شبِ قدر: ایک عظیم رات

share with us

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

اللہ عزوجل نے امت محمدیہ پر جو خصوصی نوازشات اور انعامات فرمائے ہیں، ان میں سے ایک شب قدر بھی ہے، یہ بابرکت اور بے شمار خیر وخوبیوں سے معمور رات صرف امت ِ محمدیہ ہی کو عطا ہوئی ہے، اس رات کی اہمیت اور قدر کو بتلانے کے لئے یہ بتلادینا کافی ہے کہ اللہ عزوجل اس رات کے فضائل وبرکات اور انوارات کو بیان کر نے کے لئے ایک مستقل سورۃ سورۃ القدر کے نام سے اپنی کتاب خالد میں نازل کی ہے، جس میں اللہ عزوجل نے اس رات کے خصائص کا خود تذکرہ فرمایا ہے۔
لیلۃ القدر کیوں عطا ہوئی؟
امت محمدیہ کو شب قدر کا یہ بیش بہا انعام عطا کئے جانے کا سبب کیا ہوا ؟ روایات سے اس کی مختلف وجوہ معلوم ہوتے ہیں :موطا مالک میں روایت ہے کہ حضور اکرم اکو پہلی امتوں کی عمروں کا علم ہوا کہ بہت لمبی ہوئیں اور اس کے مقابلہ میں میری امت کی عمریں بہت کم ہوئی ہیں، جس کی بناء پر میری امت کے لوگ پہلی امت کے ساتھ اعمال میں مساوی نہیں ہوسکتے، اس بات سے حضور اکرم ا کو صدمہ ہوا تو حق تعالی نے آپ کو شب قدر عطافرمائی کہ اس ایک شب کی عبادت اور احیاء ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے (تفسیر قربی)حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ا نے صحابہ کرام کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مسلسل ایک ہزار ماہ تک ہتھیار بند رہا اور جہاد کرتا رہا، صحابہ کو یہ سن کر اس شخص پر بڑا رشک آیا، حق تعالیٰ نے اس کے عوض ان حضرات کو شب قدر عطاء فرمائی، اور سورۂ قدر نازل ہوئی (تفسیر قرطبی )اور ایک روایت میں ہے کہ علی بن عروہ فرماتے ہیں کہ : حضور اکرم ا نے ایک روز بنی اسرائیل کے چار حضرات یعنی حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل اور حضرت یوشبع بن نون علیہم السلام کا ذکر فرمایا جو اسی اسی سال تک حق تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہے اور پل جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی، اس پر صحابہ کو تعجب ہوا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سورۃ القدر لے کر نازل ہوئے اور حضور اکرم ا سے فرمایا کہ : آپ کی امت ان حضرات کی اسی سال کی عبادت پر تعجب کرتی ہے، اللہ نے ایک شب آپ کو ایسی عطا فرمائی ہے کہ اس میں عبادت کرنا اسی سال کی عبادت کرنے سے بہتر ہے (روح المعانی : ۳۰؍۱۹۲)بعض روایات میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مدت حکومت پانچ سو مہینے تھی او رذوالقرنین کی مدت سلطنت بھی پانچ سوما ہ تھی، اللہ عزوجل نے اس امت کو لیلۃ القدر عطا کی کہ اس شب کی عبادت کا اجر وثواب ان دونوں بادشاہوں کی مجموعی مدت سلطنت یعنی ایک ہزار ماہ کی حکومت سے بہتر ہے۔
قرآن میں شب قدر کا ذکر:
اس امت کو شب قدر بخشے جانے کی وجہ اور اصل سبب کچھ بھی ہو ؛ لیکن یہ وہ عطا اور بخش کی رات ہے جس سے پچھلی امتیں محروم تھی، اللہ عزوجل اس رات میں اہمیت کو بتلانے کے لئے ایک مستقل سورت نازل فرمائی، ارشاد باری عزوجل ہے : ہم نے اس کو کتاب کو اتارا شب قدر میں اور تم کو معلوم ہے شب قدر کیا چیز ہے ؟ ہزار مہنیے سے بہتر ہے، اس میں فرشتے اور روح الأمین اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں، اور یہ رات صبح ہونے تک امن وسلامتی کی باعث ہے اللہ عزوجل نے اس رات کی عظمت کو بتانے کے لئے پہلے بیان بعد الابہام کا اسلوب اختیار فرمایا کہ پہلے مبہم طور پر بیان کرنے کے بعد پھر خود سے اس رات کی جلالت وعظمت کو تفصیلا بیان فرمایا کہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے امام قرطبی کے مطابق اس شب میں عبادت ان ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر شامل نہ ہو (قرطبی)اس شب کی فضیلت کو بتلانے کے لئے اتناہی کافی تھاکہ اس کو ہزار ماہ سے افضل اور بہتر قرار دیا گیا ؛ لیکن اس کی مزید عظمت کو بیان کرنے کے لئے فرمایااس میں فرشتے اورروح الامین اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں امام قرطبی کے بیان کے مطابق :اس شب میں ہر آسمان سے حتی کہ سدرۃ المنتہی سے بھی فرشتے نازل ہوتے ہیں اور لوگوں کی دعا پر آمین کہتے ہیں (قرطبی)شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ : اس شب میں ملائکۃ کو زمین پر نازل کر کے بنی آدم کی عبادت، انابت الی اللہ اور تسبیح اور تہلیل کا نقشہ دکھلانا مقصود ہوتا ہے ؛ تاکہ بنی آدم کے بارے میں فساد اورخون مچانے والی مخلوق کہہ ان کی پیدائش اور خلقت کے تعلق سے جو شبہات اور اندیشے ظاہر کئے اس کا مشاہداتی جواب ان کو مل جائے ۔اللہ عزول نے اس رات کی ایک صفت سلام بیان فرمائی ہے حضر ت نافع رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ : شب قدر پوری ہی سلامتی اور خیر والی ہے، اس میں کوئی شر نہیں امام شعبی فرماتے ہیں کہ : سلام کے معنی یہ ہیں کہ اس شب میں غروب شمس سے طلوع فجر تک ملائکہ مومنین کے لئے سلامتی کی دعاء کرتے ہیں اورہر مومن کو السلام علیکم أیھا المومن کہتے ہیں ۔ملائکہ کے اس نزول وصعود اور مومنین کے لئے دعا واستغفار کا سلسلہ صبح صادق تک جاری رہتا ہے۔ (قرطبی)
لیلۃ القدر کی وجہ تسمیہ:
لیلۃ القدر کو لیلۃ القدر کیوں کہا جاتا ہے؟قدر کے ایک معنی عظمت و شرف کے ہیں۔ زہری و غیرہ حضرات علمانے اس جگہ یہی معنی لئے ہیں اور اس رات کو لیلتہ القدر کہنے کی وجہ سے اس رات کی عظمت و شرف ہے۔ اور ابوبکر وراق نے فرمایا: س رات کو لیلتہ القدر اس وجہ سے کہا گیا کہ جس آدمی کی اس سے پہلے اپنی بے عملی کے سبب کوئی قدر و قیمت نہ تھی اس رات میں توبہ و استغفار اور عبادت کے ذریعہ وہ صاحب قدر و شرف بن جاتا ہے۔قدر کے دوسرے معنی تقدیر و حکم کے بھی آتے ہیں، اس معنے کے اعتبار سے لیلتہ القدر کہنے کی وجہ یہ ہو گی کہ اس رات میں تمام مخلوقات کے لئے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال میں رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنیوالا ہے وہ ان فرشتوں کے حوالہ کر دیا جاتا ہے جو کائنات کی تدبیر اور تنقید امور کے لئے مامور ہیں، اس میں ہر انسان کی عمر اور موت اور رزق اور بارش وغیرہ کی مقداریں مقررہ فرشتوں کو لکھوا دی جاتی ہیں یہاں تک کہ جس شخص کو اس سال میں حج نصیب ہو گا وہ بھی لکھدیا جاتاہے(قرطبی:۲۰؍۱۳۰)پھر پندرھویں شعبان کے متعلق جو تذکرہ آتا ہے کہ امور تقدیر کے فیصلے اس رات میں لکھے جاتے ہیں وہ اس طور پر کہ امور تقدیر کے اجمالی فیصلے تو شب برات میں ہوجاتے ہیں، پھر ان کی تفصیلات لیلۃ القدر میں لکھی جاتی ہیں۔
لیلۃ القدر کونسی رات میں ہوتی ہے؟
اتنی بات تو قرآن کریم کی تصریحات سے ثابت ہے کہ شب قدر ماہ رمضان المبارک میں آتی ہے مگر تاریخ کے تعین میں علماکے مختلف اقوال ہیں جو چالیس تک پہنچتے ہیں مگر تفسیر مظہری میں ہے کہ ان سب اقوال میں تاریخ کے تعین میں علماء کے مختلف اقوال ہیں جو چالیس تک پہنچتے ہیں مگر تفسیر مظہری میں ہے کہ ان سب اقوال میں صحیح یہ ہے کہ لیلتہ القدر رمضان مبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے مگر آخری عشرہ کی کوئی خاص تاریخ متعین نہیں بلکہ ان میں سے کسی بھی رات میں ہو سکتی ہے وہ ہر رمضان میں بدلتی بھی رہتی ہے اور ان دس میں سے خاص طاق راتیں یعنی 29,27,25,23,21میں ازروئے احادیث صحیحہ زیادہ احتمال ہے۔ اس قول میں تمام احادیث جو تعیین شب قدر کے متعلق آئی ہیں جمع ہو جاتی ہیں جن میں 29,27,25,23,21راتوں میں شب قدر ہونے کا ذکر آیا ہے۔ اگر شب قدر کو ان راتوں میں دائر اور ہر رمضان میں منتقل ہونے والا قرار دیا جائے تو یہ سب روایات حدیث اپنی اپنی جگہ درست اور ثابت ہو جاتی ہیں کسی میں تاویل کی ضرورت نہیں رہتی، اسی لئے اکثر ائمہ فقہانے اس کو عشرہ اخیرہ میں منتقل ہونے والی رات قرار دیا ہے:(ابن کثیر)لیکن تمام اقوال میں راجح قول جمہور علماء کا ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے جیسا کہ مسلم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :ابی بن کعب رضی اللہ عنہ حضور اکرم ا سے نقل فرماتے ہیں کہ : لیلۃ القدر ستائیسویں رات میں ہے اور ایک روایت میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قسم کھاکر فرماتے ہیں کہ : خدا وحدہ لا شریک لہ کی قسم لیلۃ القدر جس میں قیام کرنے کے لئے حضور اکرم ا نے ہمیں حکم دیا میں خوب جانتا ہوں کہ وہ رمضان کی ستائسویں شب ہے۔ ان کے علاوہ حضرت ابن عباس، ابن عمر اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی جیسا کہ ابن کثیر نے نقل کیا ہے حضور اکرم ا سے نقل کرتے ہیں کہ کہ وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے۔
لیلتہ القدر کے بعض فضائل:
صحیح بخاری میں حضرت صدیقہ عائشہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحروالیلۃ القدر فی العشر الاواخر من رمضان یعنی شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فاطلبوھا فی الوتر منھا یعنی شب قدر کو رمضان کے عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں طلب کرو۔(مظہری)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا : جو شخص شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہوا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں (بخاری، مسلم)اس رات کی سب سے بڑی فضیلت تو وہی ہے جو اس سورت میں بیان ہوئی ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں یعنی تراسی 83سال سے زائد کی عبادت سے بھی بہتر ہے پھر بہتر ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں، کتنی بہتر ہے کہ دوگنی چوگنی دس گنی سوگنی وغیرہ سبھی احتمالات ہیں۔ اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: شب قدر میں وہ تمام فرشتے جن کا مقام سدر المنتہی پر ہے جبرئیل امین کیساتھ دنیا میں اترتے ہیں اور کوئی مومن مرد یا عورت ایسی نہیں جس کو وہ سلام نہ کرتے ہوں بجز اس آدمی کے جو شراب پیتا یا خنزیر کا گوشت کھاتا ہو۔اور ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: جو شخص شب قدر کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ بالکل ہی محروم بدنصیب ہے۔
شب قدر کے اعمال:
شب قدر اللہ عزوجل کی ایک عظیم نعمت ہے کہ اس کا پالینا اور اس میں ذکر وعبادت میں مشغول رہنا سعادت عظمی اور فلاح دارین کا باعث ہے، جو خوش قسمت اس شب کو پائے اسے چاہے کہ اس میں اس دعا کا زیادہ اہتمام کرے جوحضرت عائشہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ: اگر میں شب قدر کو پاؤں تو کیا دعاکروں آپ نے فرمایا کہ: یہ دعا کرو اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یا اللہ آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اور معافی کو پسند کرتے ہیں۔ میری خطائیں معاف فرمایئے۔(قرطبی)
کم ازکم اگرکسی کو اس شب میں پوری ر ات عبادت وذکر کی ہمت اور توفیق نہ ہوتو جس قدر بھی ممکن ہوسکے اس کے شرف سے محروم نہ رہے اور کم از کم مغرب وعشاء کی نماز باجماعت کا ضرور اہتمام کرے، امام قرطبی نے عبید اللہ بن عامر بن ربیعہ کی روایت نقل کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم انے فرمایا : جس نے شب قدر کی مغرب وعشاء کی نماز باجماعت ادا کی اس نے شب قدر سے اپنا حصہ پالیا مقصد یہ ہے ہر شخص کو اس رات کا کچھ نہ کچھ حصہ مل جائے، اگرچہ تمام شب بیداری کرنے والے کا حصہ اس سے زیادہ اور بہتر ہے ۔ اللہ ہمیں توفیق ارزانی عطا کرے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں۔ 
06؍ جون 2018
ادارہ فکروخبر بھٹکل 

Prayer Timings

Fajr فجر
Dhuhr الظهر
Asr عصر
Maghrib مغرب
Isha عشا