Prayer Timings

Fajr 03:19 فجر
Dhuhr 12:58 الظهر
Asr 16:59 عصر
Maghrib 20:31 مغرب
Isha 22:28 عشا

داعی الی اللہ حضرت مولانا محمد غزالی خطیبی ندوی رحمۃ اللہ علیہ

share with us

بقلم : سید ہاشم نظام ندوی

 (فكر وخبر بھٹكل)

كارواں سے كیسے كیسے لوگ رخصت ہو گئے  

 كچھ فرشتے چل رہے تھے جیسے انسانوں كے ساتھ

رمضان كا با بركت مہینہ، اس كا بھی آخری عشرہ ، آخری عشرہ كی بھی طاق رات،اوررات بھی جمعہ كی، جس میں  لیلۃ القدر كے زیادہ امكانات ،  ایسے با بركت مہینے كے با بركت دن كے با بركت وقت میں اپنی صحت كی ناسازی كی طرف اشارہ كرتے ہوئے اللہ كے ولی اور دین كے داعی حضرت مولانا محمدغزالی خطیبیندوی اپنی زبان سے توحید كا اقرار كرتے، اپنی گناہوں سےمعافی مانگتے ، گھر والوں سے بھی معافی كی درخواست كرتے  ہوئے اس جہانِ فانی سے چل  بسے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

زندگی تو مثالی تھی سبحان اللہ موت بھی مثالی پائی ۔ انتقال كی خبر سنی،  اعتبار اور عدم اعتبار کی کیفیت میں اپنے دوست اور مولانا كے فرزند مولانا ابو بكر صدیق سے رابطہ كیا ، تو لہجہ کی لرزش اور غم کی آمیزش سے خبر كی تصدیق ہوگئی، بھر مولانا كے برادرِ نسبتی مولانا محمد یونس برماور ندوی سے تعزیت کی انھوں نے ان کی آخری كیفیات اور موت كے استقبال كی خوشی اور فرحت کے منظر کا ذکر کیا ، اسی كے ساتھ دبی میں موجود آپ كے بڑے داماد مولانا محمد بن عبد الوہاب خلیفہ ندوی سے تعزیت كی ۔ سبحان اللہ ، كیا قابلِ رشك موت تھی ؟ ،  مہینہ و دن اور وقت كی بركتوں كے ساتھ ساتھ عجیب وغریب سعادتیں ، بركتیں اور رحمتیں پائیں ۔ آپ نے  رات ہوتے ہی اپنے  بچوں ، پوتے پوتیوں اور گھر والوں  كو جمع فرمایا، آج کے رات كی خیر وبركت اور اہمیت بتائی ، اس کے ایك ایك لمحہ کو غنیمت جاننے كی تلقین فرمائی، سب كو ذكر ودعا میں مشغول رہنے كی وصیت كی، خود بھی تسبیح ہاتھ میں لئے ذكر میں مشغول رہے، رات گھر والوں كے ساتھ عبادت میں گزاری، ذكر وتلاوت میں بسر کی ، سحری كا وقت ہوا تو اہلیہ محترمہ نے سحری لانے كا اظہار كیا، كہنے لگےاب  سحری كیا كھائیں ؟، اب تو اللہ کا بلاوا ہے ، فرشتوں كا نظارہ ہے ، اور موت كا استقبال کر رہا ہوں ، یہ میری زندگی كا آخری وقت ہے، سب مجھے معاف كریں، پھر جیسے ہی فجر كی اذان ہوئی تو پانی طلب کیا كہ جلدی سے وضو كر كے دو ركعت نماز پڑھ لوں، اہلیہ محترمہ ابھی پانی لا ہی رہی تھی كہ اللہم اغفرلی ، اللہم اغفرلی كا ورد زبان پر جاری ركھتے كلمہ طیبہ كا اقرار كرتے ہوئے  اذان فجر كے ساتھ ساتھ آپ  کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ، اور ایك مثالی زندگی نے مثالی موت بھی پائی ۔

آپ كی پیدائش شہر بھٹكل  میں سنہ۱۹۴۴ عیسوی كو ہوئی،  آپ كے والد مولانا ابو بكر خطیبی شہركے چیف قاضی تھے، ابتدائی قرآنی تعلیم گھر ہی میں پائی ، تربیت دینی اور ایمانی ہوئی ، ابتدائی تعلیم اسلامیہ اینگلو ہائی اسكول میں ہوئی، یہاں سے میٹرك تك تعلیم حاصل كرنے كے بعد جامعہ اسلامیہ میں داخلہ لیا، جامعہ سے فراغت كے بعد مشہور عالمی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء سے ۱۹۶۷ میں سندِ عالمیت حاصل كی ، فراغت كے بعد كا كچھ عرصہ اپنے مادرِ علمی میں تدریسی خدمات انجام دے كر گزارا ، آپ كی زندگی كا مختصر عرصہ مدراس میں بھی گزرا جہاں پر آپ نے مولانا كمپنی میں ملازمت اختیار كی، جس كے بعد آپ نے اپنے آپ كو دعوت وتبلیغ كی محنت كے وقف كیا، اور اسی كو اپنی زندگی كا حقیقی مقصد بنایا، پھر بنگلہ والی مسجد دہلی مركز نظام الدین میں دعوتی میدان میں اپنی زندگی كومستقل  وقف فرمایا۔

مولانا علیہ الرحمہ كی شخصیت حسن و خوبی کے رنگارنگ پھولوں کا حسین گلدستہ تھی، علم وعمل،اخلاص وللہیت، بزرگوں سے نسبت،  فقاہت ونجابت اورحق گوئی و راست بازی، آپ كے اوصافِ حمیدہ تھے ،جس میں بہت  نمایاں وصف حسن عمل، تبلیغ ودعوت  اور جہد مسلسل تھا۔  آپ دیكھنے میں ایك عام انسان نظرآتے  لیکن عادات اور صفات میں  ملكوتی خصوصیات پائی جاتی تھیں۔ آپ صلاح وتقوی كی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ اس لیے كہ آپ انسانی بلندی کے تمام معیاروں پر پورا اترتے، اخلاص و بے نفسی اور بے غرضی ان کی زندگی کا جوہر اور ان کے تمام اعمال و مساعی کا محرک تھا۔ مزاج میں اعتدال  تھا، طبیعت میں شرافت تھی، چہرہ ہنس مکھ تھا، تصنع و بناوٹ سے کوسوں دور تھے ، سب كو چاہتے ، سب سے محبت فرماتے، ملاقاتیوں سے میٹھے بول بولتے،  ظاہر و باطن میں یكسانیت ركھتے، آپ كے بیانات انتہائی مؤثر ہوتے ، سامعین كے دلوں تك رسائی كرتے،  گفتگو مربوط فرماتے، بولتے  تو گویا موتی رولتے ۔

تواضع و انكساری اور شہرت پسندی سے اجتناب ایسی عظیم صفات ہیں جو انسان كو عند اللہ اور عند الناس مقبول بنا دیتے ہیں، آپ ہمیشہ اس وصف سے متصف رہے،آپ كی شخصیت كا یہ كمال تھا كہ كبھی كسی نے آپ سے اختلاف نہیں كیا،قدرت نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا ، بے حد محنتی تھے ۔ مخلص داعی تھے، عظیم مربی تھے، جذبہ صادق کے ساتھ دین کی خدمت اور اصلاحی دعوت کے لیے زندگی بھر کوشاں رہے۔ آپ نے ہمیشہ اعلائے کلمہ اللہ کے لیے كام كیا، دعوت وتبلیغ كے لیے ملك و بیرون ملک كے  متعدد اسفار كئے ۔

 آپ كے سات بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، ماشاء اللہ ساتوں عالم دین ہیں اور ان میں سے چھ عالمِ دین ہونے كے ساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی، ساتھ ہی یہ شرف كہ دونوں بیٹیاں بھی حافظِ قرآن ہیں اور مزید زہے نصیب یہ آپ كے دونوں داماد بھی حافظ قرآن  ہیں ۔ دعا ہے كہ اللہ تعالی غریقِ رحمت کرے ، بال بال مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پسماندگان كو صبر جمیل عطا فرمائے ۔


08؍ جون 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

متعلقہ مضامین

Prayer Timings

Fajr 03:19 فجر
Dhuhr 12:58 الظهر
Asr 16:59 عصر
Maghrib 20:31 مغرب
Isha 22:28 عشا