Prayer Timings

Fajr 03:46 فجر
Dhuhr 12:58 الظهر
Asr 16:59 عصر
Maghrib 20:31 مغرب
Isha 22:11 عشا

حضرت مولانا محمد غزالی ندوی کے سانحۂ ارتحال پر جمعہ مسجد بلال بھٹکل میں تعزیتی اجلاس 

share with us

بھٹکل 09؍ جون 2018(فکروخبر نیوز) مرکز نظام الدین دہلی میں 45 سالوں سے اپنی خدمات انجام دے رہی بھٹکل کی معروف شخصیت حضرت مولانا محمد غزالی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر جمعہ مسجد بلال میں آج بعدِ نمازِ ظہر تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے علماء کرام کے ساتھ ساتھ مرکز نظام الدین سے تشریف لانے والے ذمہ داران نے بھی مرحوم علیہ الرحمۃ کے محاسن کا تذکرہ کرتے ہوئے اس طرح کے اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی طرف ترغیب دلائی۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی نجی زندگی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے مولانا کے فرزند اور استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو مولانا ابوبکر صدیق خطیبی ندوی نے کہا کہ مرحوم نے اپنی زندگی کے مقاصد کوسامنے رکھ کر زندگی گذاری ۔ ان کی زندگی بالکل آئینہ کی طرح صاف تھی ۔ آپ ان کی تعلیمی زندگی کو دیکھئے یا پھر اس کے بعد کی زندگی ، جنہوں نے بھی ان کی زندگی دیکھی ہے وہ خود ان کے صلاح وتقویٰ کی گواہی دئیے بغیر دنہیں رہے گا۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ جو بھی ان سے ملتا وہ مانوس ہوجاتا یہاں تک جن بزرگان سے ان کو تعلق تھا وہ بھی ان کی تعریف کیے بناء نہیں رہ سکے۔ مولانا نے مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے کئی واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مولانا موصوف بھی ان کو بہت چاہتے تھے اور ان کو اپنے گھر کا فرد قرار دیتے تھے۔ مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ لکھنو میں مولانا غزالی صاحب کے تذکرہ آنے پر یہاں تک کہا کہ وہ مرکز میں ہمارے نمائندے ہیں۔ان کے ساتھ ساتھ مولانا انعام الحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے معتمد علیہ تھے۔ مولانا کے خطوط وغیرہ والد ماجد ہی تحریر فرماتے تھے۔ بزرگانِ دین سے ان کے تعلق کا اظہار کے لیے یہی کافی ہے ان کے انتقال پرملک کی نامور اور چنیدہ شخصیات نے فون کرکے تعزیت کااظہار کیا۔مولانا ابوبکر صدیق ندوی نے مزید کہا کہ والد ماجد قرآن مجیدکے بعد  اگر کسی  کتاب کا مطالعہ کرتے تو وہ قصص الانبیاء تھی ، انبیاء کی زندگیوں کا مطالعہ سے وہ ان کی صفات اپنے اندر داخل کرنے کی کوشش بھی کرتے ، اسی طرح  صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ بھی ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ بچوں کی تربیت میں انہوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ سال میں ایک مہینہ گھر پر ان کا قیام رہتا لیکن وہ ایک مہینہ میں بچوں کی اس طرح تربیت کرتے کہ سال بھر اس کے نقوش باقی رہتے۔ نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالعظیم قاضیا ندوی نے ان کی زندگی کے چند اہم کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے پڑھائی کے دور کی کئی یادیں حاضرین کے سامنے رکھتے ہوئے ان کی طرح بننے کا داعیہ ہمارے اندر پیدا کرنے کی ترغیب دلائی۔ رفیق فکروخبر مولانا عبدالنور فکردے ندوی نے کہا کہ یوں تو ان کی زندگیوں کے کارنامے بہت سے ہیں لیکن آخر دور میں جب تبلیغی جماعت میں کچھ انتشار پیدا ہوا مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے اس انتشار سے اپنے آپ کو بالکل الگ رکھا۔ یہ ان کے آخری درجہ کا تواضع تھا۔ ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملتے ،اس طرح وہ اپنی پوری زندگی میں لایعنی باتوں سے پرہیز کرتے رہے۔ ہمیشہ اپنے اوقات کو کارآمد بنانے کی فکر میں رہتے  اور اسی فکر کے نتیجہ میں ان کے اوقات میں برکت ہوتی۔ مولانا جیلانی ندوی نے بھی اپنے خیالات کے اظہار کے دوران کہا کہ مولانا عفو درگذر سے کام لیتے تھے۔ کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا البتہ دینی معاملات سامنے ہوتے ہیں تو بڑے سخت ہوتے او رکسی ملامت کرنے والے کی  ملامت کی پرواہ کیے بغیر وہ اس میں آگے بڑھتے۔آخر میں اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے پہنچنے والے تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں نے بھی مرحوم کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔دعائیہ کلمات پر یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔ 

متعلقہ مضامین

Prayer Timings

Fajr 03:46 فجر
Dhuhr 12:58 الظهر
Asr 16:59 عصر
Maghrib 20:31 مغرب
Isha 22:11 عشا