کہ منافع خوری بڑھ گئی ہے، اس پر قابو پانا حکومت وانتظامیہ کی ذمہ داری ہے ، مرکزی سرکار اپنے گوداموں میں جمع غلہ بازار میں لاکر عوام کو راحت پہونچا سکتی ہے۔یہ دعویٰ کہ عام آدمی کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے کسی حد تک درست ہے لیکن اس اضافہ کی شرح قیمتوں میں اضافہ سے کافی کم ہے، پھر حکومت پیٹرول وڈیزل جیسی اشیاء کی قیمتوں میں راتوں رات اضافہ کردیتی ہے تو اس کا اثر استعمال کی ہر شئے پر مرتب ہوتا ہے، درمیان کا آدمی اس سے فائدہ اٹھاکر قیمتیں بڑھا دیتا ہے اور اس کی ساری زد غریبوں پر پڑتی ہے۔ ان کو لوٹنے والوں پر نگرانی کا آخر کوئی تو انتظام ہونا چاہئے۔ جو لوگ اعلیٰ عہدوں اور اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر اعداد وشمار کی بازیگری کرتے ہیں یعنی انتظامیہ کے کل پرزے ہیں وہ غریبوں کی مشکلات کا صحیح اندازہ نہیں لگاسکتے۔ عوامی نمائندوں بالخصوص حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز وزراء کو اس کی فکر ہونی چاہئے، پچھلی یوپی اے کی حکومت نے عام آدمی کے مسائل کو اہمیت نہیں اس لئے وہ برسراقتدار نہیں آسکی، موجودہ این ڈی اے حکومت کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے عوام الناس کی یومیہ زندگی پر جو منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس کارگر لحاظ نہیں رکھا گیا تو آنے والے الیکشن میں این ڈی اے سے وابستہ پارٹیوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہئے-

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں ۔ 
12؍ جون 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا